Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وہ زخم ہرا ہوگیا جس کے سبب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   وصال فرمایا۔

٭…اِس غزوے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دو اَزواج مطہرات حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت سیدتنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ہمراہ تھیں  ۔ یہی دونوں   اُمہات المؤمنین غزوۂ فتح مکہ میں   بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھیں  ۔([1])

اِس غزوۂ طائف میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

فاروقِ اعظم کو اعلان کرنے کا حکم دیا گیا:

غزوۂ طائف میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فتح کی اجازت نہ دی گئی تورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں   کو واپس کوچ کا حکم ارشاد فرمایااور اس کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اعلان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ،

جب حضور نبی ٔکریم ،  رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   طائف میں   موجود تھے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک خواب دیکھاکہ  ’’ ایک مکھن سے بھری ہوئی پلیٹ ہے جس میں   مرغ نے چونچ مار کر اُسے پراگندہ کردیا۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چونکہ خوابوں   کی تعبیر بتانے کے ماہرجناب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود تھے ،  اُنہوں   نے اِس خواب کی تعبیر یہ بیان فرمائی کہ موجودہ حالات میں   طائف کی فتح میسر نہیں   ہوگی۔ اِتنے میں   حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سیدتنا خویلہ بنت حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا    آئیں   اور عرض کرنے لگیں   کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو طائف پر فتح عطا فرمائے تو بادیہ بنت غیلان کے زیورات مجھے عطا فرمائیے گا۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اگر ہمیں   بنوثقیف پر فتح عطا نہ کی گئی تو پھر کیا کرو گی؟ بہرحال وہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گئیں   اور انہیں   ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔وہ بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے اور سارا معاملہ دریافت کرنے کےبعد عرض کیا کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر ایسا معاملہ ہے تو میں   لشکر میں   واپس کوچ کرنے کا اعلان کردوں  ؟ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اجازت عطافرمائی تو آپ نے پورے لشکر میں   واپس کوچ کرنے کا اعلان کردیا۔([2])   

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس سے بڑی واضح شان ظاہر ہوتی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا فرمایا ہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً بارگاہِ رسالت سے تصدیق طلب کی اور جب تصدیق ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پس وپیش سے کام لینے کے بجائے فوراً اُس سے اگلے مرحلے یعنی لشکر کو واپس لے جانے کے بارے میں   سوال کیا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ عام آدمی کا خواب سچا بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے لیکن انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب ہمیشہ سچے ہوتے ہیں   اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جیسے ہی معلوم ہوا تو آپ نے فوراً اُسے تسلیم کرلیا اور پھر واپسی کا اِرادہ ظاہر فرمایا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۹ ہجری)غَزْوَۂ تَبُوْکْ اور فاروقِ اعظم

٭… ’’ غَزْوَۂ تَبُوْک ‘‘  کو ’’ غَزْوَۂ عُسْرَہْ  ‘‘  و ’’ غَزْوَۂ سَاعَۃُ الْعُسْرَۃ ‘‘   اور ’’ غَزْوَۂ فَاضِحَہ ‘‘   بھی کہتے ہیں  ۔  ’’ عُسْرَۃٌ ‘‘   عربی زبان میں   مشکل کو کہتے ہیں   ، جبکہ ’’ سَاعَۃُ الْعُسْرَۃِ ‘‘   مشکل وقت کو کہتے ہیں   ،  چونکہ اس غزوہ میں   مسلمان بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے اور تبوک کا راستہ نہایت ہی دشوار تھا اس لیے اسے یہ نام دیاگیا۔ جبکہ  ’’ فَاضِحَہْ ‘‘   کا معنی ہے  ’’ رسواکرنے والی ‘‘   اِس نام کی وجۂ تسمیہ یہ ہے کہ اِس غزوہ میں   منافقین کے بارے میں   ایسی آیات نازل ہوئیں   جس سے وہ ذلیل ورسوا ہوئے۔

٭…رجب المرجب کے مہینے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  غزوۂ تبوک کے لیے روانہ ہوئے اوریہ آخری فوجی مہم تھی جس میں   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔  ’’ تبوک ‘‘   ملک شام کی جانب ایک جگہ کانام ہے ،  مدینہ منورہ اور اُس کے درمیان چودہ ۱۴روز اور دمشق اور اُس کے مابین دس ۱۰دن کا فاصلہ ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُس مہم پر جمعرات کے روز مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔یہ غزوۂ حجۃ الوداع سے قبل ۹ ہجری میں   پیش آیا اور اُس میں   کسی کا کوئی اختلاف نہیں  ۔

٭…غزوۂ تبوک تنگی وترشی اور موسم گرما کی شدت وحرارت کے زمانے میں   پیش آیا نیز یہ علاقہ بھی خشک سالی کی لپیٹ میں   تھا اور پھل پک چکے تھے۔لوگوں   کو پھلوں   اور سایہ دار درختوں   میں   قیام پسند تھا اِس موسم میں   سفر کرنا اُن کے لیے ایک دشوار امر تھا ،  علاوہ اَزیں   اُن کے پاس زادِ رَاہ اور سواریوں   کی بھی قلت تھی ،  کفار اور دشمنوں   کی کثرت تھی ،  صحراء کا طویل سفر درپیش تھا ،  سارا سفر جس میں   چودہ دن جانے اور اتنے ہی واپسی پر لگتے تھے ،  شام کے صحراء میں   پڑتا تھا ،  شام کے عظیم صحراء کو طے کرنے میں   چالیس روز چلنا پڑتا تھا جہاں   نہ کوئی درخت اور نہ کوئی سایہ ،  پانی بھی بہت کم مقدار میں   دستیاب ہوتا تھا۔ لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِن نفوسِ قدسیہ کے دلوں   کو مضبوط رکھا ،  منافقین اور تین مخلص صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  صحابہ کے سوا جو بھی سفر کی طاقت رکھتا تھا پیچھے نہ رہا۔ اِس غزوہ میں   محبوب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ



[1]    مدارج النبوۃ ،  ج۲ ،  ص۳۱۹ ،  سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۱۷۲۔

[2]    سیرۃ ابن ھشام ،  رویا الرسول وتفسیر ابی بکرلھا ،  ج۲ ،  ص۴۱۱۔



Total Pages: 349

Go To