Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے قبضے میں   ہوا ایسی کردی جس کے ذریعے صبح وشام میں   ایک ایک مہینے کا فاصلہ طے کیا جاسکتا تھا اور اِس سے بھی عجیب تر آپ کا براق تھا جس پر آپ نہ صرف ساتویں   آسمان تک پہنچے بلکہ نماز فجر وادیٔ اَبطح میں   اَدا فرمائی۔

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! اگر حضرت سیِّدُنا عیسی بن مریم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُردے زندہ کرنے کا معجزہ عطا فرمایا تو اِس سے زیادہ تعجب خیز معاملہ یہ ہے کہ زہر آلود بھنی ہوئی بکری کے شانے نے آپ سے کلام کیا اور عرض کیا:  مجھے تناول نہ فرمائیے کیونکہ مجھ میں   زہر ملایا گیا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اَپنی قوم کے خلاف دعا کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس طرح بیان فرمایا:  (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا(۲۶))  (پ۲۹ ،  نوح: ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے میرے رب! زمین پر کافروں   میں   سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ ‘‘  اگر آپ بھی اُسی کی مثل بارگاہِ الٰہی میں   التجا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے ،  آپ کی پیٹھ مبارکہ کو تکلیف دی گئی ،  رُخِ اَنور کو لہو لہان کیا گیا ،  دندانِ مبارک (کےکچھ حصے)شہید کیے گئے ،  لیکن آپ نے اُن کے لیے بھلائی ہی مانگی اور بارگاہِ الٰہی میں   یوں   عرض کی:  اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے قوم کے لوگوں   کو معاف فرما دے یہ مجھے نہیں   جانتے۔ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! آپ کی عمر مبارک اور زمانہ تبلیغ کم لیکن آپ پر ایمان لانے والوں   کی تعداد زیادہ ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر اور زمانہ تبلیغ زیادہ لیکن اُن پر ایمان لانے والوں   کی تعداد کم رہی۔

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! اگر آپ اپنے ساتھ صرف اپنے برابر کے لوگوں   کو بٹھاتے تو ہمیں   نہ بٹھاتے ،  اگر آپ اپنے برابر کے لوگوں   میں   شادی کرنا چاہتے تو ہمارے خاندان میں   آپ کا نکاح نہ ہوتا ،  اگر آپ اپنے برابر کے لوگوں   کے ساتھ کھانا کھانا چاہتے تو ہمارے ساتھ نہ کھاتے ،  لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ نے ہمیں   اپنی ہم نشینی کا شرف بخشا ،  ہمارے خاندان میں   شادی کی ،  ہمیں   کھانے میں   ساتھ بٹھایا ،  اُون کا لباس زیب تن فرمایا ،  دراز گوش کو سواری بنایا ،  سواری پر اپنے پیچھے دوسروں   کو بٹھایا ،  زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا ،  بطورِ تواضع اپنی انگلیاں   چاٹیں  ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کے صدمے کی کیفیت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب ،  ہم گنہگاروں   کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات ظاہری کا تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بہت شدید صدمہ پہنچا ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر تو آپ کے غم کی کچھ عجیب ہی کیفیت تھی۔کیونکہ

٭آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وہ جانثار ساتھی تھے جو خود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا کے سبب ایمان لائے تھے۔

٭آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراز وہم نشین تھے۔

٭ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ اوّلین شخصیت تھے جنہیں   پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان حق ترجمان سے  ’’ فاروق ‘‘   کا لقب عطا ہوا۔

٭ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِسلام کی تبلیغ کو اپنی حیات کا جزء لازمی بنا رکھا تھا۔

٭ آپ ہروقت ناموس رسالت پر اپنی جان لٹانے کے لیے حاضر خدمت رہا کرتے تھے۔

٭آپ کی تلوار ناموس رسالت کے دشمنوں   کے لیے ہر وقت نیام سے باہر آجاتی تھی۔

٭آپ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ملال کے وقت آپ کی دل جوئی کی کوششیں   کرتے تھے۔

٭آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات  ،  آل اولاد ،  عزت وناموس اور آپ کے اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کے محافظ تھے۔

٭آپ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   علمی سوالات کرنے کی سعادت پاتے تھے۔

خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات مبارکہ کے ساتھ آپ کے اِن تمام گہرے رشتوں   کے سبب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ مبارکہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو صدمے سے چور چور کر دیا تھا ، تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اَشک بارتھے ،  ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کائنات کے ذرے ذرے نے وصالِ محبوب کو محسوس کیا  ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر عجیب کیفیت طاری تھی ایسا لگتا تھا ہرچیز آپ سے پوچھ رہی ہو:

٭…اے فاروق! کیا تم اپنے محبوب کے بغیر زندہ رہ پاؤ گے۔۔۔؟

٭…اے فاروق! اب صبح وشام کس کے رُخِ انور کی زیارت کرو گے۔۔۔؟

٭…اے فاروق! اب تم کس کی بارگاہ سے علمی سوالات پوچھا کرو گے۔۔۔؟

٭…اے فاروق! اب تم اپنے دل کی باتیں   کس سے کیا کرو گے۔۔۔؟

٭… اے فاروق! اب تم کس کی دل جوئی کرو گے۔۔۔؟

 



[1]   احیاء العلوم ، ج۱ ، ص۹۲۶۔



Total Pages: 349

Go To