Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہواسے آواز پہنچانے کا کام لے لیا۔ ([1])

٭…اپنے کسی مسلمان بھائی کو مصیبت میں   دیکھ کر اس کی مدد کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت ہےجیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آزمائش میں   دیکھا تو ان کی مدد کرتے ہوئے رہنمائی فرمائی۔

٭…جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ میں   نے اسلامی لشکر کی مدد کے لیے یہ الفاظ ادا کیے تو کسی صحابی نے یہ نہ کہا کہ  ’’ حضور مددگار تو صرف   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی مدد نہیں   کرسکتا۔ ‘‘  اس سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ عقیدہ تھا کہ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے اس کے بندے بھی مدد کرتے ہیں   ۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وضاحت پر کسی صحابی نے یہ بھی نہ کہا کہ  ’’ حضور آپ تو یہاں   ہمارے سامنے موجود ہیں   ،  پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ سینکڑوں   میل دور نہاوند میں   موجود اسلامی لشکر کی مدد فرمائیں  ۔ ‘‘   اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندوں   کو یہ طاقت بھی عطا فرماتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ بیٹھ کر اس جگہ کے احوال سے بھی واقف رہیں   اور سینکڑوں   میل دور کسی اور جگہ کے احوال سے بھی واقف رہیں   بلکہ نہ صرف وہاں   کے حالات سے واقف ہوں   بلکہ ان حالات میں   تبدیلی کی طاقت بھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   عطا فرمائی ہے۔جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں   بیٹھ کر مدینہ منورہ کے حالت سے بھی باخبر تھے نیز اسی وقت آپ سینکڑوں   میل دور نہاوند میں   موجود اسلامی لشکر کے حال سے بھی واقف تھے ،  بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ طاقت سے وہاں   کے حالات بھی تبدیل فرما دیے۔

٭…نہاوند میں   جب امیر لشکر حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز سنی تو انہوں   نے اس پر فوراً عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں   پہلے ہی سے یہ معلوم تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیِّدُنا فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اتنی طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں   بیٹھے بیٹھے یہاں   سینکڑوں   میل دور نہاوند میں   ہماری مدد فرماسکتے ہیں   ،  ورنہ اس آواز کو سن کر اپنا وہم سمجھتے اور اس پر عمل نہ کرتے۔

کس نے ذروں   کو اٹھایا اور صحرا کردیا

کس نے قطروں   کو ملایا اور دریا کردیا

کس کی حکمت نے یتیموں   کو کیا در یتیم

اور غلاموں   کو زمانے بھر کا مولا کردیا

شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم

منہدم کس نے الٰہی قصر کسریٰ کردیا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(4)…فاروقِ اعظم بحرو بر(سمندر اور خشکی)دونوں   پر حاکم :

قدیم دور میں   مصر کی تمام تر پیدا وار کا دارو مداردریائے نیل پرتھا اسی لئےمصر اپنی خوشحالی اور زرخیزی کے لئے ہمیشہ ’’  دریائے نیل ‘‘   کا مرہون منت رہا ہے ۔ جب دریائے نیل سوکھ جاتاتودوبارہ اسے رواں   دواں   کرنے کے لئے کئی صدیوں   سے ایک  ’’ بیہودہ رسم  ‘‘  پر عمل جاری تھا۔رسم یہ تھی کہ ایک حسین و جمیل دوشیزہ کو خوب صور ت لباس اور اعلیٰ زیورات سے آراستہ کرکےدریا کے سپرد کر دیا جاتا اس طر ح دریائے نیل دوبارہ جاری ہوجاتانیز اس رسم کا نام  ’’ عَرُوْسُ النِّیْل  ‘‘   تھا۔امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   جب مصر فتح ہوا تو حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کووہاں   کاگورنر مقرر کیا گیا ،  اہل مصرنے حضرت سیِّدُنا عمر و بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کچھ اس طرح فریا د کی  ’’ حضور !دریائے نیل کی ایک پرانی عادت ہے جس کے بغیر وہ جاری نہیں   ہوتا ‘‘  ۔حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ کونسی رسم ہے ۔ ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ جب اس مہینے کی گیارہ تاریخ آتی ہے تو ہم ایک نوجوان اور کنواری دوشیزہ کے والدین کے پاس جاتے ہیں   اور اس کے والدین کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھانے پرراضی کرتے ہیں   پھر اسے خوب صورت لباس اور قیمتی زیورات سے سجا سنوار کر دریائے نیل کے سپرد کردیتے ہیں   اس طرح یہ دریا دوبارہ جاری ہو جاتا ہے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمر و بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انتہائی نرمی سے انہیں   سمجھاتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اس رسم کو اسلام میں   کبھی پذیرائی نہیں   مل سکتی کیونکہ اسلام تو اس طر ح کی بیہودہ رسومات کاخاتمہ کرتا ہے۔ ‘‘  ابھی چند دن گزرے تھےکہ دریائے نیل کا پانی خشک ہونے لگاجس کے سبب کئی لوگوں   نے مصر چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔جب حضرت سیِّدُنا عمر و بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دیکھا تو فی الفور امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو تمام صورت ِ حال سے آگاہ کرنے کے لئے ایک مکتوب روانہ فرمایا۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا جواب اِرسال فرمایا اور حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا:  ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نقطۂ نظر بالکل درست ہےبلاشبہ اسلام بیہودہ رسومات کا خاتمہ کرتاہے ، میں   نے اس مکتوب کے ساتھ ایک رقعہ بھی روانہ کیا ہےآپ اسے دریائے نیل میں   ڈال دیں  ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس رقعے کو کھولا تو اس میں   یہ مضمون درج تھا:  ’’ اِلٰی

 



[1]   کرامات صحابہ ،  ص۷۶۔



Total Pages: 349

Go To