Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سے بھی یہی پوچھاکہ ’’ مجھے عمر فاروق کے بارے میں   بتائیے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جواب دیا:  ’’ حضور! آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اس کے علاوہ کچھ کہو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کیا:  ’’  اَللّٰھُمَّ عِلْمِیْ بِہٖ اَنَّ سَرِیْرَتَہُ خَیْرٌ مِّنْ عَلَانِیَّتِہٖ وَاَنَّہُ لَیْسَ فِیْنَا مِثْلُہُحضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   میرا علم یہی ہے کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے کہیں   بہتر ہے اور ہمارے درمیان ان کی مثل کوئی نہیں   ہے۔ ‘‘  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔ ‘‘  پھرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور سیِّدُنا اُسید بن حضیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ساتھ دیگر مہاجرین وانصار سے بھی مشورہ کیا۔ حضرت سیِّدُنا اسیدبن حضیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ اَللّٰھُمَّ اَعْلَمُہُ الْخَیْرَ بَعْدَکَ ،  یَرْضٰی للِرِّضَا وَیَسْخَطُ ُلِلسُّخْطِِ الَّذِیْ یُسِرُّ خَیْرٌ مِّنَ الَّذِیْ یُعْلِنُ ،  وَلَنْ یَلِیَ ھٰذَاالْاَمْرَ اَحَدٌ اَقْوَی عَلَیْہِ مِنْہُ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہتر جانتاہے  ،  میں   آپ کے بعدانہیں   سراپا خیر سمجھتا ہوں   ،  وہ تو اچھے کام پر راضی اور برے کام پر ناراض ہوتے ہیں   ،  جووہ چھپا کر رکھتے ہیں   ،  اس کی بنسبت کہیں   بہترہے جو وہ ظاہر کرتے ہیں  ۔ حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بنسبت کوئی بھی امرِ خلافت پر زیادہ مضبوط اور قوت والا ہرگز نظر نہیں   آئے گا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم مولاعلی کے پسندیدہ خلیفہ ہیں  :

حضرت سیِّدُنا سیار ابی الحکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طبیعت جب زیادہ ناساز ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حجرہ مبارکہ کے سوراخ سے لوگوں   کی طرف جھانکا اور انہیں   مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا اَيُّهَا النَّاسُ انِّي قَدْ عَهِدْتُ عَهْدًا اَفَتَرْضَوْنَ بِهِ یعنی اے لوگو! میں   نے خلیفہ بنانے کے معاملے میں   ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم لوگ اس کے بارے میں   اپنی رضا ظاہر کرتے ہو؟ ‘‘  تو تمام لوگ کھڑے ہوگئے اور عرض کرنے لگے:   ’’ قَدْ رَضِينَا یعنی اے امیر المؤمنین! کیوں   نہیں   بالکل ہم اپنی رضا کا اظہار کرتے ہیں  ۔ ‘‘  اچانک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے:   ’’ لاَ نَرْضَى اِلاَّ اَنْ يَكُونَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی اے امیر المؤمنین! اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ بنانے کا فیصلہ فرمایا ہے تو ہم راضی ہیں   ورنہ نہیں  ۔ ‘‘   جب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خلیفہ کا اِعلان فرمایا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی خواہش کے مطابق حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی تھے۔([2])

صدیق اکبر کا پروانۂ خلافت بنام فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا محمد بن سعد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد  بیان کرتےہیں   چند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اس وقت آئے جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنا جانشین بنانے کا تہیہ کرلیا تھا۔ چنانچہ کچھ افراد نے لب کشائی کرتے ہوئے آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیا:   ’’  اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جانشین بنانے کے بارے میں   سوال کیا تو آپ کیا جواب دیں   گے؟ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:   ’’ مجھے بٹھاؤ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بٹھایا گیا۔ ارشاد فرمایا:  ’’ مجھے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضری سے ڈرا رہے ہو؟ وہ شخص ہلاک ہوا جس نے تم لوگوں  کی حکومت حاصل کرکے ظلم کی پونجی کمائی۔ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   یہ عرض کروں   گا:  اے اللہ ! میں   تیری زمین پر آباد ساری مخلوق سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ بنا کر آیا ہوں  ۔ میری یہ بات دوسرے لوگوں   تک پہنچادو۔ ‘‘   یہ کہہ کر آپ پھر لیٹ گئے۔ پھر حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُن سے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی جانشینی کا پروانہ درج ذیل الفاظ میں   املا کروایا:

 ’’ اللہکے نام سے شروع جو بہت مہربان نہایت رحم والا!یہ وہ بات ہے جو ابوبکر نے دنیا سے جاتے ہوئے اور عالمِ آخرت میں   قدم رکھتے ہوئے کہی تھی۔ ایسے پر خطر وقت میں   کافرکلمہ پڑھ لیا کرتا ہے ،  بدکردار آدمی توبہ کرلیتا ہے اور جھوٹا اِنسان بھی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ میں   نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو تم پر امیربنایا ہے۔تم پر لازم ہے کہ اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو! میں   نے   اللہ

عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،  دین اسلام  ،  اپنی اور تمہاری ذات کے بارے میں   کبھی کوئی کوتاہی نہیں   کی۔ اگر عمر نے عدل کیا اور یہی مجھے امید ہے۔ تو ہر آدمی کو اپنے نیک اعمال کی جزا ملتی ہے اور اگر ناانصافی کی تو ہر کسی کو گناہ کی سزا ملتی ہے۔ تاہم میں   نے اپنی طرف سے بہتر کام کردیا ہے۔مجھے ذاتی طور پرعلم غیب حاصل نہیں   اور ظالموں   کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام کو پہنچتے ہیں  ۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ ۔ ‘‘  ([3])

پھر اس حکم نامے کو حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہلے کر باہر تشریف لے آئے۔ تمام لوگوں   نے بیعت کی اور اس پر رضا ورغبت کا اظہار کیا۔ بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا کر نصیحتوں   کے مدنی پھول ارشاد فرمائے۔

فاروقِ اعظم کو نصیحت صدیق اکبر:

حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبداللہبن سابط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وقت وصال آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہا کرو اوریا درکھو !اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کام جو دن میں   ہونے والے ہیں   رات تک پیچھے نہیں   کیے جاتے اور رات والے کام دن پر نہیں   چھوڑے جاتے۔ نوافل تب ہی قبول ہوتے ہیں   جب فرائض ادا کردیئے جائیں  ۔ روزِ قیامت اسی شخص کی نیکیاں   بھاری ہوں   گی جو دنیا میں   



[1]   طبقات کبری ، ذکر وصیۃ ابی بکر ، ج۳ ، ص۱۴۸۔

[2]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ، ج۷ ،  ص۴۸۶ ، حدیث: ۵۳۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر وصیۃ ابی بکر ،  ج۳ ،  ص۱۴۹۔



Total Pages: 349

Go To