Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…اے فاروق ! اب تمہارے ناز کون اٹھائے گا۔۔۔؟

٭…اے فاروق! اب تمہیں   کون شفقت ورحمت بھری نظروں   سے دیکھے گا۔۔۔؟

٭…اے فاروق! اب تم کس سے اپنے معاملات کی مشاورت کرو گے۔۔۔؟

شاید یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کیفیت کو برداشت نہ کرسکے اور بعض روایات کے مطابق تلوار نکال کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی نے کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وصال فرماگئے تو اُس کی گردن اڑا دوں   گا۔([1])یقیناً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جو کیفیت طاری تھی وہ اِنہی جذبات کا تقاضا کرتی تھی ،  یہ تو سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   جیسے دوست کی رفاقت تھی جس نے فصیح وبلیغ خطبے کے ذریعے اِن جذبات کو تسکین پہنچائی۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر کروڑیں   رحمتیں   نازل ہوں  ۔                                                                  آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رسول اللہ کی وفات کب ہوئی۔۔۔؟

اعلیٰ حضرت  ، امام اہلسنت ،  مجدددین وملت ، حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں   ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ قول مشہور ومعتمدِ جمہور دوازدہم (یعنی بارہ) ربیع الاول شریف ہے ،  ابن سعد نے طبقات میں   بطریق عمر بن علی مرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاامیر المؤمنین مولی علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت کی:

 

 مَاتَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ لِاِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ مَضَتْ مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ یعنی حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی وفات شریف روز دو شنبہ (پیرشریف) بارہویں   تاریخ ربیع الاول شریف کو ہوئی۔ ‘‘ 

مزید فرماتے ہیں  :  ’’ اور تحقیق یہ ہے کہ(تاریخ وفات)حقیقۃً بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں   تھی ،  مدینہ طیبہ میں   رؤ یت نہ ہوئی لہٰذا اُن کے حساب سے بارھویں   ٹھہری۔وہی رُواۃ نے اَپنے حساب کی بنا پر روایت کی اور مشہور ومقبول جمہور ہوئی۔ ‘‘  ([2])

اہم وضاحتی مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تاریخ وصال میں   بعض علمائے اہلسنت کا اختلاف بھی مذکور ہے۔لیکن تاریخ وصال جوبھی ہو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات پر سوگ کسی صورت نہیں   منایا جائے گا کہ سوگ تین دن سے زیادہ حلال نہیں   سوائے اس عورت کے جس کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہو کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہے۔چنانچہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ حبیبہ و اُمّ المومنین حضرت سیدتنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور پرنور ،  شافع یوم النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمايا:   ’’ جو عورت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ،  اُسے یہ حلال نہیں   کہ کسی میّت پر تین راتوں   سے زیادہ سوگ کرے ،  مگر شوہر پر کہ چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ ‘‘  ([3])

خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یوم ولادت بارہ ربیع الاول شریف ہے اور دنیا بھر کے عشاقانِ رسول اِس مبارک تاریخ کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یوم میلاد بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں   ،  واضح رہے کہ ولادت پر خوشی منانے کا شرع میں   کوئی وقت مقرر نہیں   ہے ،  ولادت کی خوشی کسی بھی دن ،  کسی بھی وقت قیامت تک منائی جاسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض عشاق تو پورا سال ہی میلاد مناتے رہتے تھے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گیارہواں  باب

فاروقِ اعظم عھد ِ صدیقی میں

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی عَہْدِ صِدِّیْقِی میں   خدمات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا صدیق اکبر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   کی بیعت

سیِّدُنا صدیق اکبر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلافت کے لیےپیش کر دیا۔

اپنا ہاتھ بیعت کے لیے بڑھائیے۔

ایک نیام میں دو تلواریں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا نصیحت آموز خطبہ

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بحثیت وَزیر و مُشیر صدیق اکبر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

 



[1]   مدارج النبوۃ ،  ج۲ ،  ص۴۳۳۔

[2]   فتاویٰ رضویہ ،  ج۲۶ ، ص۴۱۵۔۴۱۷۔

[3]   بخاري ،  کتاب الجنائز ،  باب حد المرأۃ علی غیر زوجھا ،  ج۱ ،  ص۴۳۳ ،  حدیث:  ۱۲۸۱ ، ۱۲۸۲۔



Total Pages: 349

Go To