Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہیں   کہ جہاں   کہیں   اسلامی غیرت کا معاملہ آتا وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً جلال میں   آجاتے ۔

(4)…فاروقِ اعظم کے بیٹھنے کا مبارک انداز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مکمل سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھتے بہت کم تھے ہر وقت کسی نہ کسی کام میں   مصروف رہا کرتے تھے ،  البتہ جب بیٹھتے تھے تو  چار زانوں   بیٹھا کرتے تھے ،  چنانچہ امام زہر ی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے :   ’’ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَجْلِسُ مُتَرَبِّعاً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عموماً چار زانوں   بیٹھا کرتے تھے ۔ ‘‘  ([1])

(5)…فاروقِ اعظم کے سونے کا مبارک انداز:

بسا اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہلیٹتے تو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر چڑھا لیاکرتے تھے۔ چنانچہ امام زہر ی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے :  ’’ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَسْتَلْقِیْ عَلٰی ظَھْرِہٖ وَیَرْفَعُ اِحْدٰى رِجْلَيہُ  عَلَی الْاُخْرٰی یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب لیٹنے تو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر چڑھا لیا کرتے تھے۔ ‘‘  ([2])

زمین پر ہی آرام فرماتے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جسے کوئی منصب مل جائے اگرچہ وہ اس منصب پر متمکن ہونے سے پہلے سادہ زندگی گزارتا ہو لیکن منصب ملنے کے بعد اس کے طور طریقے میں   کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور واقع ہوجاتی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی جیسے ہی منصب خلافت پر متمکن ہوئے اُن کی حیاتِ مبارکہ میں   بھی کافی تبدیلی آگئی لیکن یہ تبدیلی فکرِ آخرت سے بھرپور تھی ،  پہلے آپ عام زندگی گزار رہے تھے لیکن جیسے ہی منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے تو زمین پر کچھ بچھائے بغیر ہی آرام فرما ہوجاتےاور دَوران سفر کوئی سائبان یا خیمہ وغیرہ ساتھ نہ رکھتے بلکہ کہیں   پڑاؤ کرنا ہوتا تو کپڑا درخت پر ٹکا کر یا چمڑے کا ٹکڑا درخت پر ڈال کر اس کے سائے میں   آرام کرلیتے ۔جیسا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرتِ طیبہ کا مشہور واقعہ ہے کہ روم کا ایلچی آپ کے بارے میں   دریافت کرتا ہوا جب آپ کے پاس پہنچا تو آپ زمین پر آرام فرمارہے تھے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران وششدر رہ گیا کہ مسلمانوں   کا امیرکتنے سکون سے زمین پر آرام فرماہے حالانکہ اس کے رعب اور جلال سے قیصروکسریٰ کانپتے ہیں۔([3])

(6)… فاروقِ اعظم کے کام کرنے کا مبارک انداز:

بسا اوقات حکمرانوں   میں   ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے بہت ہی کم کام کرتے ہیں   اکثر حکم دے کر اپنے ما تحتوں   سے کام لینے کو ترجیح دیتے ہیں   لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ میں   ایسی کوئی عادت نہ تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   ہاتھوں   سے بیک وقت کام کرنے میں  مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :  ’’ کَانَ عُمَرُ رَجُلٌ اَعْسَرُ یَعْنِی یَعْتَمِدُ بِیَدَیْہِ جَمِیْعاً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دونوں   ہاتھوں   سے اچھی طرح کام کرنے والے تھے۔([4])

(7)…فاروقِ اعظم کے سفر کرنے کا مبارک انداز:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے حضریعنی سفر کے علاوہ زندگی میں   نہایت ہی سادگی اختیار فرماتے تھے بعینہ سفر میں   بھی آپ کی یہی عادت مبارکہ تھی ،  نہ تو آپ اپنے ساتھ کوئی خیمہ وغیرہ لیتے اور نہ ہی کوئی سائبان ،  جہاں   قیام کرنا ہوتا تو کہیں   زمین پر کپڑا بچھا کر اسی پر لیٹ جاتے اور کبھی تو درخت پر چادر ڈال کر اس کے سائے میں   آرام فرماتے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ حج ادا کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سفر میں   جہاں   کہیں   پڑاؤ کیا نہ تو وہاں   خیمہ لگایا اور نہ ہی سائبان ،  بس درخت پر چادر اور چمڑے کا بڑا ٹکڑا ڈال دیتے اور اس کے سائے میں   بیٹھ جاتے۔([5])

(8)…فاروقِ اعظم کےلباس کا مدنی انداز:

امیر المؤمنین ہونے کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی شاہانہ لباس کو ترجیح نہ دی ہمیشہ سادہ لباس ہی پہنا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  صرف ایک جبہ پہنا کرتے تھے اور اس میں  بھی جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے ،  کہیں   کہیں   اس میں   چمڑے کا بھی پیوند لگا ہوتاتھا۔بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں   آیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قمیص پر تین پیوند جبکہ تہبندپر بارہ پیوندلگے ہوئے تھے۔یہاں   تک کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ کے لباس پر چودہ پیوند لگے ہوئے تھے۔([6])

(9)…فاروقِ اعظم کی مسکراہٹ :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان حکمرانوں   کے سردار تھے جن پر فکر آخرت ہی غالب رہتی تھی ،  فکر آخرت کے سبب انہیں   کبھی کوئی ایسا موقع ہی نہ ملتا تھا کہ وہ کھلکھلا کر ہنستے۔ عہدِ رسالت میں   جب بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوتے تو بسا اوقات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مسکراہٹوں   کا تبادلہ ہوجاتا تھا۔ کیونکہ ان کی خوشی محبوب کی خوشی میں   تھی ،  جب یہ دیکھتے کہ آج محبوب خوش ہیں   تو یہ بھی خوش ہوجاتے۔ البتہ اپنے عہدِ خلافت کی کوئی ایسی واضح روایت نہیں   ملتی کہ جس میں   آپ کے ہنسنے کا  تذکرہ ہو البتہ علمائے کرام نے اس بات کو ضرور بیان فرمایا ہے کہ آپ بہت ہی کم ہنستے تھے۔چنانچہ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ کَانَ قَلِیْلُ الضِّحْکِ یعنی امیر المؤمنین



[1]     طبقات کبریٰ ،  ذکر استخلاف عمر  ،  ج۳ ،  ص۲۲۳۔

[2]     طبقات کبریٰ ،  ذکر استخلاف عمر  ،  ج۳ ،  ص۲۲۳ملتقطا۔

[3]     تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۶۹ ،  تفسیر کبیر ، پ۱۵ ،  الکھف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ج۷ ،  ص۴۳۳۔

[4]     تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۳۔

[5]     تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۶۹۔

[6]     سیِّدُنا  فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک مدنی لباس کی تفصیل کے لیے ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   جلد دوم  ،  باب فاروق اعظم بحثیت خلیفہ  ، ص ۸۹  کا مطالعہ فرمائیے۔



Total Pages: 349

Go To