Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

نہیں   رہ سکتیں   اِسی طرح مسلمانوں   کے دو خلیفہ ایک ساتھ نہیں   ہوسکتے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ تھام کرارشاد فرمایا:  ’’ جو تین خصلتیں   اِنہیں   حاصل ہیں   وہ کسی اور کو حاصل نہیں  :  (۱) اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ (۲)اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ(۳) اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۔یہ تین خصوصیات (یعنی یار غار ہونا ،  رسول اللہ کا صاحب ہونا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معیت کا ہونا)کس میں   ہیں  ؟ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کرلی اور لوگوں   سے فرمایا:  ’’ تم بھی اِن کی بیعت کرو۔ ‘‘  تو تمام لوگوں   نے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کرلی۔([1])

ایک امیر اَنصار سے ،  ایک مہاجرین سے:

حضر ت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا وِصال مبارک ہوا تو اَنصار نے کہا:  ’’  مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ ایک امیر ہم میں   سے اور ایک امیر تم میں   سے ہوگا۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاُن کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:  ’’ اے اَنصار! کیا تم نہیں   جانتے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو لوگوں   کی اِمامت کرانے کا حکم دیا تھا۔اب بتاؤ تو سہی! کہ تم میں   سے کون ہے جس کا دل یہ پسند کرتاہو کہ وہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آگے کھڑا ہو؟ ‘‘   انصار نے کہا:   ’’ خدا کی پناہ! ہماری کیا جرأت کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آگے کھڑے ہوں  ۔ ‘‘  ([2])

واضح رہے کہ حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دو(۲) طرح بیعت کی گئی: (۱) بیعت خاصہ (۲)  بیعت عامہ۔بیعت خاصہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں   موجود مخصوص لوگوں   نے کی تھی جن میں   سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پر بیعت کی اور خود ہی اُسے بیان بھی فرمایا۔چنانچہ ،

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی بیعت:

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ’’ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیان کے بعد اِس سے پہلے کہ لوگ انتشار کا شکار ہوتے ، میں   نےحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی:   ’’ اپنا ہاتھ بڑھائیں  ۔ ‘‘  انہوں   نے ہاتھ بڑھایا میں   نے بیعت کی ،  مجھے دیکھ کر سب مہاجرین نے بیعت کرلی اور پھر اَنصار بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر ٹوٹ پڑے اور وہاں   پرموجودتقریباً سب ہی لوگوں  نے بیعت کرلی۔ ‘‘  ([3])

سب سےزیادہ متفقہ بات:

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ’’ خدا کی قسم! ہم نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت سے زیادہ متفقہ بات کوئی نہ دیکھی۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کانصیحت آموز خطبہ:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن عبا س رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرتسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار منبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ کوئی شخص اس دھوکہ میں   نہ رہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت عجلت (جلدی) میں   کرلی گئی تھی۔ سن لو بے شک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت میں   کوئی شر نہ تھا اور آج تم میں   حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجیسا کوئی شخص نہیں   جس کے لیے لوگ اپنی گردنیں   جھکانے پر تیار ہوں   ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصال کے بعد ساری اُمت میں   سب سے بہتر آپ ہی تھے۔  ‘‘  ([5])

معاملات خلافت کے زیادہ حقدار:

حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خطبہ دیتے ہوئے یہ فرماتے سناکہ  ’’ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ معاملات خلافت کے زیادہ حقدارہیں   لہٰذا آگے بڑھو اور اِن کی بیعت کرو۔ ‘‘  چنانچہ وہیں   اُسی مجلس میں   مسلمانوں   کی ایک جماعت نے اُن کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اور بیعت عامہ کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمنبر پر تشریف فرماہوئے۔([6])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کا ایک اور خطبہ:

حضرت سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے جس روزسقیفہ بنی ساعدہ میں  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی گئی ،  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک خطبہ دیا۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثنا کے بعد اِرشادفرمایا:   ’’ اے لوگو! میں   نے کل تمہیں   ایک بات کہی تھی جو نہ میں   نے کتاب اللہسے لی ہے اور نہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی عہد اور وصیت سے۔ البتہ میں   نے دیکھا کہ رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس(یعنی خلافت ابو بکر صدیق)کی طرف اِشارہ فرمایاہے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے درمیان نورِ ہدایت رکھ دیا ہے جس سے تم ہدایت پاتے ہو۔اگر اُسے مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو ہدایت یافتہ رہو گے۔ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہاری حکومت کا معاملہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں   دیا ہے ،  جونبیٔ کریم  ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےجانثار ساتھی ،  ثانی اثنین اور سب سے بڑھ کرخلافت کے حق دار ہیں  ۔ لہٰذااُٹھو اور اِن کی بیعت کرو۔ ‘‘   



[1]   سنن کبری للنسائی ، کتاب المناقب ،  فضل ابی بکر الصدیق ،  ج۵ ،  ص۳۷ ،  حدیث: ۸۱۰۹۔

[2]   سنن کبری للنسائی ،  کتاب الامامۃ ،  باب ذکر الامامۃ والجماعۃ ،  ج۱ ،  ص۲۷۹ ،  حدیث: ۸۵۳۔

[3]   بخاری  ، کتاب المحاربین من اھل الکفر۔۔۔الخ ، رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت ،  ج۴ ،  ص۳۴۶ ،  حدیث: ۶۸۳۰ملتقطا۔

[4]   بخاری ،  کتاب المحاربین من اھل الکفر۔۔۔الخ ،  باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت ،  ج۴ ،  ص۳۴۶ ،  حدیث: ۶۸۳۰ملتقطا۔

[5]   بخاری ،  کتاب المحاربین ،  باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت ،  ج۴ ،  ص۳۴۴ ،  حدیث: ۶۸۳۰ ملتقطا۔

[6]   بخاری ،  کتاب الاحکام ،  باب الاستخلاف ،  ج۴ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۷۲۱۹ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To