Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   جنگی ہدایت ارشاد فرمائی:   ’’ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ !پہاڑ کو اپنی آڑ بناکر لڑو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سینکڑوں   میل دُور نہاوند کی سرزمین پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حکم سن لیا اور فوراً  ’’ لَبَّیْک ‘‘   کہتے ہوئے اس پر عمل کیا۔امیر المؤمنین کے حکم پر عمل کرتے ہی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔مجاہدین اسلام کی بہادری اور دلیری دیکھ کر کفار کے قد م اکھڑنے لگےاورمیدان جنگ سے بھاگنے میں   ہی عافیت جانی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی  ’’ دستگیر ی ‘‘   کے سبب لشکر اسلام نے فتح پائی۔([1])

قاصد نے آکر تصدیق کی:

            اس واقعے کے چند دن بعد حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا قاصد آیا اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف سے اس نے ایک ر قعہ پہنچایا جس میں   لکھا تھا:   ’’ جمعہ کے دن ہم نے فلاں   جگہ صبح سے جمعہ کے وقت کفار سے گھمسان کی جنگ لڑی یہاں   تک کہ سورج ڈھلنے لگا تو اچانک ایک آواز آئی:  یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَتو ہم فوراً پہاڑ کے پیچھے ہوگئے اور ہم اپنے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے ،  آخر کار اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   کفار پر فتح عطا فرمائی اور دشمنوں   کو ذلیل وخوار کر دیا۔ ‘‘  ([2])

 حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف کا استفسار:

            جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دوران خطبہ  ’’ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ  ‘‘   کے الفاظ  ارشاد فرمائے تو لوگ بہت حیران ہوئے ،  کیونکہ خطبے میں   تو ایسے الفاظ نہیں   تھے اور نہ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے پہلے کبھی ایسے الفاظ خطبے میں   ارشاد فرمائے تھے۔لہٰذا حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   عرض کی:  ’’ یاا میر المومنین! آج آپ نے دوران خطبہ  ’’ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ  ‘‘  کے الفاظ فرمائے  ، ان کا کیا مطلب تھا؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےانتہائی نرمی سے جواب دیتے ہو ئے ارشاد فرمایا:   ’’ میں   نے دیکھا کہ عراق کے شہر نہاوند میں   ساریہ اور ان کے ساتھی کفار کے نرغے (گھیرے)میں   ہیں   مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور میں   نے اسلامی لشکر کی مدد کے لیے یہ الفاظ کہے۔ ‘‘  ([3])

واہ کیا بات ہے فاروقِ اعظم کی!

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس عالی شان کرامت سےعلم وحکمت کےمدنی پھول چننے کو ملتے ہیں  :

٭…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاورآپ کے سپہ سالار دونوں   صاحب کرامت ہیں   کیونکہ مدینہ منورہ سے سینکڑوں   میل کی دوری پر آواز کو پہنچا دینا یہ امیر المؤمنین کی کرامت ہے اورسینکڑوں   میل کی دوری سے کسی آواز کو سن لینا یہ حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کرامت ہے ۔

٭… جانشینِ رسولِ مقبول ،  گلشنِ صحابیت کے مہکتے پھول ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی برکت سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس جنگ میں   مسلمانوں   کو فتح عطا فرمائی۔([4])

٭… امیرالمؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مدینہ طیبہ سے سینکڑوں   میل کی دوری پر نہاوند کے میدان جنگ اور اس کے احوال وکیفیات کو دیکھ لیا اورپھرمشکلات کا حل بھی منبر پرکھڑے کھڑے لشکر اسلام کے سپہ سالار کو بتا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے کان اورآنکھ اوران کی سمع وبصر کی طاقتوں   کو عام انسانوں   کے کان وآنکھ اوران کی قوتوں   پر ہرگزہرگز قیاس نہیں   کرناچاہیے بلکہ یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب بندوں   کے کان اور آنکھ کو عام انسانوں   سے بہت ہی زیادہ طاقت عطافرمائی ہے اوران کی آنکھوں   ،  کانوں   اوردوسرے اعضاء کی طاقت اس قدر بے مثل اوربے مثال ہے اوران سے ایسے ایسے کارہائے نمایاں   انجام پاتے ہیں   کہ جن کو دیکھ کر کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں   کہا جاسکتا۔کیونکہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں   موجود ہے کہ بندہ جب  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پالیتا ہے تو پھر وہ اپنی ذاتی طاقت سے نہیں   بلکہ رب

عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ مخصوص طاقت سے دیکھتا ،  سنتا ،  چلتا اور پکڑتا ہے ،  اگر وہ رب عَزَّ وَجَلَّ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اسے ضرور عطا کی جاتی ہےاور کسی چیزسے پناہ مانگے تو اسے ضرور پناہ دی جاتی ہے۔([5])

٭…حدیث مذکوربالا سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حکومت ہوا پر بھی تھی اورہوا بھی ان کے کنٹرول میں   تھی اس لئے کہ آوازوں   کو دوسروں   کے کانوں   تک پہنچانادرحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تَمَوُّجْ ہی سے آوازیں   لوگوں   کے کانوں   کے پردوں   سے ٹکراکرسنائی دیا کرتی ہيں   ۔ حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب چاہا اپنے قریب والوں   کو اپنی آواز سنادی اورجب چاہا تو سینکڑوں   میل دور والوں   کو بھی سنا دی  ،  اس لئے کہ ہوا آپ کے زیر فرمان تھی  ،  جہاں   تک آپ نے چاہا



[1]   دلائل النبوۃ ،  باب ما جاء فی اخبار النبی۔۔۔الخ ،  ج۶ ،  ص۳۷۰۔

 مشکاۃ المصابیح ،  کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق ،  الفصل الثالث ،  ج۲ ،  ص۴۰۱ ،  حدیث: ۵۹۵۴۔

اسد الغابۃ  ،  ساریۃ بن زنیم ،  ج۲ ،  ص۳۶۴ ملتقطا۔

[2]   دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل التاسع و العشرون ، ماظھر علی ید عمر۔۔۔الخ ، ص۳۴۵ ، الرقم: ۵۲۸ملتقطا۔

[3]   دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل التاسع و العشرون ، ماظھر علی ید عمر۔۔۔الخ ، ص۳۴۵ ، الرقم: ۵۲۸ملتقطا۔

[4]   کرامات صحابہ ،  ص۷۴۔

[5]   بخاری  ، کتاب الرقاق ، باب التواضع  ، ج۴ ،  ص۲۴۸ ،  حدیث: ۶۵۰۲ ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To