Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…پھر ارشاد فرمایا:   ’’ آيَتُهُمْ رَجُلٌ اَسْوَدُ اِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْاَةِ اَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِیعنی اُن کی نشانی یہ ہے کہ اُن میں   ایک سیاہ آدمی بھی ہوگا جس کا ایک بازو عورت کی پستان جیسا ہوگا یا ایسے ہوگا جیسے گوشت کا لوتھڑا حرکت کررہا ہو۔ یہ لوگ اُس وقت خروج کریں   جب لوگوں   میں   اختلاف ہوجائے گا۔ ‘‘   

٭…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’  میں   گواہی دیتا ہوں   کہ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے (یہ غیبی کلام)خود سنا اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو اپنی آنکھوں   سے اُنہیں   (یعنی خارجیوں   کو) قتل کرتے پایا۔ میں   بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ تھا۔ آپ نے فرمایا:   ’’ اُس شخص کو تلاش کرو جس کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر دی تھی ، چنانچہ تلاش کے بعد وہ مل گیا ، دیکھا تو اُس کی شکل بعینہ ویسی تھی جیسا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا تھا۔ ‘‘  ([1])

روایت سے حاصل ہونے والے عبرت کے پھول:

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس منافق کو قتل کرنے سے اِس لیے منع فرمایا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم میں   تھا کہ اُس منافق کی نسل سے کچھ لوگوں   کا پیدا ہونا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ مقدر فرماچکا ہے۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   جہاں   آپ کے جانثار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  موجود ہوتے تھے وہیں   مسلمانوں   کے پاکیزہ لباس میں   منافقین بھی موجود ہوتے تھے۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو وہ عظیم ہستیاں   تھیں   جن کی نظر ہمیشہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رُخ زیبا پر ہوتی تھی اور وہ ہمیشہ اس سے برکتیں   اور رحمتیں   ہی لوٹتے تھے ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبرکات انہیں   اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھے۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تو وہ تھے جنہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ میں   صرف خوبیاں   ہی خوبیاں   نظر آیا کرتی تھیں  ۔حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو دربارِ رسالت کے ثناخوا ن تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود اہتمام فرمایا کرتے تھے۔بارگاہِ رسالت میں   مدح سرائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :

وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عِيْنِيْ

ترجمہ:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری آنکھوں   نے آپ سے زیادہ حسین وجمیل دیکھا ہی نہیں  ۔ ‘‘ 

وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ

ترجمہ:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ جیسا حسین وجمیل آج تک کسی عورت نے جنا ہی نہیں  ۔ ‘‘ 

خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ

ترجمہ:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! رَبّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو ہرعیب سے بری پیدا فرمایا۔ ‘‘ 

كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

ترجمہ:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جیسا آپ چاہتے تھے ویسا ہی آپ کو پیدا کیا گیا۔ ‘‘  ([2])

جبکہ منافقین کی نظر ہمیشہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ میں   عیبوں   کو تلاش کرتی تھیں   جس میں   ہمیشہ اُن کو ناکامی ہی ہوتی تھی ،  اور اُنہیں   اِس ناپاک مقصد میں   ناکامی کیوں   نہ ہوتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو بے عیب پیدا فرمایا تھا ، جن کی رفعت وبلندی کو خود رَبّ عَزَّ وَجَلَّ بیان کرے اُس ذات کو کون پست کرسکتا ہے؟اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنعشق ومحبت سے معمور ہو کر

 

 بارگاہِ رسالت میں   نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :

وہ کمال حسن حضور ہیں   کہ گمان نقص جہاں   نہیں 

یہی پھول خار سے دُور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں   نہیں 

سر عرش پر ہے تری گزر ،  دل فرش پر ہے تری نظر

ملکوت وملک میں   کوئی شے نہیں   وہ جو تجھ پہ عیاں   نہیں 

کروں   تیرے نام پہ جاں   فدا نہ بس ایک جاں   دو جہاں   فدا

 



[1]    بخاری  ، کتاب المناقب ، باب علامات النبوۃفی الاسلام ، ج۲ ،  ص۵۰۳ ،  حدیث: ۳۶۱۰۔

                                                مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  ذکر الخوارج وصفاتھم ،  ص۵۳۳ ،  حدیث: ۱۴۸۔

[2]    روح المعانی ،  پ۱۱ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ج۱۱ ،  ص۸۳ ، دیوان حسان بن ثابت ، حرف الھمزۃ ، ص۱۷۔



Total Pages: 349

Go To