Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَالٰی عَنْہ کی اِس رائے کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول فرمایا اور اِرشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! اگر ایسی بات ہے تو اُنہیں   عمل کرنے دو۔ ‘‘  ([1])

حدیث قرطاس میں   بھی ایسا ہی ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تحریر لکھنے کا ارشاد فرمایالیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے رائے پیش کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِس وقت تکلیف میں   ہیں   لہٰذا اِس کی حاجت نہیں   تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اِنکار نہ فرمایا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کی موافقت فرمائی۔

فاروقِ اعظم کی رائے کی صحابہ کرام سے موافقت:

جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی رائے کا اِظہار فرمایا تو وہاں   موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   اوّلاً تھوڑ ا اختلاف ظاہر ہوا لیکن بعد اَزاں   کسی نے بھی اِس معاملے میں   کوئی پیش رفت نہ کی کیونکہ اِس واقعے کے تقریباً تین دن بعد دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دنیا سے پردہ فرمایا اور آخری دن یعنی پیر کے روز تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت کافی بہتر تھی مگر اِن تین دنوں   میں   کسی صحابی نے نہ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اِس بات کا تذکرہ کیا اور نہ ہی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے اِس کا تذکرہ کیا جو اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ ابتدائی اختلاف کے بعدوہاں   موجود تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے سے موافقت کرلی تھی۔

مولاعلی سے فاروقِ اعظم کی رائے کی موافقت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمودیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ ساتھ خود مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے بھی آپ کی رائے کی موافقت ظاہر ہے۔مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  خود اِرشاد فرماتے ہیں   کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

 

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے حکم دیا کہ  ’’ میں   ایک طبق لے کر آؤں   جس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسی چیز لکھ دیں   جس کی وجہ سے آپ کی اُمت آپ کے بعد گمراہ نہ ہو۔ ‘‘  فرماتے ہیں   :  ’’ فَخَشِيْتُ اَنْ تَفُوْتَنِيْ نَفْسُهُ یعنی مجھے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کا خوف تھا۔ ‘‘  لہٰذا میں   نے اِس بات کی ضرورت محسوس نہ کی اور عرض کیا:   ’’ اِنِّىْ اَحْفَظُ وَاَعِيَیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے بیان فرمادیں   میں   اِس کو یاد کرکے محفوظ کرلوں   گا۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:   ’’ اُوْصِىْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ یعنی میں   تمہیں   نماز ،  زکوۃ کی ادائیگی ،  غلاموں   اور باندیوں   کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتاہوں  ۔ ‘‘  ([2])

اِس حدیث مبارکہ سے واضح ہے کہ خود مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  بھی آپ کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے لکھنے کا سامان وغیرہ نہ لائے کیونکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ کے تربیت یافتہ جانثار صحابہ تھے اِن دونوں   کی مدنی سوچ میں   کیسے فرق ہوسکتا تھا جبکہ آپ دونوں   کے عشقِ رسول کی بے شمار روایات سے کتب احادیث میں   موجود ہیں  ۔

فاروقِ اعظم کا رسول اللہ کو تکلیف سے بچانا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ وہ ذات تھی جس نے اپنی پوری زندگی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت اور حفاظت میں   گزار دی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عشق رسول تو ایسا تھا کہ اگر کوئی مسلمان بھی ایسی بات کرتا جس سے آپ کو اذیت رسول کا خدشہ ہوتا تو اُس کی گردن مارنے کے لیے تیار ہوجاتے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اذیت اور تکلیف کسی صورت گوارا نہ تھی یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب تحریر کے لیے سامان طلب فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مشقت میں   پڑنا گوارا نہ کیا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فعل رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شدید محبت اور آپ کو تکلیف سے بچانے کی غرض سے تھا۔

رسول اللہ سے فاروقِ اعظم کا حسن ظن:

امیر المؤمین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حسن ظن تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُس وقت تک وصالِ ظاہری نہیں   فرمائیں   گے جب تک تمام منافقین کو تہہ تیغ نہ کرلیں   اور فارس اور رُوم پر اِسلام کے جھنڈے نہ گاڑ دیں   اوراُن کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر اِس وقت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہیں   لکھا تو کوئی بات نہیں   جب تندرست ہوجائیں   گے تو بعد میں   لکھ دیں   گے ۔ جیساکہ امام ابن سعد واقدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سےر وایت ہے کہ حضورنبی رحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مرضِ وفات میں   اِرشاد فرمایا:   ’’  وَائْتُوْنِيْ بِدَوَاةٍ وَصَحِيْفَةٍ اَكْتُبُ لَكُمْ كِتَاباً لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَهُ اَبَداً یعنی مجھے دوات اور کاغذ لا کر دو میں   تم کو ایسی چیز لکھ کر دوں   گا جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں   ہو گے۔  ‘‘   تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ مَنْ لِفُلَانَةٍ وَفُلَانَةٍ مَدَائِنُ الرُّوْمِ اِنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ حَتّٰى نَفْتَتَحَهَایعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں   فلاں   اور رُوم کے شہروں   کا کیا ہوگا ،  جب تک ہم اُن شہروں   کو فتح نہ کرلیں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس دنیا سے تشریف نہیں   لے جائیں   گے۔ ‘‘  ([3])

 



[1]    مسلم  ، کتاب الایمان  ، الدلیل علی ان من مات علی التوحید۔۔۔الخ ،  ص۳۷ ،  حدیث: ۵۲ ملخصا۔

[2]   مسند امام احمد ،  مسند علی بن ابی طالب ،  ج۱ ،  ص۱۹۵ ،  حدیث: ۶۹۳۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر الکتاب الذی اراد۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۱۸۸۔



Total Pages: 349

Go To