Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ساری پریشانیاں   اور تکلیفیں   دور ہو جایا کرتی تھیں  ۔٭یہی تو وہ مبارک ہستی تھی جس کے مقابلے میں   وہ اپنی آل ،  اولاد ،  گھر بار سب کچھ یہاں   تک کہ اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کیا کرتے تھے۔٭یہی توہ وہ مبارک ہستی تھی جس کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کفار سے جنگ وجدال کرنے لگ جاتے تھے۔

جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے ،  وہ دنیا سے چلا جائے تو سب سے زیادہ دُکھ اُس کے اُن دوستوں   کو ہوتاہے جن کے ساتھ وہ اکثر وقت گزارا کرتا تھا ،  آہ۔۔۔ذرا غور تو کیجئے! حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری پرشیخین کریمین سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کیا حال ہوا ہو گا جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سفروحضر کے ساتھی تھے۔واقعی سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کا یہ پہلو نہایت ہی دردناک ہے ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات طیبہ کے آخری لشکر  ’’ جیش اُسامہ ‘‘   روانہ کرنے سے لے کر سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خلیفہ بننے تک سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ بیسیوں   ایسے واقعات پیش آئے جن سے بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ جیش اُسامہ کو روانہ فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم علیل ہوگئے ،  اِس دوران کئی نمازیں   بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حجرۂ مبارکہ میں   ہی اَدا فرمائیں  ۔ایک بار سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات طیبہ میں   نماز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ چنانچہ ،

رسول اللہ کی موجودگی میں   فاروقِ اعظم کی امامت:

حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زمعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض الموت نے جب شدت اختیار کی ، میں   اُس وقت مسلمانوں   کی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھا ،  حضرت سیِّدُنابلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےنماز کے لیے اَذان دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:   ’’ جاؤ اور کسی سےنماز پڑھانے کے لیے کہہ دو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہباہر آئے تو لوگوں   میں   حضرت سیِّدُنا عمربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہموجود تھے البتہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود نہ تھے ،  لہٰذا انہوں   نے حضرت سیِّدُناعمربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نماز کے لیے عرض کردیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز کی امامت کروائی۔ ‘‘  ۔۔۔الخ۔([1])          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زمعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اَوّلاً سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا اور بعد اَزاں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے حکم حبیب خدا بیان کردیا۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی حیات طیبہ کے آخری اَیام تک صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اُن کے بعد اَمیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ہی سب سے افضل سمجھتے تھے۔

فاروقِ اعظم اور حدیث قرطاس

حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مرضِ وفات کا مشہور واقعہ  ’’ قرطاس ‘‘   کا واقعہ ہے جس میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے وصال ظاہری سے تین روز قبل اِرشاد فرمایا کہ ’’  لاؤمیں   تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں   کہ تم آئندہ بہک نہ سکو۔ ‘‘   اِس حدیثِ قرطاس سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ کے کئی مبارک پہلو واضح ہوتے ہیں  ۔تفصیلی حدیث پاک کچھ یوں   ہے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں   کہ جب رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کا وقت قریب آیا تو آپ کے حجرۂ مبارکہ میں   بہت سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  موجود تھے۔ جن میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی موجود تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:   ’’ هَلُمَّ اَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ یعنی آؤ میں   تمہیں   ایک تحریر لکھ دوں   تاکہ اس کے بعد تم نہ بہک سکو۔ ‘‘  (ایک روایت میں   شانے کی ہڈی لانے کا ذکر ہے) یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے:   ’’ اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللّٰهِ یعنی اِس وقت حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو بیماری کی تکلیف زیادہ ہے تمہارے پاس قرآن ہے وہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان سن کر وہاں   موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   اِختلاف واقع ہوگیا بعض نے کہا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لکھنے کا سامان وغیرہ لے آؤ تاکہ وہ تمہارے لیے تحریر لکھ دیں   ،  جبکہ بعض نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ والا موقف اختیار کیا کہ اِس وقت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حالتِ تکلیف میں   ہیں   لہٰذا اِس اَمر کی حاجت نہیں  ۔ جب اِختلاف زیادہ ہوا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:   ’’ قُوْمُوْا یعنی تم لوگ میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ ‘‘   ([2])

رسول اللہ سے فاروقِ اعظم کی رائے کی موافقت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات طیبہ میں   بھی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ بعض اَوقات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی بات اِرشاد فرماتے تو آپ اُس کے بعد اپنی رائے کا اظہار فرماتے اور بارہا ایسا ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس کی موافقت فرمائی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کو قبول فرمایا۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مشہور حدیث پاک ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں   اپنی نعلین مبارکہ دے کر بھیجا اور اِرشاد فرمایا کہ  ’’ جو دل سے اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اُسے جنت کی بشارت دے دو۔  ‘‘  لیکن حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِس طرح تو لوگ اِسی پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں   گے اور عمل کرنا چھوڑ دیں   گے لہٰذا آپ لوگوں   کو عمل کرنے دیں   ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ



[1]    ابو داود ،  کتاب السنۃ ،  باب فی استخلاف ابی بکر ،  ج۴ ،  ص۲۸۳ ،  حدیث:  ۴۶۶۰۔

[2]    بخاری ،  کتاب المرضی ،  باب قول المریض قوموا عنی ،  ج۴ ،  ص۱۲ ،  حدیث: ۵۶۶۹ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To