Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کی مونچھیں  :

(1)امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مونچھیں   درمیان سے پست اور دائیں   بائیں   سے بڑھی ہوئی تھیں  ۔ حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ سَبَالَتَہُ کَثِیْرَۃُ الشَّعْرِ اَطْرَافُھَا صَھْبَۃٌ یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مونچھوں   کے بال دائیں   بائیں   سے کافی بڑھے ہوئے تھے اور اُن میں   بھورا پن بھی تھا۔([1])

(2)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ كَانَ عُمَرُ اِذَا غَضَبَ فَتَلَ شَارِبَہُ یعنی امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جلال آتا تو اپنی موچھوں   کو تاؤ دیتے تھے۔ ‘‘  ([2])

(3)حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب جلال آتا تو اپنی مونچھوں   کو اپنے منہ کی طرف کرتے اور ان میں   پھونک مارتے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم مہندی سے خضاب فرماتے:

(1) حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ قَدِ اخْتَضَبَ اَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًایعنی خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مہندی اور کتم دونوں   کا خضاب لگایا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فقط مہندی کا خضاب لگایا۔ ‘‘  ([4])

(2) ایک روایت میں   یوں   ہے فرمایا:   ’’ كَانَ عُمَرُ یُرَجِّلُ بِالْحِنَّاءِ یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے بالوں   کو مہندی سے آراستہ کیا کرتے تھے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا خالد بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ كَانَ عُمَرُیُصَفِّرُ لِحْیَتَہُ ویُرَجِّلُ رَأْسَہُ بِالْحِنَّاءِ یعنی سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی داڑھی اور سر میں   مہندی لگایا کرتے تھے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم سے مشابہ صحابی:

حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ظاہری شکل وصورت کے مشابہ تھے۔ ([6])

فاروقِ اعظم کے مبارک انداز

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حسن ظاہری کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ان کا پیارا سراپا ہمارے سامنے موجود ہے ،  ساتھ ہی دل میں   یہ بھی خیال آتا ہے کہ اس پیاری ہستی کے چلنے  ،  کھانے ،  سونے وغیرہ کے بھی کتنے ہی پیارے اور مبارک انداز ہوں   گے۔اگرچہ اسی کتاب میں   آگے یہ تمام باتیں   بالتفصیل ذکر کی جائیں   گی لیکن قارئین کے ذوق کو برقرار رکھنے کے لیے اِجمالاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چند مبارک انداز پیش خدمت ہیں  :

(1)فاروقِ اعظم کے چلنے کا مبارک انداز:

حضرت سیِّدُناسماک بن حرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :  ’’ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَرْوَحُ کَاَنَّہُ رَاکِبٌ وَالنَّاسُ یَمْشُوْنَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کشادہ قدموں   کے ساتھ چلا کرتے تھے اور چلتے ہوئے ایسا لگتا گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی سواری پرسوار ہیں   اور دیگر لوگ پیدل چل رہے ہیں۔ ‘‘  ([7])

(2)…فاروقِ اعظم کے کھانے کا مبارک انداز:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے ،  قطعی جنتی ہونے کے باوجود ہمیشہ فکر آخرت دامن گیر رہتی تھی اور یہی فکر آپ کو بھوکا رہنے پر اکساتی رہتی تھی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خوارک نہایت ہی قلیل تھی ، کبھی جو کی ر وٹی کے ساتھ زیتون ،  کبھی دووھ ، کبھی سرکہ ،  کبھی سُکھایا ہوا گوشت تناول فرماتے ، تازہ گوشت بہت ہی کم استعمال کرتے تھے ،  کبھی دو کھانے اکٹھے نہیں   کھائے ۔منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسی خشک روٹی کھایا کرتے تھے کہ عام لوگ اسے کھانے سے عاجز آجائیں  ۔ نیز کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے کناروں   کو علیحدہ کرکے کھانا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سخت ناپسند تھا۔([8])

(3)…فاروقِ اعظم کے گفتگو کرنے کا مبارک انداز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بولنے اور بات کرنے کا نہایت ہی مبارک انداز تھا ،  عام معاملات میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گفتگو کا انداز بہت نرم تھالیکن آپ کے چہرہ مبارکہ کی وجاہت اور رعب ودبدبے کی وجہ سے اس میں   شدت محسوس ہوتی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت میں   لوگوں   کو سب سے زیادہ حق بات کہنے کا حوصلہ ملا۔لیکن جہاں   کہیں   شرعی معاملے کی خلاف ورزی ہوتی وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سختی فرماتےاور یقیناً یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔بیسیوں   واقعات ایسے ملتے



[1]     معرفۃ الصحابۃ ،  معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  معرفۃ صفۃ عمر ،  ج۱ ،  ص۶۹ ،  الرقم: ۱۷۰۔

                                                الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۶۔

[2]     معجم کبیر ،  صفۃ عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۶۶ ،  حدیث: ۵۴ ،  الاستیعاب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۶۔

[3]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۴۸۔

[4]     مسلم ،  کتاب الفضائل ،  باب شیبۃ صلی اللہ علیہ وسلم ،  ص۱۲۷۶ ،  حدیث:  ۱۰۳۔

[5]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۴۹۔

[6]     الاصابۃ ،  علقمۃ بن علاثۃ ،  ج۴ ،  ص۴۵۸ ،  الرقم: ۵۶۹۱۔

[7]     الاصابۃ ،  ذکر من اسمہ عمر ،  ج۴ ،  ص۴۸۵ ،  الرقم:  ۵۷۵۲۔