Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بلایا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اَلَا اُحَدِّثُكُمْ بِمِثْلِ صَاحِبَيْكُمْ هٰذَيْنِ؟ یعنی کیا میں   تمہیں   ان دونوں   کی مثال نہ بیان کروں  ؟ ‘‘   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کیا:   ’’ کیوں   نہیں   یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ضرور بیان فرمائیے۔ ‘‘ 

٭…پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا رُخِ اَنور حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب کیا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اِبْرَاهِيْمَ كَانَ اَلْيَنُ فِي اللہِ مِنَ الدَّهْنِ فِي اللَّبَنِیعنی بے شک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام  اللہ عَزَّوَجَلَّکے معاملے میں   ویسے ہی نرم تھے جیسے دودھ میں   موجود گھی۔

٭…پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا رُخِ اَنور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب کیا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ نُوْحاً كَانَ اَشَدَّفِي اللہِ مِنَ الْحَجَرِیعنی بے شک حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّکے معاملے میں   پتھر سے زیادہ سخت تھے۔ ‘‘ 

٭…پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ وَاِنَّ الْاَمْرَ اَمْرُ عُمَرَ فَتَجَهَّزُوْایعنی جو عمرنے رائے دی ہے اسی پر عمل کیا جائے گا لہٰذا تمام لوگ تیاری کریں  ۔‘‘ 

یہ سن کر تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کھڑے ہوگئے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جا کر عرض کرنے لگے :  ’’ يَا اَبَا بَكْرٍ اِنَّا كَرِهْنَا اَنْ نَسْاَلَ عُمَرَ مَا هٰذَا الَّذِيْ نَاجَاكَ بِه رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟یعنی اے صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! ہم سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سوال کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں   ،  آپ خود ہی ارشاد فرمائیے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے آپ لوگوں   کی کیا بات ہوئی؟ ‘‘  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ قَالَ لِيْ كَيْفَ تَامُرُوْنِيْ فِيْ غَزْوِمَكَّةَ؟یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے غزوۂ مکہ کے متعلق مشورہ طلب فرمایا۔ ‘‘  تو میں   نے عرض کیا:  ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ هُمْ قَوْمُكَ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ ہی کی قوم ہے(یعنی ان کے ساتھ نرمی اختیار فرمائیں  )۔ ‘‘  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   سمجھا شایدرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری بات کو تسلیم کرلیں   گے لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور اُن سے بھی یہی مشورہ طلب فرمایا تو انہوں   نے عرض کیا کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ کفار کے سرغنہ ہیں   ،  پھر اُنہوں   نے اُن کی تمام گستاخیاں   گنوانی شروع کردیں   اور جوجو کفار مکہ باتیں   کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا :  ’’ وَاَيْمُ اللہِ لَا تَذِلُّ الْعَرَبُ حَتّٰى یَذِلُّ اَهْلُ مَكَّةَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! اَہل عرب اُس وقت تک مغلوب نہ ہوں   گے جب تک اہل مکہ زیر نہ ہوجائیں  ۔ ‘‘   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  حضرت عمر کے مشورہ کے مطابق کفار مکہ کے خلاف جنگ کی تیاری کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ‘‘  ([1])

دونوں   روایات سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا دونوں   روایتوں   سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

٭…معلوم ہوا کہ مسلمان ہمیشہ سے اپنے معاہدوں   کی پابندی کرتے آئے ہیں   اور کفار شروع سے مسلمانوں   کو دھوکہ دیتے آئے ہیں   ،  لہٰذابہتر یہ ہے کہ مسلمان کا لین دین مسلمان سے ہو تاکہ دھوکہ وغیرہ کا معاملہ نہ ہو اور مسلمانوں   کا مال وغیرہ مسلمانوں   ہی کے پاس جائے کفار اُس سے فائدہ نہ اٹھائیں  ۔

٭…کفار قریش کی طرف سے جب ابو سفیان سفیر بن کر آیا تورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلے ہی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اِس پرمطلع فرمادیا اور یہ بھی بتادیا کہ وہ خوشی خوشی یہاں   سے جائے گا البتہ جس مقصد کے لیے آئے گا وہ مقصد پورا نہ ہوپائے گا۔ معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے غیبوں   پر خبردار ہیں   ،  غیب جانتے اور غیب کی خبریں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو دیتے بھی ہیں  ۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بھی یہ مبارک عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے غیب کی خبریں   دیتے ہیں   ،  کیونکہ اگر وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمِ غیب کا عقیدہ نہ رکھتے تو یقیناً رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِس بات کے بارے میں   پوچھتے کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ابھی تو ابو سفیان آیا بھی نہیں   اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس کے بارےمیں   پہلے ہی بتا دیا؟ لیکن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے غیب کی خبریں   سنتے ہی رہتے تھے۔جس پر مختلف اَحادیث شاہد ہیں  ۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے صلح کے معاملے پر بات کرنے کے بعد ابوسفیان جیسے اس وقت کے سردار بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے گن گانے پر مجبور ہوگئے اور ایسا کیوں   نہ ہوتا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بارگاہِ نبوی ہی کے تربیت یافتہ تھے۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان مبارک سن لیا تھا اِس لیے آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابو سفیان کو صلح کے معاملے میں   مایوس کردیا۔اِس سے آپ کی واضح شان کریمی ظاہر ہوئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد دیگر صحابہ نے بھی آپ کی اتباع کی۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بڑا مقام ومرتبہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مشورےکے بعد آپ کے مشورے کی تائید بھی فرمائی۔

 غزوۂ فتح مکہ کی خبر دینے پرفاروقِ اعظم کا جلال:

 



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  حدیث فتح مکۃ ،  ج۸ ،  ص۵۴۲ ،  حدیث: ۵۳۔



Total Pages: 349

Go To