Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بارگاہِ رسالت میں   صدیق وفاروق کا سلام:

حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن حارث تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ جب دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کفن دے دیا گیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جسدِ مبارک چارپائی پر رکھ دیا گیا تو شیخین کریمین یعنی سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  اندر داخل ہوئے اور یوں   سلام عرض کیا:   ’’  اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہ وَبَرَكَاتُهُ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! آپ پر سلام ہو ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اُس کی برکتیں   نازل ہوں  ۔ ‘‘  اور اِن دونوں   کے ساتھ اتنے مہاجرین وانصار تھے کہ سارا کمرہ بھر گیااُن سب نے صفیں   بنالیں   اور کوئی امام نہ تھا ،  پھر اُن سب نے بھی شیخین کریمین کی طرح سلام عرض کیا۔شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  پہلی صف میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف منہ کرکے کھڑے تھے ،  عرض کرنے لگے:  

٭… ’’ اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَشْهَدُ اَنْ قَدْ بَلَغَ مَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم اِس بات کی گواہی دیتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم تک وہ تمام باتیں   اچھی طرح پہنچادی ہیں   جو اُن پر نازل کی گئی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَنَصَحَ لِاُمَّتِه وَجَاهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللہ حَتّٰى اَعَزَّ اللہ دِيْنَهُ اور اِنہوں   نے اپنی امت کو اچھی طرح نصیحت کی ،  راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں   ایسا جہاد کیاکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے دین کو عزت عطا فرمائی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَتَمَّتْ كَلِمَاتُهُ فَآمِنُ بِه وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُاور رب عَزَّ وَجَلَّ کا کلام تمام ہوگیا ،  پس میں   اِس پر ایمِان لاتاہوں    ،  وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَاجْعَلْنَا يَااِلٰهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهُ یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   اُن لوگوں   میں   سے بنا دے جو اُس قرآن پاک کی اتباع کرنے والے ہوں   جو تونے اِن پر نازل فرمایا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَتّٰى يَعْرِفَنَا وَنَعْرِفَهُ اور ہمیں   اور انہیں   ملا دے کہ وہ ہمیں   پہچان لیں   اور ہم انہیں   پہچان لیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَاِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُفاً  رَّحِيْماً کیونکہ یہ مؤمنوں   پر بہت مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ لَانَبْتَغِيْ بِالْاِيْمَانِ بَدْلًاوَلَا نَشْتَرِيْ بِه ثَمَناً اَبَداً  یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم ایمان کا بدلہ نہیں   چاہتے اور نہ ہی کسی قیمت پر اسے فروخت کرنا چاہتے ہیں  ۔ ‘‘ 

اِس دعا پر تمام لوگ  ’’ آمین آمین ‘‘   کہنے لگے۔پھر جن لوگوں   نے سلام عرض کردیا تھا وہ باہر نکلتے گئے اور دیگر لوگ اندر آکر سلام عرض کرتے رہے یہاں   تک کہ تمام مردوں   عورتوں   اور بچوں   تک نے سلام عرض کردیا۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسد اطہر کو قبرِ منورمیں   اتار دیا گیا۔([1])

وصالِ محبوب پر فاروقِ اعظم کے دردناک جذبات:

محبوبِ رب ذُوالجلال ،  شہنشاہِ خوش خصال صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصال پُرملال کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فراقِ رسول میں   روتے ہوئے عرض کرنے لگے:  

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! آپ کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ،  جب تعداد میں   اِضافہ ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر بنوایا تاکہ لوگ باآسانی خطبہ سن سکیں    ،  آپ کے فراق میں   اُس تنےنے گریہ وزاری کی تو آپ نے دست مبارک پھیر کر تسلی دی تو وہ چپ ہوگیا ،  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کی جدائی میں   آپ کی اُمت پر اُس تنے سے زیادہ رونے کا حق ہے۔

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! بارگاہِ الٰہی میں   آپ کا مقام اِس قدر بلند ہے کہ اللہ رَبُّ الْعِزَّتْ نے آپ کی اِطاعت کو اپنی اِطاعت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ( مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ )  (پ۵ ،  النساء: ۸۰) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ ‘‘ 

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِس قدر فضیلت ہے کہ آپ کے لیے عفو کی نوید سنائی اور فرمایا:  (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَۚ-لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ) (پ۱۰ ،  التوبۃ: ۴۳) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اللہ تمہیں   معاف کرے تم نے اِنہیں   کیوں   اِذن دے دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! رب تعالی کے ہاں   آپ کو اِس درجہ کی فضیلت حاصل ہے کہ اُس نے آپ کو سب سے آخر میں   مبعوث فرمایا لیکن ذکر سب سے پہلے کیا:  (وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ) (پ۲۱ ،  الاحزاب: ۷) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں   سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم سے۔ ‘‘ 

٭… ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان! آپ نے بارگاہِ الٰہی میں   اِتنی فضیلت پائی ہے کہ جہنمی جہنم کے مختلف طبقات میں   جل رہے ہوں   گے اور آپ کی اِطاعت نہ کرنے پر غم وحسرت کا اِظہار کرتے ہوں   گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن پاک میں   اُسے یوں   بیان فرمایا:  (یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(۶۶)) (پ۲۲ ،  الاحزاب: ۶۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ ہائے! کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔ ‘‘ 

 



[1]   طبقات کبری ،  ذکر الصلاۃ علی رسول اللہ ،  ج۲ ،  ص۲۲۱۔



Total Pages: 349

Go To