Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کرامت کسے کہتے ہیں  ؟

دعوت اسلامی کی اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبو عہ ۱۲۵۰ پر مشتمل کتا ب  ’’ بہار شریعت ‘‘  جلد اول صفحہ ۵۸ پر صدر الشریعہ  ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کرامت کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ نبی سے جو بات خلاف عادت قبل نبوت ظاہر ہو اس کو ارہاص کہتے ہیں   اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں  ۔ ‘‘ 

کرامت کی دو قسمیں   ہیں  :

            اعلیٰ حضرت  ، امام اہلسنت ،  مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنکرامت کی اقسام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ کرامت دو قسموں   پر ہے : (۱)محسوسِ ظاہری(۲)معقولِ معنوی۔ ‘‘  ([1])

محسوسِ ظاہری کرامت کیا ہوتی ہے؟

 ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی کی ذات بابرکت سے ظاہر ہونے والی ایسی خلاف عادت بات جسے ظاہراً محسوس کیا جاسکے محسوس ظاہری کرامت کہلاتی ہے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نےحضرت علامہ تا ج الدین سبکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے حوالے سے  ’’ محسوس ظاہری ‘‘   کرامات کی ان پچیس اقسام کو بیان فرمایا ہے:  (۱) مُردوں   کو زندہ کرنا (۲)مُردوں   سے کلام کرنا (۳)دریائو ں   پر تصرف (۴)کسی چیز کی اصل تبدیل کردینا (۵)زمین کے سمٹ جانے سے فاصلہ مختصر ہوجانا(۶)نباتات و جمادات سے گفتگو (۷)شفاءِامراض (۸)جانوروں   کا فرمانبردار ہونا (۹)زمانے کا مختصر (۱۰)یا طویل ہوجانا(۱۱)مقبولیت دعا (۱۲)سکوت اور کلام پر قدرت(۱۳)دلوں   کو اپنی طرف مائل کرلینا (۱۴)غیب کی خبریں   دینا (۱۵)کھائے پیئے بغیر زندہ رہنا (۱۶)نظامِ عالم میں   تصرفات (۱۷)کثیر غذاء کھانے پر قدرت (۱۸)حرام کھانے سے محفوظ رہنا (۱۹)دوردراز کے مقامات کا مشاہدہ کرنا (۲۰)ہیبت و دبدبہ (۲۱)مختلف صورتوں   میں   ظاہر ہوجانا (۲۲)دشمنوں   کے شر سے بچنا (۲۳)زمین کے خزانوں   پرمطلع ہونا (۲۴)قلیل مدت میں   کثیر تصانیف کا منظر عام پر آجانا (۲۵)ہلاکت خیز اشیاء کا اثر نہ ہونا۔([2])

فاروقِ اعظم گلستان کرامت کے مہکتے پھول :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بارگاہِ رسالت سے فیض یافتہ ، وزیر رسالت مآب ، آسمان رفعت کے درخشاں   ماہتاب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاَفضل البشر بعد الانبیاء ، خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے افضل ہیں  ۔ربِّ کائنا ت عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ ظاہری اورمعنوی دونوں   طرح کی کرامات کا تاجِ فضیلت عطا فرمایا۔نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآفتاب رسالت  ،  ماہتاب نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے معرفت کرامت کا نو رحاصل کرکے آسمان ولایت کے قطب ستارے کی مانند چمک اٹھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی چند ظاہری کرامات پیش خدمت ہیں  :

فاروقِ اعظم کی  ظاہری کرامات

(1)…فاروقِ اعظم کی ایک نیک جوان کی قبر پر تشریف آوری:

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن ایوب خزاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   ایک نیک پرہیزگار نوجوان تھاجو ہر وقت مسجد میں   مصروف عبادت رہتا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس کی اس کیفیت پر بہت تعجب فرمایا کرتے تھے۔

جب وہ اپنی رات کی عبادت وریاضت سے فارغ ہوتا تو اپنے بوڑھے باپ کے پاس چلا جاتا اور اس کی خدمت کرتا۔ اسی راستے میں   ایک فاحشہ عورت کا گھر بھی تھا ،  وہ عورت راستے میں   کھڑے ہو کراس نوجوان کو بہت تنگ کرتی ۔ایک روز وہ نوجوان کو زبردستی اپنے گھر لے گئی۔ وہ عبادت گزار نوجوان جیسے ہی اس کے گھر میں   داخل ہونے لگا تو بے ساختہ اس کی زبان سے یہ آیت مبارکہ جاری ہوئی:  (اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱)) (پ۹ ،  الاعراف: ۲۰۱) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ بے شک وہ جو ڈر والے ہیں   جب انہیں   کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہو جاتے ہیں   اسی وقت ان کی آنکھیں   کھل جاتی ہیں   ۔ ‘‘ 

بس پھر کیا تھا آیت کے جاری ہوتے ہی اس پر ایسا خوف خدا طاری ہوا کہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ اس فاحشہ عورت نے اپنی باندی کی مدد سے اسے گھسیٹ کر دروازے کے باہر پھینک دیا۔جب بیٹا وقت پر گھر نہ پہنچا توباپ کو فکر دامن گیر ہوئی ،  بیٹے کو تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا  ،  بالآخر تلاش کرتے ہوئے فاحشہ کے گھر تک پہنچ گیا جہاں   اس کا نیک بیٹا بے ہوش پڑا تھا۔اسے اٹھا کر گھر لے آیا۔ رات گئے جب نوجوان کو ہوش آیا تو باپ نے ماجرہ دریافت کیا۔ نوجوان نے سارا واقعہ بیان کردیا۔ باپ نے پوچھا بیٹا تونے کونسی آیت تلاوت کی تھی۔ بیٹے نے جیسے ہی وہ آیت دوبارہ تلاوت کی تو ایک بار پھر اس پر خوف خداکے سبب لرزہ طاری ہوگیا اور وہ بے ہوش گیا۔اسے ہوش میں   لانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن خوف خدا کے سبب اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔باپ نے راتوں   رات غسل وکفن دے کر اسے دفنا دیا۔صبح جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکواس واقعے کی اطلاع ملی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاولا اس کے والد کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لے گئے اور شکوہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلَا آذَنْتَنِيْ یعنی تم نے مجھے اطلاع کیوں   نہ دی؟ ‘‘   اس کے والد نے رات کا عذر پیش کردیا۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نیک پرہیزگار نوجوان کی قبر پر تشریف لے گئے  ، اس سے مخاطب ہوکر یوں   ارشاد فرمایا:  ’’ اے فلاں  !  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے :  (وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶))  (پ۲۷ ، الرحمن: ۴۶)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں   ہیں 



[1]   فتاویٰ رضویہ ، جلد۲۱ ، ص۵۴۹۔

[2]   حجۃ اللہ علی العالمین  ، المطلب الثانی فی انو اع الکرامات ،  ص۶۰۸۔



Total Pages: 349

Go To