Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عربی کے ساتھ ساتھ عبرانی زبان بھی جانتے تھے۔

(3)…فاروقِ اعظم اور سفارت کاری کے فرائض:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دست و بازو پر بڑا اعتماد رکھتے تھے ،  کیونکہ آپ سردارانِ قریش میں   سے تھے ،  دورِجاہلیت میں   قریش کی طرف سے شہنشاہی درباروں   ،  یا کسی بھی قسم کے دیگر قبائل سے جنگی معاملات نمٹانے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سفیر کا فریضہ سر انجام دیتے تھے ،  اور جب قریش کا کسی دوسری قوم سے تنازع کھڑا ہوتا تو آپ ہی اپنی قوم کی نمائندگی کرتے۔ ([2])

(4)…فاروقِ اعظم اور مختلف قبائل کی نسب دانی:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  آپ کے والد اور دادا تینوں   بہت بڑے ماہر انساب تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خاندان میں   سفارت کاری اور فیصلۂ منافرت دونوں   موروثی اُمور تھے اور اِن دونوں   کی انجام دہی کے لیے یقیناً اَنساب کا جاننا نہایت ضروری تھا۔ نسب دانی آپ نے اپنے والد سے سیکھی ،  یہی وجہ ہے کہ جب نسب سے متعلق گفتگو فرماتے تو اپنے والد کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ ([3])

(5)…فاروقِ اعظم کی پہلوانی اور کشتی کے فن میں   مہارت:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلوانی اور کشتی کے فن میں   بھی کمال حاصل کیا ،  ’’ عُکَاظ ‘‘   کے دنگل میں   معرکے کی کشتیاں   لڑتے تھے ،  ’’ عُکَاظ ‘‘   جبلِ عرفات کے پاس ایک مقام تھا جہاں   ہر سال اِس غرض سے میلہ لگتا تھا کہ عرب کے تمام اَہلِ فن جمع ہوکر اپنے کمالات کے جوہر دکھلاتے تھے ،  اِس لیےاِس میلے میں   صرف وہی لوگ پیش پیش ہوتے تھے جو کسی نہ کسی فن میں   کمال رکھتے تھے۔ جلیل القدر صحابی ثناخوانِ بارگاہِ رسالت حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت ،  حضرت سیِّدُنا قس بن ساعدہ ،  سیدتنا خنساء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمجیسے شعراء کی شہرت کا باعث بھی یہی میلہ تھا۔ ([4])

حضرت سیِّدُنا ابو التیاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مجلس میں   اس بات کو بیان کیا کہ ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی تو انہوں   نے اس سے فرمایا:   ’’ کیا تمہیں   معلوم ہے کہ جو شخص دونوں   ہاتھوں   سے کام کیا کرتا تھا یعنی عمر اس نے اسلام قبول کرلیا ہے؟ ‘‘   چرواہے نے کہا:   ’’ کیا تم اس شخص کی بات کررہے ہو جو عکاظ کے میلے میں   کشتی لڑا کرتا تھا؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ جی ہاں  ! میں   اسی کی بات کررہا ہوں  ۔ ‘‘   ([5])

(6)…فاروقِ اعظم اور فن شہسواری :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہسواری میں   مہارت بھی ایک مسلمہ صفت ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہسواری میں   مہارت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ یَثِبُ عَلَى فَرَسِہٖ فَكَاَنَّمَا خُلِقَ عَلَى ظَھْرِہٖ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے تو ایسا لگتا تھا کہ آپ پیدا ہی گھوڑے کی پیٹھ پر ہوئے ہیں  ۔ ‘‘  ([6])

(7)…فاروقِ اعظم اور فن شاعری:

جس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپہلوانی اور شہسواری میں   مہارت رکھتے تھے اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شاعری کا بھی بہت ہی عمدہ ذوق رکھتے تھے ۔ ’’ عُکَاظ ‘‘   اور دیگر مقامات پر بڑے بڑے شعراء کے کلام سماعت فرماتے ،  جو اشعار پسند آتے انہیں   اپنے ذہن میں   محفوظ کرلیتے ،  سینکڑوں   اشعار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زبانی یاد تھے۔  اس وقت عرب کے بڑے بڑے شعراء جیسے سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  سیدتنا خنساء ،  سیِّدُنا قس بن ساعدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ سے بھی آپ کی شاعری کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا زبرقان بن بدر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہجو والے مقدمے میں   آپ نے سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مشاورت کی ۔ہو سکتا ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فنِ شاعری  ’’ عُکَاظ ‘‘   کے میلے سے ہی حاصل کیا ہو کیونکہ قبولِ اسلام کے بعد خصوصاً خلافت کے زمانے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے مصروف ہوگئے تھے کہ اس قسم کے معاملات سے دُور ہی رہتے تھے۔ البتہ بعض اوقات طبیعت کے موافق کچھ شعری کلام سن لیتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے ’’ فیضانِ فاروق اعظم ‘‘  جلد دوم  ، باب عہد فاروقی میں   علمی سر گرمیاں    ، ص۵۲۲  کا مطالعہ کیجئے۔

 (8)…فاروقِ اعظم اور فن تقریر وخطابت :

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے بہترین خطیب ومقرر بھی تھے ۔اسی وجہ سے قریش کو جب کسی معاملے میں   نفرت دلانی ہوتی یا کوئی فخر وغیرہ کا معاملہ ہوتا توبھی بطور مقرر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو بھیجا جاتا۔آپ کے بہترین مقرر وخطیب ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ قریش نے آپ کو سفارت کا منصب دے دیا تھا



[1]     دارمي ،  باب ما یتّقي من تفسیر۔۔۔ إلخ ،  ج۱ ،  ص۱۲۶ ،  حدیث: ۴۳۵ ۔

[2]     اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۵۷۔

[3]     البیان والتبیین ،  باب أسجاع ،  ج۱ ،  ص۳۰۴۔

[4]     تاریخ مدینہ منورۃ ،  ج۱ ،  ص۲۹۱ ،  ۳۹۴ ماخوذا۔

[5]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۴۷۔

[6]     الاصابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۴۸۵ ،  الرقم: ۵۷۵۲۔



Total Pages: 349

Go To