Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

جَیْشِ ذَاتُ السَّلَاسِل اور فاروقِ اعظم

٭… ’’ جَیْشُ ذَاتِ السَّلَاسِلْ ‘‘   دراصل  ’’ سریہ عمرو بن عاص ‘‘   ہے۔ جمادی الاولی سن ۸ ہجری میں   حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’  ذَاتُ السَّلَاسِلْ ‘‘   کی مہم پر روانہ کیا گیا۔خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ کو تین سو شیر دل مہاجرین اور اَنصار کی کمان سپرد فرما کر مشرکین کے قبائل قضاعہ ،  عاملہ ،  لخم اور جذام کی سرزنش پر مقرر فرمایا۔

٭… ’’ سَلَاسِلْ ‘‘   کے مقام پر مجاہدوں   کا کفار سے آمنا سامنا ہوا۔مسلمانوں   کے ہاتھوں   وہ قتل ہوئے۔غنیمت سمیت مسلمانوں   کا لشکر مدینہ منورہ واپس آگیا۔ اِس لشکر کے امیر حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔

٭… ’’ سَلَاسِلْ ‘‘  جمع ہے  ’’ سَلْسِلَۃ ‘‘   کی ،  جس کا معنی ہے زنجیر۔اِس جنگ کو  ’’ ذَاتُ السَّلَاسِل ‘‘   کے نام سے اِس وجہ سے تعبیر کیا جاتاہے کہ یہاں   صحراء میں   ریت کے تودے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں   اور وہ زنجیر کی طرح پاؤں   کو جکڑ کر چلنے سے روکتے ہیں  ۔ایک قول یہ ہے کہ  ’’ سَلَاسِل ‘‘   قبیلہ جذام کے علاقے میں   ایک چشمے کا نام ہے جہاں   وہ رہتے تھے ،  یہ  ’’ وادی القریٰ ‘‘   کے آگے مدینہ منورہ سے دس ۱۰میل کے فاصلے پر ہے۔ چونکہ یہ لڑائی اِسی چشمے کے قریب لڑی گئی اِس لیے اِسے  ’’ سَرِیَّۂ ذِاتُ السَّلَاسِلْ ‘‘   کہتے ہیں  ۔ایک وجہ تسمیہ یہ بھی ہےکہ مشرکین نے آپس میں   ایک دوسرے کو باندھ لیا تھا تاکہ کوئی فرد بھاگ نہ جائے اِسے  ’’ سَرِیَّۂ ذِاتُ السَّلَاسِلْ ‘‘   کہتے ہیں  ۔

٭…حجۃ الاسلام ،  عمدۃ المحدثین  ،  رحلۃ الطالبین ،  امام ربانی ،  حضرت علامہ مولانا امام ابو الفضل احمد بن علی بن محمد المعروف ابن حجر عسقلانی رَحمَۃُ  اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی تصریح کے مطابق رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنہی سیِّدُنا  عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ غزوۂ ذات السَّلاسِل ‘‘   میں   اِسی الٰہی فوج کا سردار کیا۔جس میں   سیِّدُنا صدیق اکبر و سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا تھے ۔ ‘‘  ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جیش اُسامہ بن زید اور فاروقِ اعظم

 



[1]    سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۲۰۸ ،   فتح الباری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ ذات السلاسل ،  ج۹ ،  ص۶۳ ،  تحت الحدیث:  ۴۳۵۸۔



Total Pages: 349

Go To