Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شان وشوکت بڑھ گئی ہے حالانکہ اُن کا قبیلہ مختصر اور جنگی معاملات میں   بے مقام ومرتبہ تھا۔ ‘‘   سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ يَا اَبَاسُفْيَانَ اِنَّ اللہَ يَرْفَعُ مَنْ يَّشَاءُ بِمَا يَشَاءُوَاِنَّ عُمَرَ مِمَّنْ رَفَعَهُ الْاِسْلَامُیعنی اے ابو سفیان!اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے جس سبب سےچاہتاہے بلندی عطا فرماتاہے ، سیِّدُنا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو اُن میں   سے ہیں   جنہیں   اِسلام نے بلندی عطا کی۔ ‘‘   ([1])

فاروقِ اعظم کو کعبۃ اللہ سے تصویریں   مٹانے کا حکم :

فتح مکہ کے موقع پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو کعبۃ اللہ شریف کے اندر سے تمام تصویریں   مٹانےکا حکم دیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فتح مکہ کے موقع پر بطحاء کے مقام پر اِس بات کا حکم ارشاد فرمایا کہ وہ کعبۃ اللہ شریف جا کر اُس میں   موجود تمام تصاویر کو مٹادیں   ،  کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس وقت تک کعبۃ اللہ شریف میں   داخل نہ ہوں   گے جب تک اُس میں   سے تمام تصویریں   ختم نہ ہو جائیں۔ ([2])

اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  اِمام اہلسنت ،  مجدددین وملت ،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فتاوی رضویہ ،  ج۲۱ ،  ص۴۳۷میں   ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’  کعبہ میں   جو تصویریں   تھیں   حضوراقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المومنین عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوحکم فرمایا کہ اِنہیں   مٹادو۔ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابہ کرام چادریں   اُتار اُتارکر امتثال حکمِ اَقدس میں   سرگرم ہوئے ،  زمزم شریف سے ڈول کے ڈول بھر کر آتے اور کعبہ کو اندر باہر سے دھویا جاتا ،  کپڑے بھگو بھگو کر تصویریں   مٹائی جاتیں   ،  یہاں   تک کہ وہ مشرکوں   کے آثار سب دھوکر مٹادئے ،  جب حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر پائی کہ اب کوئی نشان باقی نہ رہا اُس وقت اندر رونق افروزہوئے ،  اتفاق سے بعض تصاویر مثل تصویرِ ابراہیم خلیل اللہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا نشان رہ گیا تھا ،  پھر نظر فرمائی توحضرت مریم کی تصویربھی صاف نہ دھلی تھی حضور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ایک ڈول پانی منگا کر بنفس نفیس کپڑا تر کرکے اُن کے مٹانے میں   شرکت فرمائی اور ارشاد فرمایا:  اللہ کی ماراِن تصویر بنانے والوں   پر۔ ‘‘ 

فتح الباری شرح صحیح بخاری میں   ہے:  ’’ فِیْ حَدِیْثِ اُسَامَۃَ اَنَّہُ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ فَرَیٰ صُوْرَۃَ اِبْرَاھِیْمِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَجَعَلَ یَمْحُوْھَا وَھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلَی اَنَّہُ بَقِیَتْ بَقِیَّۃً خُفِیَ عَلٰی مَنْ مَحَاھَا اَوَّلًا یعنی حضرت اسامہ کی حدیث میں   ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کعبہ شریف کے اندر تشریف لے گئے تو کچھ تصاویر انمٹی دیکھ کر پانی منگوایا اور انھیں   اپنے دست اقدس سے خود مٹانے لگے ، یہ حدیث اِس پر محمول ہے کہ بعض تصویروں   کے کچھ نشانات باقی رہ گئے تھے جنھیں   پہلی دفعہ مٹانے والا نہ دیکھ سکا ، تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ اُنہیں   مٹادیا۔ ‘‘  ([3])

(۸ ہجری)غَزْوَۂ حُنَیْنْ اور فاروقِ اعظم

٭…شوال المکرم کی چھ تاریخ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے مکہ معظمہ سے حنین کی جانب لشکر کشی فرمائی۔ اسے  ’’ غزوۂ ہوازن ‘‘   بھی کہا جاتاہے کیونکہ اس غزوے میں   قبیلۂ ہوازن ہی کے لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنگ کے لیے آئے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  منگل کی رات دس۱۰ شوال المکرم پچھلے پہر مقام حنین پر پہنچے۔

٭… آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ اُس وقت بارہ ہزار مسلمان تھے۔ جن میں   سے دس ہزار تو وہی تھے جو مدینہ منورہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ روانہ ہوئے تھے اور دو۲ ہزار مکہ مکرمہ میں   سے تھے جو فتح مکہ کے روز ایمان لائے تھے۔یہ دو۲ ہزار مسلمان  ’’ طُلَقَاء ‘‘   کہلاتے تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   فتح مکہ کے دن یوں   ارشاد فرمایا تھا:   ’’ اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ یعنی جاؤ تم لوگ آزاد ہو۔ ‘‘ 

٭…حنین مکہ مکرمہ کے مشرق میں   مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جس کا فاصلہ مکہ مکرمہ سے دس میل سے کچھ زائد ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو فتح اور کثیر مال غنیمت سے نوازا ۔ اِس غزوے میں   چار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے جام شہادت نوش فرمایا اور ستر کافر واصل جہنم ہوئے۔([4])

اِس غزوۂ حنین میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

 



[1]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۲۳ ،  ص۴۵۴ ملتقطا۔

[2]    سنن کبری  ،  کتاب الشھادات ،  باب ما جاء فی اللعب بالبنات ،  ج۱۰ ،  ص۳۷۱ ، حدیث: ۲۰۹۸۲۔

[3]    فتح الباری ،  کتاب المغازی ،  باب این رکز النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔۔۔الخ ، ج۹ ،  ص۱۵ ،  تحت الحدیث:  ۴۲۸۵۔

[4]    طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ الی حنین ،  ج۲ ،  ص۱۱۴۔

                                                سیرۃ ابن ھشام ،  خروج الرسول بجیشہ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۳۷۳۔

                                                شرح زرقانی علی المواھب ،  غزوۃ حنین ،  ج۳ ،  ص۴۹۸۔



Total Pages: 349

Go To