Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رسالت میں   حاضر ہوگئے ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ هٰذَا اَبُوْ سُفْيَانَ عَدُوُّ اللہِ قَدْ اَمْكَنَ اللہُ مِنْهُ بِلَا عَهْدٍ وَلَاعَقْدٍ فَدَعْنِيْ اَضْرِبُ عُنَقَهُ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ اَبو سفیان ہے ،  جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دشمن ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِسے بغیر کسی عہد اور عقد کے ہمارے حوالے کردیا ہے ،  آپ مجھے اجازت عطا فرمائیں   تاکہ میں   اِس کی گردن اڑادوں  ۔ ‘‘ 

 سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا کہ یہ میری پناہ میں   ہے۔ بہرحال حضرت عمر اِصرار کرتے رہے تو میں   نے اُن سے کہا:   ’’ مَهْلًا يَا عُمَرُ فَاِنَّهُ وَاللہِ لَوْ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ عَدِيِّ بْنِ

 كَعْبٍ مَا قُلْتَ هَذَا وَلٰكِنَّهُ اَحَدُ بَنِيْ عَبْدِ مُنَافٍ یعنی اے عمر! بس کیجئے ،  اگر اِس کی جگہ کوئی آپ کے قبیلے بنی عدی بن کعب کا ہوتا تو آپ اِس طرح کی بات نہ کرتے ،  لیکن یہ بنی عبد مناف سے تعلق رکھتا ہے اِس لیے آپ بار بار اِس کے قتل کا اِصرار کر رہے ہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَهْلًا يَا اَبَا الْفَضْلِ فَوَاللہِ لَاِسْلَامُكَ كَانَ اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ اِسْلَامِ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْخَطَّابِ لَوْ اَسْلَمَیعنی ٹھہر جائیے اے ابوالفضل!   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ کا اِسلام لانا مجھے اِس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ خطاب کی اَولاد میں   سے کوئی اِسلام لائے۔ ‘‘  بہرحال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم اِرشاد فرمایا کہ ابو سفیان کو کل صبح ہمارے پاس لے کر آنا ،  وہ صبح لائے اور بالآخر انہوں   نے اِسلام قبول کرلیا۔ ([1])

روایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرح مخلوقِ خدا پر شفقت ورحمت فرماتے تھے ،  یہی وجہ تھی کہ جب سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ لشکر لے کر آگئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِس بات کی کوشش میں   لگ گئے کہ کوئی مجھے مل جائے اور میں   اُسے بارگاہِ رسالت میں   پیش کرکے اُسے امان دلادوں   ،  اور اُس کی جان محفوظ ہوجائے۔

٭…مذکورہ روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت یعنی گھر والوں   ، رشتہ داروں   کو نہ صرف اچھی طرح پہچانتے تھے بلکہ اُن کی تعظیم اور ادب واحترام بھی کرتے تھے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اوررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معاملے میں   کسی کی پرواہ نہ کرتے تھے ،  جیسے ہی آپ کے سامنے دشمن خداورسول آتا ،  آپ جلال میں   آجاتے اور بارگاہِ رسالت سے اُس کے قتل کی اجازت طلب کرتے اوریقیناً یہ کیفیت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی پر دلالت کرتی ہے۔

٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آخری مبارک کلمات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نہایت ہی اَدب واحترام کیا کرتے تھے یہاں   تک کہ آپ کے نزدیک اُن کا اِسلام قبول کرنا اپنے رشتہ داروں   کے اِسلام قبول کرنے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔

فاروقِ اعظم کاشان وشوکت کے ساتھ دخول مکہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فتح مکہ کے موقع پر یہ بھی شان ظاہر ہوتی ہے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی بہت زیادہ مسرور تھے۔ چنانچہ ،  

حضرت سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول اِسلام کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم اِرشاد فرمایا کہ اُنہیں   لے کر بلند ٹیلے پر چڑھ جاؤ اور اُنہیں   لشکر اِسلام کے مکہ مکرمہ میں   داخلے کا منظر دکھاؤتاکہ اُن پر اِسلام کی شان وشوکت ظاہر ہو۔ سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُنہیں   لے کر ٹیلے پر چڑھ گئے ،  پھر لشکر اِسلام کے مختلف دستوں   کی آمد شروع ہوئی ،  سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سب کا تعارف کرواتے ،  سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر لشکر کو یہی سمجھتے کہ شاید یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا لشکر ہے لیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت نہ ہوتی تو سمجھ جاتے کہ یہ وہ نہیں   ہے۔ لیکن جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لشکر آیا تو ایسے لگا جیسے لوگوں   کا طوفان اُمڈ آیا ہو۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی قصواء اونٹنی پر سوار تشریف لا رہے تھے تو سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُنہیں   بتایا کہ یہ ہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِن کے دستے میں   مہاجرین وانصار ہیں   اور انصار کے ہر خاندان کے پاس ایک جھنڈا اور ایک پرچم تھا اور ان کے پورے جسم پر زرہ تھی ،  صرف ان کی آنکھیں   نظر آرہی تھیں  ۔

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اُسی دستے میں   تھے اورگرجدار آواز سے باتیں   کررہے تھے۔حضرت سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں  ؟تو سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ بنوعدی کی

 



[1]    معجم کبیر ،  باب الصاد ،  صخر بن حرب ،  ج۸ ،  ص۱۱ ،  حدیث: ۷۲۶۴ ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To