Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   عالم اسلام کے سب سے پہلے قاضی

سیِّدُنا صدیق اکبر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور خلافت فاروقِ اعظم

٭…٭…٭…٭…٭…٭

فاروقِ اعظم عَہْدِ صِدِّیْقِی میں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہری کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہدِ خلافت شروع ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے جس طرح عہدِ رسالت میں   عظیم کردار اَدا کیا اِسی طرح عہدِ صدیقی میں   بھی لا جواب کردار پیش کیا۔ خصوصاً امیر المؤمنین ،  خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی خلافت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بہت ہی اعلیٰ کردار ادا کیا ،  کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہر ی کے بعد مسلمانوں   کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ایک ایسے عظیم رہنما کا تھا جو اُن کی ہر ہر معاملے میں   رہنمائی کرتا۔ اِس لیے مہاجرین واَنصار میں   معمولی سا اِختلاف بھی واقع ہوا۔ اِس دوران کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں  ۔

فاروقِ اعظم اور بیعت صدیق اکبر

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد مہاجرین وانصار پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جو سب سے پہلی فضیلت ظاہر ہوئی وہ یہ کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نامِ نامی خلافت کے لیے پیش کردیا۔ چنانچہ ،

خلافت کے لیے فاروقِ اعظم کو پیش کردیا:

سقیفۂ بنی ساعدہ میں   جہاں   مہاجرین واَنصار جمع تھے ،  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب کے سامنے ایک فصیح وبلیغ خطبہ دیا جس میں   اَوّلاًمہاجرین کے ایسے فضائل بیان فرمائے جن سے انہیں   ایسے لگا کہ خلیفہ مہاجرین ہی میں   سے ہوگا ،  بعدمیں   اَنصار کے ایسے فضائل بیان فرمائے جن سے سامعین نے محسوس کیا کہ ایسا خلیفہ اَنصار ہی میں   سے ہوگا۔ لیکن اِس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک وجہِ ترجیح بیان فرمائی کہ چونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مشکل وقت میں   مہاجرین نے اِن کا ساتھ دیا  ،  کفارِ مکہ کا مقابلہ کیااِس لیے خلافت کے حق دار یہی ہیں  ۔لیکن اَنصار کی مدد سے یہ باتیں   ممکن ہوئیں   ،  اِس لیے اَنصار کی مشاورت کے بغیر خلیفہ کا تقرر نہیں   ہوگا۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس طرح کی وجوہِ ترجیح بیان فرمائیں   تو تمام مہاجرین واَنصار کا اِختلاف دور ہوگیا اور ایک نہایت ہی پیاری فضا قائم ہوگئی۔ ہوسکتا تھا کہ کسی کے ذہن میں   یہ خیال پیدا ہوتا کہ شاید سیِّدُنا صدیق اَکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ راستہ اَپنے لیے ہموار کیا ہو۔ لہٰذا اِس وسوے کی کاٹ کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اَور حضرت سیِّدُنا اَبوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑ کر اِرشادفرمایا:  ’’  قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ اَحَدَ هٰذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا اَيَّهُمَا شِئْتُمْیعنی میں   آپ لوگوں   کے سامنے دو ۲قریشی ہستیوں  کو پیش کرتا ہوں   آپ لوگ دونوں  میں   سے جس کی چاہو بیعت کرسکتے ہو۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے یہ نہایت ہی شرف کی بات تھی کہ سیِّدُنا اَبوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو خلافت کے لیے پیش کیا تھا ،  لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اَچھی طرح جانتے تھے کہ سیِّدُنا اَبوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ عظیم ہستی ہیں   جنہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیاتِ طیبہ میں   ہی اِشارۃً اِس چیز کے لیے نامزد فرما دیا تھا ،  لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   :   ’’ کَانَ وَاللّٰهِ اَنْ اُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ اِثْمٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اَتَاَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ اَبُو بَكْرٍیعنی خدا کی قسم! اُس دن بغیر کسی گناہ کے میری گردن کا اُڑا دیا جانا مجھے اِس سے کہیں   بہتر نظر آتا تھا کہ حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکےحدیث ہوتے ہوئے میں   لوگوں   پر خلیفہ وحاکم بنوں۔‘‘  ([1])

بیعت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائیے:

حضرت سیِّدُنا محمدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا:  ’’ اُبْسُطْ يَدَكَ نُبَايِعْ لَكَیعنی آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:  ’’ اَنْتَ اَفْضَلُ مِنِّيْیعنی آپ مجھ سے افضل ہیں  ۔ ‘‘   آپ نے جواب دیا:  ’’ اَنْتَ اَقْوٰى مِنِّيْیعنی اے عمر! آپ مجھ سے زیادہ توانا اور طاقت ور ہیں  ۔ ‘‘   اور باربار یہی فرماتے رہے توحضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:   ’’ فَاِنَّ قُوَّتِيْ لَكَ مَعْ فَضْلِكَ یعنی آپ کی فضیلت کے ساتھ میری قوت بھی آپ کے ساتھ ہے۔ ‘‘  ([2])

ایک نیام میں   ایک ساتھ دو تلواریں   نہیں   رہ سکتیں  :

جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسقیفہ بنی ساعدہ میں   تشریف لے گئے اور وہاں   موجود بعض لوگوں   نے مختلف اِعتراضات وتحفظات پیش کیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِن کا بہترین جواب ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ،

اَصحاب صفہ میں   سےایک صحابی حضرت سیِّدُنا سالم بن عبیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اَنصارنے جب یہ بات کہی کہ ’’ دوامیر بنالیے جائیں   ایک مہاجرین کا اور ایک اَنصار کا۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس بات کا بطریق اَحسن ایک ہی جملے میں  جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ جس طرح ایک نیام میں   دو تلواریں   ایک ساتھ



[1]   بخاری  ، کتاب المحاربین۔۔۔الخ ، باب رجم الحبلی من الزنا۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص ۳۴۶ ،   حدیث: ۶۸۳۰ملتقطا۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر صفۃ ابی بکر ،  ج۳ ،  ص۱۵۸۔



Total Pages: 349

Go To