Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تھا۔اُس خط کا مضمون یہ تھا:  ’’ اما بعد! اے قریش کی جماعت! بے شک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہارے پاس ایک بہت بڑا لشکر لے کر آرہے ہیں   جو سیلاب کی طرح چلتا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر وہ تمہارے پاس تنہا بھی آئیں   تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی مدد فرمائے گااور اُن سے کیے گئے وعدے کو پورا فرمائے گا۔ ‘‘ 

٭…مذکورہ بالا روایت سے یہ معلوم ہوا کہ اِیمان ویقین کا تعلق دل کے ساتھ ہے ،  اگر کوئی شخص سچے دل سے   اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتاہے لیکن اِس کے باوجود بتقاضائے بشریت (انسان ہونے کی وجہ سے) اُس سے کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو ناپسندیدۂ الٰہی ہو اور بندہ اس پر نادم ہو تو رَبّ1اپنے عفووکرم سے معاف فرمادیتاہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا حاطب بن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سچی پکی محبت کرتے تھے لیکن اہل ومال کی حفاظت کے سبب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ لغزش ہوگئی جس کی بارگاہِ رسالت میں   وضاحت کرتے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رسالت سے عفوودرگزر کا پروانہ ملا۔

٭…اِس روایت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معاملے میں   کسی کی بھی رعایت نہ فرماتے  ،  مگررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جسے امان عطا فرمادیں   اُس کے بارے میں   نرمی اختیار فرماتے تھے۔

اشرف العلماء ،  شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف سیالوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  یہاں   ایک نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :   ’’ امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا حاطب بن بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سرقلم کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ سیِّدُنا حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس اِقدام سے خود حضورنبی رحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا کہ کفار ومشرکین چوکس ہوجاتے اور گھات لگا کر اچانک حملہ آور ہوجاتے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ(کفار پر سختی) والی تھی لہٰذا آپ نے سیِّدُنا حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس اِقدام کو جو اسلام کے لیے بالعموم اور تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے بالخصوص ایذاء وتکلیف کا موجب ہوسکتا تھا اور مقصد کے حصول میں   بھی بہت بڑی رکاوٹ بن سکتا تھا منافقت پر محمول فرمایا اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کے قتل کی اجازت طلب کی کیونکہ اُنہیں   اِس اقدام سے نفاق میں   غلبہ ظن ہی حاصل ہوا تھا نہ کہ یقین ،  لہٰذا آپ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اذن طلب کیا تاکہ آپ کی طرف سے اجازت مل جانے پر اس ارادے کو عملی جامہ پہنایا جائے نہ کہ محض ظن وگمان پر یہ اقدام کیا جائے۔([1])

٭…صحابی رسول حضرت سیِّدُنا حاطب بن بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ سے بتقاضائے بشریت کسی لغزش کا واقع ہونا اور اُن کی صفائی خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دینا اس بات پر واضح دلالت کرتا ہے کہ کسی عام آدمی کا معاملہ اوررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی کا معاملہ ایک جیسا نہیں   ہے۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آخری اَلفاظ مبارکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی عزت وعظمت کے معاملے میں   تمام لوگوں   کے لیے مشعل راہ ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا کہ اب اُن کے بارے میں   کوئی اچھائی کے علاوہ بات نہ کرے ۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے بارے میں   صرف اچھاہی کلام کرنا  ،  اُن کی عیب جوئی کے بجائے اُن کی اعلی صفات کو بیان کرنا ضروری ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دشمن خداورسول کے معاملے میں   فاروقِ اعظم کا جلال:

جب فتح مکہ کا موقع آیا تو حضور نبی ٔکریم ،  رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ سے باہر رات کے وقت ’’ مَرَّالظَّھْرَانِ ‘‘   پر اُترے۔حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دل میں   سوچا کہ افسوس قریش پر کتنی بھیانک صبح آنے والی ہے! خدا کی قسم! اگر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبزور شمشیر مکہ مکرمہ میں   داخل ہوئے اور قریش نے بڑھ کر امن کی درخواست نہ کی تو وہ قیامت تک کے لیے تباہ وبرباد ہوجائیں   گے۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خچر پکڑا اور اُس پر سوار ہو کر ایسے لوگوں   کو ڈھونڈ نے لگے کہ جنہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   پیش کریں  ۔ اتنے میں   ابو سفیان کی آواز آئی ،  وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لشکر کو دیکھ کر اس پر تبصرہ کررہے تھے۔آپ اُن کے پاس پہنچ گئے اور اُنہیں   بتایا کہ یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا لشکر ہے ،  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابو سفیان کو اپنے پیچھے بٹھایا تاکہ اُسے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   پیش کریں  ۔

آپ مسلمانوں   کے لشکر میں   داخل ہوگئے جو بھی مسلمان پوچھتا کہ یہ کون ہیں  ؟ لیکن جب یہ دیکھتاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ہیں   تو مطمئن ہوجاتا ،  یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے تو وہ فوراً کھڑے ہوگئے اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میں   عباس ہوں   ،  پھر سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کے پیچھے ابو سفیان کو بیٹھے دیکھا تو پہچان لیا اور جلال میں   آگئے فرمایا:  ’’ اَبُوسُفْيَانْ! عَدُوُّ اللہِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَمْكَنَ مِنْكَ بِغَیْرِ عَقْدٍ وَلَا عَھْدٍ یعنی   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ابو سفیان   اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا دشمن ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے کہ یہ بغیر کسی عہد وپیمان کے ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے۔ ‘‘  پھر سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   بارگاہِ



[1]    سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ،  ص۱۳۷ملخصاً۔



Total Pages: 349

Go To