Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  خود باہر تشریف لائے اور لشکر کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے اسے آگے تک چھوڑ کے آئے۔([1])

علم وحکمت کے مدنی پھول:

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اگرچہ لشکر کے امیر حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے لیکن انہیں   بھی یہ معلوم تھا کہ جس طرح رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  بات کرنے کی ہمت کیا کرتے تھے اسی طرح سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   صرف فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی بات کرسکتے ہیں   ،  یہی وجہ ہے کہ آپ نے دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی موجودگی میں   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اپنا مدعا بارگاہِ صدیقی میں   پیش کرنے کی عرض کی۔

٭…انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا اپنی بات فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے ذریعے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   پہنچانا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اَمیر لشکر سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی نہیں   بلکہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اِس بات سے آگاہ تھے کہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی ہیں   جو ہماری گفتگو دربارِ صدیقی میں   پہنچا سکتے ہیں  ۔اِن دونوں   باتوں   سے معلوم ہوا کہ سیِّدُنا فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقام ومرتبہ تمام صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   جانتے اور اِس کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اَوّلاً حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی پوری گفتگو سنی ،  پھر بارگاہِ صدیقی میں   حاضر ہوکر اُسے پیش کیا ،  بعد اَزاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر ناراضگی کا اِظہار کیا۔ اِس سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دو صفات ظاہر ہوئیں  :  ایک تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی محتاط حکمت عملی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے سبب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے غمگین قلوب کو تکلیف نہ پہنچے ،  اسی سبب سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام لوگوں   کی گفتگو کو اطمینان سے سنا اور اسے بارگاہِ صدیقی میں   بھی پہنچایا۔دوسرا خلیفۂ وقت کی اِطاعت کہ جب اُنہوں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِتباع میں   لشکر اُسامہ کو نہ روکا تو ہمیں   بھی چاہیے کہ خلیفۂ وقت کی اِطاعت کریں   اور فوراً روانہ ہوجائیں   یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ صدیقی سے واپس آئے تو لشکر کو چلنے کا حکم فرمایا۔

٭…نیز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک عمل سے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ نگران وامیر اگرچہ عمر میں   چھوٹا ہو لیکن اُس کی اِطاعت کی جائے گی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مانعین زکوۃ کے بارے میں   فاروقِ اعظم کی گفتگو:

خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دورِ خلافت جیسے ہی شروع ہوا مختلف فتنوں   نے سر اُٹھانا شروع کردیا ،  کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصال کے بعد کفار اِس خوش فہمی میں   مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مسلمانوں   کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،  کہیں   کوئی قبیلہ مرتد ہوگیا تو کہیں   منکرین زکوۃ پیدا ہوگئے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضل وکرم اور مضبوط حکمت عملی کے ساتھ اِن فتنوں   کا بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی ڈَٹ کر مقابلہ کیا اور بالآخر عرب شریف کو اُن فتنوں  سے پاک فرمادیا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مُنکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کا اِرادہ فرمایا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کے اِس فعل سے تشویش کا اظہار کیا اور بعد میں   تسلی پائی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ ظاہری کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مرتدین ومانعین زکوٰۃ کے خلاف قتال کا اِرادہ فرمایا  ،  چونکہ بظاہر تو یہ لوگ مسلمان تھے اِس لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اَپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین! آپ لوگوں   سے کس طرح قتال کریں   گے حالانکہ حالانکہ شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ فرمایا ہے : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں   لوگوں   سے قتال کروں   حتی کہ وہ یہ کہیں   لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پس جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو محفوظ کرلیا سوااس کے جو اس پر اسلام کا حق ہو اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ ‘‘ 

٭…یہ سن کر خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ وَاللّٰهِ لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اُن لوگوں   سے ضرور جہاد کروں   گا جو نماز اور زکوۃ کے مابین فرق کریں   گے۔کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر وہ زکوٰۃ میں   بکری کا ایک بچہ بھی نہ دیں   جسے وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بطورِ زکوٰۃ دیا کرتے تھے تو بھی میں   اُن سے جہاد کروں   گا۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِرشاد فرماتے ہیں  :   ’’ فَوَاللّٰهِ مَا هُوَ اِلَّا اَنْ قَدْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَ اَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ اَنَّهُ الْحَقُّیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ کلام اِس لیے فرمارہے تھے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُن کا سینہ اِس معاملے میں   کھول دیا تھا اور میں   نے بھی جان لیا کہ جو آپ فرمارہے ہیں   وہی حق ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم نے محبت سے سرچوم لیا:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   صفحہ ۳۶۶پر ہے:   ’’ حضرت ابو رجاء عمران عطاردی عَلَیْہِ رَحمَۃُ



[1]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۲۴۶۔

[2]   بخاری ،  کتاب الزکاۃ ،  باب وجوب الزکاۃ ،  ج۱ ،  ص۴۷۲ ،  حدیث: ۱۳۹۹ ،  ۱۴۰۰۔



Total Pages: 349

Go To