Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وہاں   موجود سب لوگوں   نے بیعت کی۔سقیفہ کی بیعت کے بعد یہ پہلی بیعت عامہ تھی۔([1])

اللہ کی قسم! ہم آپ کی بیعت نہ توڑیں   گے:

            حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   حاضر ہوئےکیا دیکھتے ہیں  کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی زبان پکڑ کر فرمارہے ہیں  :  ’’  اسی نے مجھے مصائب میں   مبتلا کیا ہے۔ ‘‘   پھر حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر!مجھے تمہاری اَمارت کی کوئی حاجت نہیں  ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:   ’’ اللہکی قسم !ہم نہ آپ کی بیعت توڑیں   گے نہ ایسا مطالبہ کریں   گے۔‘‘  ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم صدیق اکبر کے وزیرومشیر:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوری زندگی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ گزاری تھی ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مشاورت فرماتے رہتے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وزیرومشیر خاص کی حیثیت حاصل تھی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ نبوی سے یہی تربیت لی تھی کہ بغیر مشورے کے کوئی کام کیا جائے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں   ہوتا ،  جبکہ مشورے سے جو کام کیا جائے اس کے فوائد کہیں   زیادہ ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ کوئی بھی کام بغیر مشورے کے نہ کرتے تھے ،  اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تمام صحابہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا وزیر اور مشیر مقرر فرمایا اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی مشاورت فرمایا کرتے تھے۔([3])

لشکر اُسامہ بن زید کے بارے میں   فاروقِ اعظم کی گفتگو:

حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَپنے آخری ایام میں   حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کمانڈ میں   ایک لشکر روانہ فرمایا ،  جب یہ لشکر جرف کے مقام پر پہنچا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وِصال ظاہری ہوگیا۔ اِس لشکر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی موجود تھے۔چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا ابو الحسن بصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کمانڈ میں   بھیجا ہوا لشکر جب مقامِ جُرُف پر جاکر رک گیا اور اُنہیں   معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا وِصال ہوگیا ہے تو امیر لشکر حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   عرض کیا :   ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   جائیے اور اُن سے اِس بات کی اجازت لیجئے کہ میں   لشکر کو واپس مدینہ منورہ لے آؤں   ،  کیونکہ تمام اَکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تو میرے ساتھ ہیں   اور مجھے اِس بات کا خدشہ ہے کہ خلیفۂ رسول اللہ  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تمام مسلمانوں   کی تکلیف سے اَمن میں   نہیں   ہوں   کہ کہیں   مشرکین اُنہیں   کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں  ۔ ‘‘ 

ساتھ ہی اَنصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا:   ’’ اگر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس بات کو تسلیم نہ فرمائیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہماری طرف سے یہ پیغام دے دیجئے گا کہ حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو نہایت ہی کم عمر ہیں   ،  آپ کسی بڑی عمر کے تجربہ کار صحابی کو ہمارا امیر لشکر مقرر فرمادیجئے۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ دونوں   پیغام لے کر سیدھا امیر المؤمنین  ،  خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   پہنچے اور سب سے پہلے سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا پیغام سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   پیش کیا۔ پیغام سن کر سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَوْخَطَفَتْنِي الْكِلَابُ وَالذِّئَابُ لَمْ اَرُدَّ قَضَاءً قَضٰى بِهٖ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی اگر کتے اور بھیڑیئے مجھے نوچ ڈالیں   تب بھی میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو فیصلہ فرمادیا ہے اسے تبدیل نہیں   کرسکتا۔ ‘‘ 

پھر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انصار کا پیغام پہنچایا کہ وہ حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جگہ کوئی پختہ عمر کا امیر لشکر چاہتے ہیں  ۔ یہ سننا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی مبارکہ پکڑ کر ارشاد فرمایا:   ’’ ثَكَلَتْكَ اُمُّكَ وَعَدَمَتْكَ يَا بْنَ الْخَطَّابِ اِسْتَعْمَلَهُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَاَمَّرَنِيْ اَنْ اَنْزِعَهُیعنی اے عمر! تمہاری ماں   تمہیں   روئے اور تمہیں   گم کردے ،  حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود امیر لشکر بنایا ہے اور تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میں   ان کو ہٹا کے کسی اور کو امیر بنادوں  ۔ ‘‘ 

پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں   واپس تشریف لائے تو لوگوں   نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ نکل چلو! تمہاری مائیں   تمہیں   روئیں   کہ میں   نے تمہاری وجہ سے خلیفۂ رسول اللہ سے ایسی ملاقات کی جس میں   انہوں   نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ‘‘   بعد ازاں   حضرت



[1]   صحیح ابن حبان  ، اخبارہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔الخ ،    ذکر الخبر المدحض۔۔۔الخ ، الجز: ۹ ،  ج۶ ،  ص۱۵ ،  حدیث: ۶۸۳۶۔

[2]   ریاض النضرۃ ، ج۱ ، ص۲۵۱۔

[3]   ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۸۳ماخوذا۔



Total Pages: 349

Go To