Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عہدِ صدیقی میں   اس وقت کے نامور اور سب سے بڑے فتنے یعنی مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ لڑی گئی تو اس میں   کثیر تعداد میں   حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   شہید ہوئے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جمع قرآن کا مشورہ دیا جسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبول فرمایا۔ چنانچہ ،

جمع قرآن میں   فاروقِ اعظم کا عظیم کردار:

امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   مسیلمہ کذاب کے خلاف ایک زبردست جنگ لڑی گئی جس میں   کثیر تعداد میں   حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی شہادت ہوئی۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی فہم وفراست سے یہ بات جان لی کہ اگر یونہی مختلف جنگوں   میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  شہید ہوتے رہے تو قرآن کا اکثر حصہ جاتا رہے گا۔ لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ مدنی مشورہ دیا اور ان کا ذہن بنایا کہ موجودہ حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی معاونت سے جمع قرآن کی ترکیب بنائی جائے۔اوّلا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے انکار فرمایا لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انفرادی کوشش سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ راضی ہوگئے ،  بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چند موجودہ حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کی معاونت سے جمع قرآن کا عظیم کام پایہ تکمیل تک پہنچایا۔([1])

خلافت صدیقی کی کامیابی کا تاج فاروقِ اعظم کے سر:

حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دورِ حکومت بہت ہی قلیل مدت رہا ہے لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے اس دورِ حکومت میں   انتخابِ خلیفہ سے لے کر مختلف فتنوں   کی سرکوبی ،  فتوحات شام وعراق  ،  جمع قرآن وغیرہ بڑے بڑے معاملات کو جس خوش اسلوبی سے سرانجام دیا اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات مبارکہ خود پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک بہت بڑا معجزہ تھی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے جس پہلو پر بھی نظر ڈالتے ہیں   علم وحکمت کے بے شمار انمول مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں   ،  آپ ہی کے عہد میں   اسلامی فوجی قوت میں   بے حد اضافہ ہوا ،  اسلامی تہذیب کی نشو ونما ہوئی اورکتاب وسنت کی ترویج واشاعت کے دائرے وسیع سے وسیع تر ہوئے۔ آپ کی حیات طیبہ کے یہ وہ عظیم کارنامے ہیں   جن سے غیروں   کے علاوہ خود مسلمان بھی انتہائی متعجب تھے ۔

واضح رہے کہ کسی بھی بادشاہ کی کامیابی کا دارومدار اس کے وزیر اور مشیر پر ہوتاہے ،  جیسا اس کا وزیرومشیر ہوگا اس کی حکومت پر ویساہی اثر پڑے گا ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وزیر ومشیر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی عظیم ہستی تھی ،  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی سچی فراست سے یہ جان لیا تھا کہ اگر میں   فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا وزیر ومشیر بناؤں   تو یقیناً خلافت کے امور کو بہتر انجام دے پاؤں   گا ،  یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوئی کام سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مشاورت کے بغیر سرانجام نہیں   دیتے تھے ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وزارت ومشاورت ہی کا نتیجہ تھا کہ جو کام سالوں   میں   ہونا مشکل تھا وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سعی مسلسل اور تدبیر ودانش مندی سے چند مہینوں   میں   تکمیل کی منزل کو پہنچ گیا۔

سیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وزارت نے لوگوں   کے دلوں   میں   ایسا تاثر قائم کیا کہ لوگ اس بات کی خواہش کرنے لگے کہ کاش اس مدنی حکومت سے دنیا قیامت تک مستفیض ہوتی رہے۔مگر مشیت الٰہی ہے کہ  ’’ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ  ‘‘  یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔یقیناً کائنات کو جس ہستی کی ضرورت ہے وہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی ہے لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی دنیاسے وعدۂ الٰہی کے مطابق وصال فرما گئےاور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے خلیفہ مقرر ہوئے اُن کوبھی اس دنیاسے رخصت ہونا ہی تھا۔معرکۂ اَجنادین کے وقت آپ مرض الموت میں   مبتلا ہوئے اوراس معرکے کی فتح کی خوشخبری جب قاصد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   لایا اُس وقت آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی۔ بالآخر آخری وصایا اور اپنے بعد مسلمانوں   کے خلیفہ کی نامزدگی کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی ۲۲جمادی الاخری۱۳ سن ہجری بمطابق ۲۲اگست ۶۳۴عیسوی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

(اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)

صدیق اکبر اور خلافتِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کے معاملے میں   مسلمانوں   میں   تھوڑے بہت اختلاف ہوئے لیکن حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے انتقال سے قبل مختلف اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مشاورت سے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ منتخب فرمایا تاکہ اُن کے انتقال کے بعد کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہونے پائے اور مسلمان بغیر انتشار کے اپنے معاملات سنبھال لیں  ۔

خلافت فارو ق اعظم کے معاملے میں   مشاورت:

جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا کر ارشاد فرمایا:   ’’ آپ حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق کیا کہتے ہیں  ؟ ‘‘  انہوں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! جس مسئلے کے متعلق آپ مجھ سے دریافت فرمارہے ہیں   اسے آپ بہتر جانتے ہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ پھر بھی کچھ تو کہو۔ ‘‘  عرض کیا:  ’’ خداکی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   جو(اپنے بعد خلیفہ بنانے کی) رائے قائم کی ہے وہ اس سے بھی کہیں   زیادہ افضل واعلی ہیں  ۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو طلب فرمایا اور ان



[1]   بخاری ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب جمع القرآن ،  ج۳ ،  ص۳۹۸ ،  حدیث: ۴۹۸۔  ’’ جمع قرآن  ‘‘   کی تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۳ صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   باب  ’’ خلافت صدیق اکبر ‘‘   موضوع  ’’ صدیق اکبر اور جمع قرآن ‘‘   ص ۴۱۵کا مطالعہ کیجئے۔



Total Pages: 349

Go To