Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تیس ہزار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تھے۔([1])   

٭…اِس غزوۂ تبوک میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

آدھا مال بارگاہِ رسالت میں   پیش کردیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہر غزوے میں   سب سے بڑی سعادت تو یہ ہوتی کہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اُس جنگ میں   شرکت کرتے  ،  مگر غزوۂ تبوک میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مالی تعاون طلب کیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے بڑھ کر اپنا مال پیش کیا۔ چنانچہ  ،

حضرت سیِّدُنا زید بن اَسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   راہِ خدا میں   مال صدقہ کرنے کا اِرشاد فرمایا۔ میرے پاس بھی مال تھامیں   نے سوچا حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر دفعہ اِن معاملات میں   مجھ سے سبقت لےجاتے ہیں   اِس بار زیادہ سے زیادہ مال صدقہ کرکے اُن سے سبقت لے جاؤں   گا۔چنانچہ وہ گھر گئے اورگھر کا سارا مال اکٹھا کیا اُس کے دو حصے کیے ایک گھروالوں   کے لیے چھوڑا اور دوسرا حصہ لے کر بارگاہِ رسالت میں   پیش کردیا۔سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِستفسار فرمایا:  ’’ اے عمر! گھروالوں   کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آدھا مال گھروالوں   کے لیے چھوڑ آیا ہوں  ۔ ‘‘  ([2])

روایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

٭…معلوم ہوا کہ راہِ خدا  میں   خرچ کرنے کے لیے ترغیب دلانا جائز اوررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ثابت ہے۔یقیناً جو مال راہِ خدا میں   خرچ کردیا گیا وہ ہی آخرت کے لیے محفوظ ہوگیا۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی تعمیل کرنے لگے تو آپ کے ذہن میں   یہ مدنی سوچ آئی کہ آج تو میں   سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سبقت لے جاؤں   گا ،  معلوم ہوا کہ نیکیوں   میں   سبقت کرنا یا اِس بات کی خواہش کرنا کہ میں   فلاں   نیکی میں   اپنے فلاں   بھائی سے سبقت لے جاؤں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے عمل سے ثابت ہے۔ واضح رہے کہ عموماً دین کی مالی خدمت کرنے میں   شیطان بھی مداخلت کرکے ریاکاری جیسے موذی مرض میں   مبتلا کردیتاہے ،  نیز وہ مال کہ جسے آخرت کی بہتری کے لیے استعمال کرناتھا ریاکاری کی تباہ کاری کی نذر ہوجاتاہے۔ لہٰذا ہمیشہ اچھی اچھی نیتوں   کے ساتھ نیکیوں   میں   سبقت کی ترکیب بنائیے اور ہرقسم کی دینی معاملات میں   مدد کرنے سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مددونصرت اور حمایت حاصل کرنے کے لیے اُس رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے شیطان کے مکروفریب سے پناہ بھی مانگتے رہیے۔

٭…مذکورہ بالا روایت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان کریمی بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دینی معاملات میں   خرچ کرنے اور نیکیوں   میں   سبقت لے جانے کی کوششوں   میں   مصروف رہا کرتے تھے۔ نیز غزوۂ تبوک کے موقع پر دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کی مالی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ کا بھی بہت بڑا مالی تعاون شامل ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم کی جنگی مہم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ غزوات میں   شرکت کی سعادت حاصل کی بعض جنگوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر بنا کر بھیجاگیااور بعض جنگوں   میں   شریک بنا کر بھیجا تاکہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔چنانچہ ،

٭…سن ۷ ہجری ،  شعبا ن المعظم کے مہینے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ تُرَبَہْ ‘‘   کی مہم پر بھیجا۔ مکہ مکرمہ کے قریب یہ ایک وادی کانام ہے ،  جس کا مکہ مکرمہ سے فاصلہ تقریباً دو۲ روز کی مسافت پر ہے۔ قبیلہ ھوازن کے باقی ماندہ کفار یہیں   مقیم تھے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تیس۳۰ سواروں   کے ہمراہی میں   اِس مہم پر روانہ ہوئے ،  ایک راہنما بھی ہمراہ تھا جس کا تعلق قبیلہ بنو بلال سے تھا۔رات کوچلتے اور دن کو چھپ جاتے لیکن جیسے ہی دشمنوں   کو مسلمانوں   کے اِس قافلے کی خبر ملی تو وہ دُم دبا کر بھاگ گئے  ،  جنگ کی نوبت ہی نہ آئی اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے رُفقاء کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]    البدایۃ والنھایۃ ،  ج۳ ،  ص۵۹۴ ماخوذا ،  سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۱۷۴۔

[2]    ترمذی ،  کتاب المناقب  ،  باب فی مناقب ابی بکر وعمر ،  ج۵ ،  ص۳۸۰  ،  حدیث: ۳۶۹۵۔

[3]    طبقات کبری ، سریۃ عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۸۹۔



Total Pages: 349

Go To