Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(13)فاروقی گورنراور اُن سے متعلقہ امور                                          (14)عہدفاروقی کی تعمیرات

آخر میں   مکمل خلافت کے سنہرے دور کو باعتبارِ تاریخ بھی بیان کیا گیاہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بارہواں باب

کراماتِ فاروقِِ اعظم

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔

کرامات اولیاءحق ہیں۔

کرامات  کی تعریف

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان افضل الاولیاء ہیں۔

کرامت کی مختلف اقسام  کا بیان

ظاہری کرامت کسے کہتے ہیں؟

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  گلستان کرامت کے مہکتے  پھول ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی چند ظاہری کرامات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی سینکڑوں میل کی وردی  سے اسلامی لشکر کی دستگیر ی

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی خشکی و سمندری دونوں پر حکمرانی

معنوی کرامت کسے کہتے ہیں؟

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی چند معنوی کرامات

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کراماتِ فاروقِ اعظم

کرامات اولیاء حق ہیں  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ،  بی بی آمنہ کے مہکتے پھول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک دورسے آج تک اس بات پر اجماع ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی کرامتیں   حق ہیں   ، ہر زمانے میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں   سے کرامات کا صدور ہوتا رہااورتا قیامت یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔

صحابہ کرام افضل الاولیاء ہیں  :

شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت  ،  بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  :   ’’ علماء واکابرین اسلام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کا اِس پر اِتِّفاق ہے کہ تمام صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  ’’ اَفْضَلُ الاَوْلِیَاء ‘‘   ہیں  ۔ قیامت تک کے تمام  اَولیاءُ اللہ رَحِمَہُمُ اللّٰہ اگرچہ دَرَجۂ وِلایت کی بلند ترین منزل پر فائز ہو جائیں   مگر ہرگز ہرگز وہ کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے کمالاتِ وِلایت تک نہیں   پہنچ سکتے۔اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّنے مصطفےٰ جانِ رحمت ،  شمعِ بزمِ رسالت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلاموں   کووِلایت کا وہ بلند وبالا مَقام عطافرمایا اوراِن مُقدَّس ہستیوں   رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو ایسی ایسی عظیم ُ الشان کرامتوں  یعنی بزرگیوں  سے سرفراز فرمایا کہ دوسرے تمام اَولیائِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے لئے اِس معراجِ کَمال کا تصور بھی نہیں   کیا جا سکتا۔ اِس میں   شک نہیں   کہ حضراتِ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اِس قدر زیادہ کرامتوں   کا تذکرہ نہیں   ملتا جس قدر کہ دوسرے اَولیائِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  سے کرامتیں   منقول ہیں  ۔یہ واضِح رہے کہ کثرتِ کرامت ،  اَفضَلِیّتِ وِلایت کی دلیل نہیں   کیونکہ وِلایت دَرحقیقت قُربِ بارگاہِ اَحدِیَّت عَزَّ وَجَلَّکا نام ہے اور یہ قربِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّجس کو جس قدر زیادہ حاصل ہوگا اُسی قدر اُس کا دَرَجۂ وِلایت بلند سے بلند ترہوگا۔ صحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن چونکہ نِگاہِ نُبُوَّت کے اَنوار اور فیضانِ رِسالت کے فیوض وبَرَکات سے مُستَفِیض ہوئے ،  اِ س لئے بارگاہِ ربِّ لَمْ یَزَلْ عَزَّ وَجَلَّمیں   اِن بُزرگوں   کو جو قُرْب وتَقَرُّب حاصِل ہے وہ دوسرے  اَولیاءُ اللہ رَحِمَہُمُ اللّٰہ کو حاصِل نہیں  ۔ اِس لئے اگرچہ صحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بہت کم کرامتیں   منقول ہوئیں   لیکن پھر بھی اُن کادرَجۂ وِلایت دیگر اَولیائِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  سے حددَرَجہ اَفضل و اَعلیٰ اوربلند وبالا ہے۔([1])

سرکارِ دو عالَم سے ملاقات کا عالَم

عالَم میں   ہے مِعراجِ کَمالات کا عالَم

یہ راضی خدا سے ہیں   خدا اِن سے ہے راضی

کیا کہیے صحابہ کی کرامات کا عالَم

 



[1]   کراماتِ فاروقِ اعظم ، ص۹۔



Total Pages: 349

Go To