Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ میں   مدینہ منورہ آیا تو میں   نے دیکھاکہ ایک جگہ کافی لوگ اکٹھے ہیں   اور ان میں   سےایک شخص کسی دوسرے کا سر چوم رہا ہےاور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہاہے کہ ’’  اَنَا

فِدَاؤُکَ لَوْلَااَنْتَ لَھَلَکْنَایعنی میں   تم پر فدا ہوں   ،  اگر تم نہ ہوتے تو ہم تباہ ہو جاتے۔ ‘‘  میں   نے کسی سےپوچھا:  ’’ یہ دونوں   کون ہیں  ؟ ‘‘   بتایا گیا:  ’’ یہ سرچومنے والے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجن کا سرچوم رہے ہیں   وہ حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   ،  کیونکہ انہوں   نے زکوٰۃنہ دینے والوں   سے جہاد کیا اور اب وہ مانعین زکوٰۃ ذلیل ہو کر خود ان کی بارگاہ میں   زکوٰۃ لائے ہیں  ۔ ‘‘   ([1])

فاروقِ اعظم اور یمن سے معاذ بن جبل کی واپسی:

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یمن بھیجا تھا ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصال کے بعد جب وہ مدینہ منورہ واپس آگئے تو سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس معاملے میں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے گفتگو کی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی قوم کے معزز لوگوں   میں   سے تھے البتہ اُن پر بہت زیادہ قرض ہوگیا یہاں   تک کہ ُان کا ساراکا سارا مال اُس قرض کی ادائیگی میں   چلا گیا ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں   کچھ مال وغیرہ دے کر ملک یمن بھیج دیا تاکہ یہ وہاں   تجارت بھی کریں   اور دین کا کام بھی کریں  ۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصال ظاہری کے بعد یہ بھی یمن سے مدینہ منورہ واپس آگئے۔

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   یوں   عرض کیا:   ’’ آپ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف کسی کو بھیجئے تاکہ وہ اُن سے اُن کی ضرورت کے علاوہ زائد مال وغیرہ لے آئیں  ۔ ‘‘  یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ انہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مال دے کر بھیجا تھا میں   اُن سے کچھ بھی نہیں   لوں   گا ہاں   اگر یہ خود دے دیں   تو لے لوں   گا۔ ‘‘ 

یہ دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود ہی حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لے گئے اور اُن سے وہی بات اِرشاد فرمائی۔ چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُس وقت امیر المؤمنین نہیں   تھے اِس لیے اُنہوں   نے اُس وقت آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔لیکن بعد ازاں   وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ قَدْ اَطَعْتُكَ وَاَنَا فَاعِلٌ مَا اَمَرْتَنِيْ بِهٖ فَاِنِّيْ رَاَيْتُ فِيْ الْمَنَامِ اَنِّيْ فِيْ حَوْمَةِ مَاءٍ قَدْخَشِيْتُ الْغَرْقَ فَخَلَّصْتَنِيْ مِنْهُ يَا عُمَرُیعنی میں   آپ کی اِطاعت کرنے کے لیے تیار ہوں   اور میں   اِس بات پر عمل کروں   گا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا ،  کیونکہ آج رات میں   نے خواب دیکھا کہ میں   گہرے پانی میں   ہوں   اور مجھے ایسے لگا جیسے میں   اِس میں   ڈوب جاؤں   لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے ڈوبنے سے بچالیا۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ صدیقی میں   حاضر ہوئے اور سارامعاملہ اُن کے سامنے پیش کردیا نیز یہ بھی عرض کیا کہ حضور میں   اِس مال میں   سے ذرہ برابر نہ چھپاؤں  گا  ، لیکن سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ سے کچھ نہ لیا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آپ سے بہت خوش ہوگئے۔ بعدازاں   آپ دوبارہ شام چلے گئے۔([2])

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالاروایت سے جہاں   امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عشقِ رسول واِتباعِ رسول کا پتا چلتا ہے وہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عزت وعظمت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ نہ صرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عہدِ مبارکہ میں   تائید وتوثیق حاصل ہوتی تھی بلکہ عہدِ صدیقی میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لوگوں   کی تائید وتوثیق حاصل ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کے مطابق عمل نہ کیا لیکن اُن کے خواب نے اُن پر روشن کردیا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کی اِطاعت کی جائے۔یہی وجہ ہے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ رسالت میں   یہی حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے ماتحت امیر رہے اور نمایاں   کارنامے سرانجام دیے۔

سیِّدُنا ابو مسلم خولانی کے متعلق فراستِ فاروقِ اعظم:

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصالِ ظاہر ی کے بعد مختلف فتنوں   نے سر اٹھایا ،  جن میں   بعض فتنے وہ تھے جن کا تعلق اِرتداد یعنی دین سے پھرجانے کا تھا ،  انہیں   مرتدین میں   یمن کا ایک شخص اَسود عنسی بھی تھا([3]) ،  اِس نے مسلمانوں   پر بے شمار ظلم وستم ڈھائے۔ جن میں   سے حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا واقعہ نہایت ہی پرسوز ہے ،  اِس میں   آپ عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی کرامت اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی شان واضح ہوتی ہے۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا اِمام ذَہبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ اَسود عنسی نے مرتد ہونے کے بعد مسلمانوں   پر ظلم وستم شروع کردیے ،  اُس نے ایک بہت بڑی آگ جلائی اور حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کو بلایا  ،  پھر اُنہیں   اُس میں   ڈال دیا ،  لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظر رحمت سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ یہ دیکھ کر لوگوں   میں   اُن کا بہت ہی اچھا تاثر قائم ہوگیا اور اَسود عنسی کو لوگ جھوٹا سمجھنے لگے۔ اَسود عنسی کے قریبی ساتھیوں   نے اُس سے کہا:   ’’ اگر تونے اُن کو یہاں   سے نہ نکالاتو تیرے متبعین تیرے ہی خلاف فساد برپا کردیں   گے۔ ‘‘  یہ سن کر اَسود عنسی نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو یمن سے نکال دیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سیدھا مدینہ منورہ تشریف لے آئے ،  اپنی سواری



[1]   المنتظم ،  ذکر خبر ردۃ الیمن ،  ج۴ ،   ص۸۷۔

[2]   الاستیعاب  ،  معاذ بن جبل الخزرجی ،  ج۳ ،  ص۴۶۱۔

[3]   اَسود عنسی کے خلاف سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جہاد کی تفصیلات پڑھنے کے لیے دعوت اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۳صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   صفحہ۳۹۰کا مطالعہ کیجئے۔



Total Pages: 349

Go To