Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اس پر ان کااسلام اور اطاعت مقدم ہے ،  وہ سب اسے جانتے ہیں   اور یہ ان سب کو جانتا ہے اور یہ ان تمام علاقوں   کوبھی جانتا ہے۔ میری مرادحضرت علاء بن الحضرمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا علاء بن الحضرمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بحرین بھیجنا ناپسند فرمایا اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا :   ’’ میرا مشورہ وہی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو بھیجا جائے ،  میں   ان کو اس لیے مجبور کررہاہوں   کہ یہ ان کے حلیف ہیں  ۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مجبور کرنے سے منع کردیا اور ارشاد فرمایا:   ’’  میں   ایسے شخص کو قطعاً مجبور نہیں   کرسکتا جس کا یہ مؤقف ہو کہ میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی کے ماتحت رہ کر کام نہیں   کرنا چاہتا۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا علاء بن الحضرمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو بھیجنے کا فیصلہ فرمالیا۔([1])

علم وحکمت کے مدنی پھول:

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ ذمہ داری صلاحیتوں   کی بنا پردی جائے تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے کہ جوشخص جس کام کا اہل ہو ،  جس کام کو اچھی طرح جانتا ہوں   اگر اسے وہی کام دیا جائے تو وہ بہتر انداز میں   کرسکے گا ،  جیسا کہ مذکورہ روایت میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا موقف تھا ،  اگرچہ حضرت سیِّدُنا سعید بن ابان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وصال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وجہ سے دلبرداشتہ تھے۔ شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت ،  بانیٔ دعوتِ اِسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی اس بات کی تاکید فرماتے رہتے ہیں   جو اِسلامی بھائی جس کام کو اچھی طرح کرنا جانتا ہو اس سے وہی کام لیا جائے تو زیادہ فوائد حاصل ہوں   گے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شورائی نظام کے قائل تھے  ، یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بحرین کا گورنر مقرر کرنے کے لیے اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   سے مشاورت کی اور جمہور کی رائے کے مطابق عمل فرمایا۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ مدنی رویے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں   کو کسی صورت کسی کام پر مجبور نہ کیا جائے ،  بلکہ پیار ومحبت اور شفقت کے ساتھ ان سے مدنی کام لیا جائے ،  اگر بالفرض وہ اس کام کو کرنے سے دلبرداشتہ ہوتے ہیں   تو انہیں   ضائع کرنے کے بجائے ان سے کوئی اور کام لے لیا جائے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مبارک مدنی سوچ سے یہ مدنی پھول ملتا ہے کسی جگہ اسلامی بھائی کی تقرری میں   اس بات کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ مذکورہ اسلامی بھائی وہاں   کے علاقے  ،  لوگوں   اور ان کی نفسیات وغیرہ سے بھی واقفیت رکھتا ہے یا نہیں   ،  یقینا کسی شخص کو ایسی ذمہ داری دے دینا جس سے وہ بالکل ہی واقف نہ ہو نقصان کا باعث ہو سکتاہے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حضرت سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ابتدائی مکالمے سے یہ مدنی پھول حاصل ہوا کہ اگر کوئی اسلامی بھائی باصلاحیت ہے مگر کسی مخصوص وجہ سے وہ اس کام سے دلبرداشتہ ہوگیا ہے تو اولا اس کی دلجوئی کرتے ہوئے اس کا مدنی ذہن بنایا جائےکہ آپ ہی اس کام کو بہتر انداز میں   انجام دے سکتے ہیں   اگر پھر بھی ان کا ذہن نہ بنے تو ان سے کوئی دوسرا مدنی کام لے لیا جائے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صدیق اکبر نے فاروقِ اعظم کو مدینہ منورہ کا قاضی بنایا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عہدِ رسالت میں   بھی یہ سعادت حاصل رہی تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مختلف معاملات کے فیصلے فرمایا کرتے تھے ،  لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے وصال ظاہری کے بعد خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے باقاعدہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ منورہ کا قاضی مقرر فرمادیا۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ وُلِىَ شَيْئاً مِنْ  اُمُوْرِ الْمُسْلِمِيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَلَّاهُ اَبُوْ بَكْرٍ الْقَضَاءَ فَكَانَ اَوَّلُ قَاضٍ فِي الْاِسْلَامِ یعنی اگر مسلمانوں   کے امور پر کسی کو سب سے پہلا والی بنایا گیا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بنایا گیا ،  خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو منصبِ قضاء پر فائز فرمایا ،  اس طرح آپ کو اِسلام کے پہلے قاضی بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ‘‘   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو قاضی مقرر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:   ’’ آپ مختلف معاملات کے فیصلے فرمائیں    ، میں   دیگر امور کو سنبھالتا ہوں  ۔ ‘‘  ([2])

عالم اسلام کے سب سے پہلے قاضی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ اسلام میں   سب سے پہلے جسے باقاعدہ قاضی مقرر کیا گیا وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات گرامی تھی ،  



[1]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۶ ،  ص۱۳۶ ،  کنزالعمال ،  کتاب الخلافۃ مع الامارۃ ،  الباب الاول ۔۔۔الخ ،  الجزء: ۵ ،  ج۳ ،  ص۲۴۸ ،  حدیث: ۱۴۰۸۹۔

[2]   الاستیعاب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔



Total Pages: 349

Go To