Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

 

 نِیْلَ مِصْر مِنْ عَبْدِ ﷲ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَمَّا بَعْدُ! فَاِنْ کُنْتَ تَجْرِیْ بِنَفْسِکَ فَلَا حَاجَۃَ لَنَا اِلَیْکَ وَاِنْ کُنْتَ تَجْرِیْ بِاﷲ فَانْجَرَّ عَلَی اِسْمِ  ﷲ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے مصر کے دریا نیل کی طرف! اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہمیں   تیری کوئی ضرورت نہیں   اوراگر تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے جاری ہوتا تھا تو پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے جاری ہوجا۔ ‘‘  جب یہ رقعہ دریا میں   ڈالا گیا تو اسی رات دریا جاری ہوگیا اور کئی گز اونچا پانی چڑھ آیا ،  جب کہ ہر سال چھ گز پانی اس میں   آتا تھا۔ ایک روایت میں   یہ بھی ہے کہ جب سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ  اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا خط دریائے نیل میں   ڈالا گیا  ،  اس وقت سے آج تک دریائے نیل مسلسل چل رہا ہے۔([1])

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

چاہیں   تو اِشاروں   سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں   دنیا کی

یہ شان ہے خدمت گاروں   کی ،  سردار کا عالم کیا ہوگا

ناجائز رسم ورواج اور مسلمانوں   کی حالت زار:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں   اس حکایت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ کرامت ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخشکی کے ساتھ ساتھ سمندر پر بھی حاکم تھے وہیں   اس حکایت میں   عبرت کے کئی مدنی پھول بھی ملتے ہیں  ۔ چنانچہ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس حکایت کو ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں  :  ’’ جس طرح اَہلِ مِصر میں   دریائے نیل کو جاری رکھنے کے لئے رسمِ بد جاری تھی اِسی طرح دورِ حاضِر میں   بھی بعض قبیح اور ناجائز رُسومات زور پکڑتی جا رہی ہیں   اور یہ خلافِ شَرع رُسومات مسلمانوں   کوپَستی وبربادی کے عَمیق (یعنی گہرے)گڑھے کی طرف دھکیلتی اور سنّتِ رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دُور کرتی چلی جا رہی ہیں  ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُالمدینہ کی مطبوعہ۱۷۰صفْحات پر مشتمل ایک زبر دست کتاب  ’’ اِسلامی زندَگی  ‘‘   صفحہ ۱۲تا۱۶پرمُفَسّرِشھیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان نے بُری رُسومات اور مسلمانوں   کے بگڑے ہوئے حالات کی جوکچھ کیفیات بیان فرمائی ہیں   اُن کاخُلاصہ کچھ یوں   ہے:  

آج کو ن سا دَر د ر کھنے والا دِل ہے جو مسلمانوں   کی موجودہ پَستی اور اِن کی موجودہ ذِلّت وخواری اور ناداری پر نہ دُکھتا ہو اور کون سی آنکھ ہے جو اِن کی غربت ، مُفلِسی ،  بے روْز گاری پرآنسو نہ بہاتی ہو  ، حُکومت اِن سے چِھنِی ،  دولت سے یہ محروم ہوئے ،  عزَّت ووقار اِن کا ختم ہوچکا ،  زمانہ بھرکی مصیبت کا شکار مسلمان بن رہے ہیں   ،  اِن حالات کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،  مگر دوستو! فقط رونے دھونے سے کام نہیں   چلتا بلکہ ضروری یہ ہے کہ اِس کے عِلاج پر غور کیا جائے۔عِلاج کے لئے چند چیزیں   سوچنی چاہئیں   (۱)اصل بیماری کیا ہے؟(۲) اِس کی وجہ کیا ؟ مرض کیوں  پیدا ہوا ؟ (۳) اِس کا علاج کیا ہے؟(۴) اِس عِلاج میں   پرہیز کیا کیاہے؟ اگر اِن چا ر باتو ں   میں   غور کر لو تو سمجھ لو کہ عِلاج آسان ہے ۔کئی لیڈرانِ قوم اورپیشوایانِ ملک نے اَقوامِ مسلم کے عِلاج کا بیڑا اُٹھایا مگرناکامی ہی ملی اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جس کسی نیک بندے نے مسلمانوں   کو اُن کا صحیح عِلاج بتا یا تو بعض نادان مسلمانوں   نے اُس کا مذاق اُڑایا ،  اُس پرپھبتیاں  کسیں   ،  زبانِ طعن دراز کی ،  غرضیکہ صحیح طبیبو ں   کی آواز پر کان نہ دھرا۔مسلمانوں   کی بادشاہَت گئی ،  عزّت گئی ،  دولت گئی ،  وقار گیا ،  صرف ایک وجہ سے وہ یہ کہ ہم نے شریعتِ مصطفےٰ کی پیروی چھوڑ دی ،  ہماری زندَگی اسلامی زندگی نہ رہی۔اِن تمام نُحوستوں  کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں     نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شرم اور آخِرت کا ڈر نہ رہا ۔ اعلیٰ حضرت ،  مجدِّدِ دین وملّت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں  :  

دن لَہْو میں   کھونا تجھے شب صبْح تک سونا تجھے

شرمِ نبی ،  خوفِ خدا ،  یہ بھی نہیں   وہ بھی نہیں 

مسجد یں   ہماری ویران ،  مسلمانوں   سے سِنیما وتماشے آباد ،  ہر قسم کے عُیُوب مسلمانوں   میں  موجود  ،  ناجائز رسمیں   ہم میں   قائم ہیں   ،  ہم کس طر ح عزّت پا سکتے ہیں   ، جیسے کسی نے کہا ہے :

وائے ناکامی! متاعِ کارواں   جاتا رہا

کارواں   کے دِل سے اِحساسِ زِیاں   جاتا رہا

 تین خطرناک بیماریاں  :

            مسلمانوں   کی اصل بیماری تو اَحکامِ خدا وسنت مصطفےٰ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو چھوڑ نا ہے ،  اب اِس کی وجہ سے اور بہت سی بیماریاں   پیدا ہو گئیں  ۔ مسلمانوں   کی صدہا بیماریاں   تین میں   منحصرہیں  :  اوّل رو زانہ نئے نئے مذہَبو ں   کی پیداوار اور ہر آواز پر مسلمانوں   کا آنکھیں   بند کر کے چل پڑنا۔ دو سرے مسلمانوں   کی آپس کی خانہ جنگیاں   اور مقدمہ بازیاں   اور آپس کی عداوتیں   ۔ تیسرے جاہِل لوگوں   کی گھڑی ہوئی خِلافِ شرع یا فُضول رَسمیں   ،  اِن تین قِسْم کی بیماریوں   نے مسلمانوں   کو تباہ کر ڈالا  ،  بر باد کر دیا  ،  گھر سے بے گھر بنادیا ،  مقرو ض کردیا غرضیکہ ذِلّت کے گڑھے میں   دھکیل دیا۔([2])

مذکورہ بیماریوں   کا علاج:

٭    پہلی بیماری کا علاج یہ ہے کہ ہر بد مذہب کی صحبت سے بچو ،  اُس عالمِ حقّ اور سُنِّیُّ الْمَذھَب شخص کے پاس بیٹھو جس کی صحبتِ فیض اَثر سے سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ



[1]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۰۔

                                                حجۃ اللہ علی العالمین ،  الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء۔۔۔الخ ،  المطلب الثالث فی ذکر جملۃ جمیلۃ۔۔۔الخ ،  ص ۶۱۲ ملخصاً۔

[2]   اسلامی زندگی ،  ص۱۶ ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To