Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

چنانچہ کتاب الاوائل للعسکری میں   ہے:

 ’’ اَوَّلُ قَاضٍ فِي الْاِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِیعنی اسلام کےسب سے پہلے قاضی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

مسلمان مقتولین کی دیت کے متعلق فاروقِ اعظم کی رائے:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ بنی اسداور بنی غطفان کا ایک وفدخلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس صلح کی غرض سے آیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   ارشاد فرمایا:   ’’ یا تو فیصلہ کن جنگ اختیار کرلو یاذلت آمیز صلح ۔ ‘‘  وہ کہنے لگے :  ’’ فیصلہ کن جنگ کا مطلب تو ہم جانتے ہیں   مگر یہ ذلت آمیز صلح سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ تم سے ذرعیں   اورہتھیار وغیرہ سب لے لیے جائیں   گے ،  جو مال غنیمت ہمیں   حاصل ہوگا وہ ہمارا ہی ہوگا اور جو کچھ تم ہم سے حاصل کرو گے وہ واپس کردو گے۔ تم ہمارے مقتولین کی دیتیں   ادا کرو گے مگر تمہارے مقتولین جہنم میں   جائیں   گے۔( یعنی ہم ان کا خون بہا ادا نہیں   کریں   گے) تمہیں   ایسی قوموں   کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا جو اونٹوں   کی دم کےپیچھے کچھی چلی جاتی ہیں  ۔ یہ معاملہ تم سے اس وقت تک کیا جاتارہے گا جب تک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنےپیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ اور مہاجرین پر کوئی دوسری صورت ظاہر نہ کردے جس کے سبب تمہیں   معذور قرار دےدیا جائے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ گفتگو عام مسلمانوں   کے سامنے پیش کی تاکہ ان کی بھی رائے معلوم کی جاسکے۔ تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ حضور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا فیصلہ تھا ہماری عرض یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فیصلہ کن جنگ اور ذلت آمیز صلح کی بات بہت اچھی کہی ہے ،  یونہی ہم ان سے جولیں   وہ ہمارا اور وہ جو کچھ لے لیں   وہ بھی ہمارا یہ بھی بڑی اچھی بات ہے۔ البتہ یہ جو آپ نے کہا ہے کہ ہمارے مقتولین کی دیتیں   ادا کی جائیں   گی اور ان کے مقتولین جہنم میں   ہیں  ۔اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ ہمارے شہداء یقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   قربان ہوئے ہیں   ہمیں   ان کی دیتیں   لینے کی کیا ضرورت ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس بات پرامیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسمیت پوری قوم نےاتفاق رائے ظاہر کیا اور اسی بات پرکفار سے صلح کرلی گئی۔([2])

تم خلافت کے لیے مجھ سے زیادہ قوی ہو:

٭…حضرت سیِّدُنا عیینہ بن حصن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنااَقرع بن حابس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے اور عرض کیا:  ’’ اے خلیفۂ رسول اللہ! ہمارے پاس بنجر زمین ہے ،  اس میں   کوئی فصل وغیرہ فائدہ مند چیز نہیں   پیدا ہوتی ،  اگر آپ مناسب سمجھیں   تو یہ زمین ہمیں   دے دیں   تاکہ ہم اس میں   کھیتی کریں   شاید کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کارآمد بنا دے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کرکے وہ زمین ان دونوں   کو عطا فرمادی اور انہیں   اس کی تحریر بھی لکھ دی البتہ اس میں   بطور گواہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام لکھا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں   موجود نہ تھے۔اس لیے یہ دونوں   حضرات بارگاہِ فاروقی میں   پہنچے تاکہ انہیں   گواہ بنالیں  ۔ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس تحریر کو سنا تو ان کے ہاتھ سے لے کر اس تحریر کو مٹادیا اور ارشاد فرمایا:   ’’ مَقَالَةً سَيِّئَةً کیا ہی بری تحریر ہے۔ ‘‘ 

٭…پھر ارشاد فرمایا:   ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتالیف قلب کے لیے ایسے امور اس وقت سرانجام دیا کرتے تھے جب اسلام کمزورتھا  ،  آج تو بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی اسلام کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بڑی قدرومنزلت عطا فرمائی ہے ،  کسی کو تالیف قلب کے لیے کچھ نہیں   دیا جائے لہٰذا تم دونوں   جاؤ اور اپنی محنت سے کام کاج کرو ،  اگر تم اپنے لیے رعایت تلاش کرو گے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے رعایت نہیں   فرمائے گا۔  ‘‘ 

٭…یہ دونوں   حضرات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہمیں   تو یہ ہی نہیں   معلوم کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر ہیں   یا حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ؟ ‘‘  فرمایا:   ’’ وہی ہیں   اور اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو وہی ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭…اتنے میں   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہاں   پہنچ گئے اور آپ جلال میں   تھے ،  بارگاہِ صدیقی میں   عرض کیا:   ’’ مجھے یہ ارشاد فرمائیے کہ یہ زمین جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان دونوں   کو دی ہے کیا وہ صرف آپ ہی کی ہے یا تمام مسلمانوں   کی ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ تمام مسلمانوں   کی ہے۔ ‘‘ 

٭…عرض کیا:   ’’ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام مسلمانوں   کو چھوڑ کر یہ زمین صرف ان دونوں   کو دے دی؟ ‘‘  فرمایا:  ’’ میں   نے اپنے گرد موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   سے مشورہ کیا تو انہوں   نے مجھے یہی مشورہ دیا۔ ‘‘ 

٭…عرض کیا:  ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صرف اپنے گرد موجود صحابہ سے مشورہ کیا؟ یا تمام مسلمانوں   کی رضا اس میں   شامل تھی؟ فرمایا:   ’’ میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ اس معاملے میں   مجھ سے زیادہ قوی ہیں   لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے ہی آگے کردیا۔ ‘‘  ([3])میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بارگاہِ صدیقی میں   مقام ومرتبے کا پتا چلتا ہے کہ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی بذات خود خلیفہ ہونے کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے ،  اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وزیر ومشیر تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی ہر معاملے میں   معاونت فرماتے



[1]   الاوائل للعسکری ،  ص۳۵۷۔

[2]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الجھاد ،  ما قالوا فی الرجل۔۔۔الخ ،  ج۷ ،  ص۵۹۵ ،  حدیث: ۶۔ سنن کبری  ،  کتاب الاشربۃ ،  باب قتال اھل الردۃ۔۔۔الخ ،  ج۸ ،  ص۵۸۱ ،  حدیث: ۱۷۶۳۲۔

[3]   سنن کبری ،  کتاب قسم الصدقات ،  باب سقوط سھم۔۔۔الخ ،  ج۷ ،  ص۳۲ ،  حدیث: ۱۳۱۸۹۔

                                                کنزالعمال ،  کتاب احیاء الموات ،  فصل فیما یتعلق بالاقطاعات ، الجزء: ۳ ،  ج۲ ،  ص۳۶۹ ،  حدیث: ۹۱۴۷۔



Total Pages: 349

Go To