Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دو جہاں   سے بھی نہیں   جی بھرا کروں   کیا کروڑوں   جہاں   نہیں 

٭…مذکورہ بالا روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات مبارکہ میں   عیب لگانامنافقین کا طریقہ ہے ،  جبکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ کو ہر عیب سے بری ماننا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا مبارک عقیدہ ہے۔

٭…مذکورہ بالا روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات مبارکہ میں   عیب تلاش کرنے والے بھی قرآن پاک پڑھتے ہوں   گے ،  البتہ قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں   اُترے گا ،  یعنی بظاہر تو خوبصورت آواز میں   تلاوت کرتے ہوں   گے لیکن اُن کی تلاوت عشق رسول کی خوشبو سے بہت دور ہوگی ،  کیونکہ پورا کا پورا قرآن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعتِ مبارکہ ہے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مدح سرائی کا تعلق فقط زبان سے نہیں   بلکہ قلب سے ہے ،  اگر دل میں   بغضِ رسول ہو تو انجام جہنم کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس ارشاد میں   ایسے لوگوں   کے لیے عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں   جو یہ کہتے ہیں   کہ:  ’’ میاں   سب ٹھیک ہیں   ،  قرآن ایک ،  رسول ایک ،  دین ایک تو پھر اختلاف کیسا؟ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے واضح فرمادیا کہ اگر کوئی بظاہر خوش اِلہانی کے ساتھ قرآن پڑھ بھی رہا ہو تب بھی وہ بددین ہو سکتا ہے کہ اُس کا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کےرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی محبت سے خالی ہے۔ قرآن پاک میں   خوداللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ(۸)) (پ۱ ، البقرۃ: ۸) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور کچھ لوگ کہتے ہیں   کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں  ۔ ‘‘ 

٭…یہاں   سے تیرہ آیتیں   منافقین کے حق میں   نازل ہوئیں   جو باطن میں   کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے  ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا  ’’  مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ  ‘‘  وہ ایمان والے نہیں   یعنی کلمہ پڑھنا  ،  اسلام کا مدعی ہونا  ،  نماز روزہ اَدا کرنا  ،  مومن ہونے کے لئے کافی نہیں   جب تک دل میں   تصدیق نہ ہو ۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ کے معاملے میں   کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں   کرتے تھے ،  یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی اُس منافق نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں   بے ادبی کی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت اور غیرت ایمانی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اُس کے قتل کی اجازت طلب کی۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ ناموسِ رسالت کے معاملے میں سمجھوتہ نہ کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ ہے۔ اے کاش! ہمیں   بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جیسا عشقِ رسول نصیب ہوجائے ،  اے کاش! ہمیں   بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جیسی محبت نصیب ہوجائے ،  اے کاش ہم بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی طرح ظاہری عشقِ رسول کے ساتھ ساتھ باطنی یعنی عملی عشقِ رسول کا مظاہرہ کرنے والے بھی بن جائیں  ۔

یَا اللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے اپنے پیارے حبیب  ،  ہم گناہگاروں   کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پیارے اور جانثار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا واسطہ ،  ہمیں   بھی صحابہ کرام ہی جیسا عشق ،  محبت اور عمل کا جذبہ عطا فرما۔                   آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(۸ ہجری)غَزْوَۂ طَائِفْ اور فاروقِ اعظم

٭…ماہِ شوال المکرم کے آخر میں   غزوۂ حنین سے فراغت کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مال غنیمت  ’’ جِعْرَانَہ ‘‘   کے مقام پر روک دیا جو ابھی تک تقسیم بھی نہ ہوا تھا اور خود غزوۂ طائف کے لیے روانہ ہوئے۔

٭…طائف مکہ مکرمہ سے مشرق کی جانب دو یا تین مرحلوں   کے فاصلے پر ایک مشہور شہر ہے ،  جہاں   انگور ،  کھجوریں   اور دیگر پھل اتنی کثرت سے ہوتے ہیں   کہ ایک وقت میں   چاروں   موسموں   یعنی موسم بہار ،  خزاں   ،  گرمی اور سردی کے پھل وہاں   پائے جاتے ہیں  ۔ اس جگہ ثقیف قبیلہ آباد تھا۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن پر لشکر کشی فرمائی۔صحیح قول کے مطابق دس سے کچھ زائد دنوں   تک اِس شہر کا محاصرہ جاری رکھا۔ بعض اَقوال کے مطابق تیس۳۰ دن جاری رکھا اور بعض علماء کے نزدیک چالیس ۴۰ دن تک محاصرہ جاری رہا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے  ’’ منجنیق  ‘‘   نصب فرمائی ،  منجنیق لکڑی سے بنائی گئی ایسی مشین کو کہتے ہیں   جو دور تک پتھر پھینکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔اِس کے علاوہ کسی اور غزوے میں   منجنیق کا استعمال نہیں   کیا گیا اور یہ عہدِ اسلام کی پہلی منجنیق تھی جس سے سنگ باری کی گئی۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں   کو فتح عطا فرمائی اور انہیں   فتح ونصرت سے سرفراز فرمایا۔

فتح کا مفہوم یہ ہے کہ دشمن پر اسلام کی دھاک بیٹھ گئی ،  یہ قلعہ اُس وقت فتح نہ ہوا بلکہ پندرہ سولہ اور بروایت دیگر چالیس دن ۴۰کے محاصرے کے بعد مسلمانوں   نے اِرشاد نبوی کے مطابق محاصرہ اٹھالیا۔ غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد اِس قبیلہ کا وفد مدینہ منورہ حاضر ہوا اور ایمان قبول کرلیا۔

٭…غزوۂ طائف میں   بارہ ۱۲مسلمان شہید ہوئے جن میں   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کے بھائی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ابی اُمیہ مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے ،  جو فتح مکہ کے دنوں   میں   مشرف باسلام ہوئے تھے۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص اَمَوی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی شہداء میں   شامل تھے۔بہت سے کفار واصل جہنم ہوئے۔

٭…اسی غزوہ میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی زخمی ہوئے لیکن بعد میں   اُن کا زخم مندمل ہوگیا اور ایک عرصے تک باحیات رہے ،  پھر



Total Pages: 349

Go To