Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سے اُترنے کے بعد مسجد نبوی میں   نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے ،  اچانک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر اُن پر پڑ گئی۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُن کے پاس تشریف لائے اور پوچھا:   ’’ کہاں   سے آئے ہو؟ ‘‘  عرض کیا:   ’’ یمن سے آیا ہوں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ اُس شخص کا کیا حال ہے جسے کذاب اَسود عنسی نے آگ میں   ڈالا؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ وہ تو عبد اللہ بن ثُوَب ہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ میں   تمہیں     اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دیتاہوں   ،  بتاؤں   کیا تم وہی ہو؟ ‘‘  عرض کیا:   ’’ یقیناً میں   وہی ہوں  ۔ ‘‘  جیسے ہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سنا تو اُنہیں   فوراً گلے لگا لیا اور زارو قطار رونے لگے۔ پھر اُنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   لے گئے اور اُنہیں   سامنے بٹھادیا  ،  پھر فرمایا:   ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يُمِتْنِيْ حَتّٰى اَرَانِيْ فِيْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ مَنْ صُنِعَ بِهٖ كَمَا صُنِعَ بِاِبْرَاهِيْمَ الْخَلِيْلِ یعنی تمام تعریفیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   جس نے مجھے موت نہ دی یہاں   تک کہ اُس پاک ذات نے مجھے اُمت محمدیہ کا وہ خوش نصیب شخص دکھادیا جس کے ساتھ حضرت سیِّدُنا اِبراھیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسا سلوک کیا گیا۔ (یعنی اُنہیں   بھی آگ میں   ڈالا گیا تھا اور آگ ٹھنڈی ہوگئی اور اِنہیں   بھی آگ میں   ڈالا گیا اور آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ ‘‘   ([1])

علم وحکمت کے مدنی پھول:

٭…اسود عنسی کذاب نے حضرت سیِّدُنا ابو مسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کو آگ میں   ڈالا اور وہ آگ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے لیے ٹھنڈی ہوگئی ،  یقینا یہ آپ کی بدیہی کرامت تھی نیز آپ کی یہ کرامت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک عظیم معجزہ ہے کیونکہ اولیاء امت کی کرامات ان کے نبی کے معجزات ہوتے ہیں  ۔

٭…حضرت سیِّدُنا ابو مسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی یہ کرامت امت محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے لیے بھی عظیم سعادت ہے کہ پچھلی امت کے نبی حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو معجزہ عطا ہوا تھا وہ اس امت کے افضل ولی حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے حصے میں   بطور کرامت آیا۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ راہِ خدا میں   تکالیف ملنا کوئی عجیب وغریب بات نہیں   بلکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  و اولیائے عظام کو بھی راہِ خدا میں   بہت تکالیف دی گئیں  ۔

٭…حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کو یمن میں   آگ میں   ڈالا گیا ،  جبکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں   موجود تھے ،  جیسے ہی سیِّدُنا ابومسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  مدینہ منورہ پہنچے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فورا ًاس واقعے کے بارے میں   استفسار فرمایا جوان کے ساتھ یمن میں   پیش آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت وعطا سے مدینہ منورہ میں  بیٹھ کر ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔نیز یہ واقعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خداداد فراست تامہ پربہت بڑی دلیل ہے۔

 

٭…جب اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ آگ میں   جلائے جانے والے حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ہی ہیں   تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   گلے لگالیا اور بعد ازاں   گریہ وزاری فرمانے لگے۔ معلوم ہوا کہ راہ خدا میں   تکالیف اٹھانے والے عشاقان رسول کو گلے سے لگانا نیز ان کی دلجوئی کرنا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سنت مبارکہ ہے۔

ہم کو سارے اولیاء سے پیار ہے

اِنْ شَاءَ اللہُ اپنا بیڑا پار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سیِّدُنا ابان بن سعید کی نامزدگی پر فاروقِ اعظم کی رائے:

٭…حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں   مختلف شہروں   پر مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کو عامل وگورنر مقرر فرمایا تھا۔بحرین پر حضرت سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  مقرر تھے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال کے بعد یہ بحرین سے واپس آگئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ تمہیں   وہاں   سے واپس نہیں   آنا چاہیے تھااور نہ ہی اپنے کام کو اپنے امام حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اجازت کے بغیر ترک کرنا چاہیے تھا پھر ان نازک حالات میں   تم یہاں   آگئے حالانکہ تم وہاں   ان کے امین تھے۔ ‘‘ 

٭…یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابان بن سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ آپ بجا فرمارہے ہیں   لیکن بس رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہر ی کے بعد اب میرا دل نہیں   کرتا کہ میں   کسی کے ماتحت رہ کرکام کروں   اور ہاں   اب تک جو میں   سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے کام کرتا رہا وہ اس وجہ سے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سب سے افضل اور قدیم الاسلام ہیں    ،  لیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد اب میں   کسی کے ماتحت رہ کر کام نہیں   کرسکتا۔ ‘‘ 

٭…یہ صورت حال دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   سے مشاورت کی کہ بحرین میں   کس کی ترکیب بنائی جائے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس شخص کو وہاں   بھیجئے جسے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھیجا تھا ،  



[1]   سیر اعلام النبلاء ،  الطبقۃ الاولی من التابعین ،  ج۵ ،  ص۶۱ ،  الرقم: ۳۶۹۔



Total Pages: 349

Go To