Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ فتح مکہ میں   سب سے بڑی سعادت حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت نصیب ہوئی ،  اِس کے علاوہ یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ جب کفارِ مکہ کا مشہور سردار ابو سفیان صلح کے قدیم معاہدے کو مستحکم کرنے کی درخواست لے کر آیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس کی درخواست کو رد کردیا  ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بھی تائید حاصل ہوئی۔چنانچہ ،

جب خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو اُس وقت زمانۂ جاہلیت میں   قبیلۂ بنوخزاعہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا حلیف قبیلہ تھا ،  جبکہ قبیلۂ

بنوبکر کفار قریش کا حلیف تھا لہٰذا بنو خزاعہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صلح میں   داخل تھے اور بنو بکر قریش کی صلح میں   داخل تھے۔ بنو خزاعہ اور بنو بکر کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو کفار قریش نے بنوبکر کی مدد کی ،  اُنہیں   اسلحہ دیا ،  کھانے پینے کا سامان وغیرہ بھی دیا نیز اُن کی پشت پناہی بھی کی۔ اُس جنگی مدد کے نتیجے میں   بنو بکر کو بنو خزاعہ پر غلبہ حاصل ہوگیا اور اُن کے بہت سے افراد قتل ہوئے ،  اب قریش خوفزدہ ہوئے کہ مسلمان کہیں   معاہدہ نہ توڑ دیں  ۔لہٰذا اُنہوں   نے بچ بچاؤکے لیے اپنے بااثر سردار ابو سفیان([1])کو بھیجا تاکہ وہ معاہدے کو مضبوط کرے اور لوگوں   میں   صلح کرائے۔ چنانچہ ابو سفیان مدینہ منورہ پہنچا۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اَصحاب کو غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ قَدْ جَاءَكُمْ اَبُوْسُفْيَانَ وَسَيَرْجِعُ رَاضِياً بِغَيْرِحَاجَتِهیعنی ابو سفیان تمہارے پاس آرہا ہے اور عنقریب وہ راضی خوشی اپنا کام مکمل کیے بغیر ہی واپس لوٹ جائے گا۔ ‘‘  ابو سفیان سیِّدُنا حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیااور کہنے لگا کہ  ’’ اے ابوبکر! لوگوں   سے کہو کہ معاہدے کی پاسداری کریں   ۔ ‘‘ 

سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَيْسَ الْاَمْرُ اِلَيَّ اَلْاَمْرُ اِلَى اللہِ وَاِلٰى رَسُوْلِهِیعنی یہ معاملہ میرے ہاتھ میں   نہیں   ہے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّاور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ہے۔ ‘‘   پھر وہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   آیا اور اُن سے بھی وہی بات کہی جو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہی تھی ،  انہوں   نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنْقَضْتُّمْ فَمَا كَانَ مِنْهُ جَدِيْداً فَابْلَاهُ اللہُ وَمَا كَانَ مِنْهُ شَدِيْداً اَوْ قَالَ مَتِيْناً فَقَطَعَهُ اللہُیعنی معاہدہ تم لوگوں   نے توڑا ہے ،  اب اس میں   جو نئی بات پیدا ہوئی ہےاللہ عَزَّوَجَلَّاسے پرانا کردے گا اور جو سخت بات پیدا ہوئی ہے اُسے ختم فرمادے گا۔ ‘‘ 

ابو سفیان نے بڑی حیرت سے کہا:   ’’ مَا رَاَيْتُ كَالْيَوْمِ شَاهِدَ عَشِيْرَةٍ یعنی میں   نے ایسا مضبوط معاشرہ آج تک نہیں   دیکھا۔ ‘‘  (کہ جس میں   سب کی رائے ایک ہی ہو۔) بہرحال وہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے پاس بھی گیا لیکن ہر جگہ سے تقریباً یہی جواب ملا اور وہ واپس مکہ لوٹ گیا۔([2])

غزوۂ فتح مکہ کے لیے فاروقِ اعظم کی رائے کو ترجیح:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک بہت بڑی سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوۂ فتح مکہ کے معاملے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کو ترجیح دی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لائے اور دروازے پر ہی تشریف فرما ہوگئے۔آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تنہائی میں   تشریف فرما ہوتے تو آپ کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں   آتا تھا جب تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خود کسی کو اپنے پاس نہ بلائیں  ۔

چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تھوڑی دیر بعد ارشاد فرمایا:   ’’ اُدْعُ لِيْ اَبَابَكْرٍ یعنی ابوبکر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا لائے ۔ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  حاضر ہوئے  تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے بیٹھ ہوگئے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کافی دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کواپنی دائیں   طرف بٹھالیا۔ پھر ارشاد فرمایا:   ’’ اُدْعُ لِيْ عُمَرَ یعنی عمر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہوئے اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی کافی دیر تک گفتگو فرماتے رہے لیکن اِس گفتگو میں   حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز بلند ہوگئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  عرض کر رہے تھے:  ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ هُمْ رَاْسُ الْكُفْرِ هُمُ الَّذِيْنَ زَعَمُوْا اَنَّكَ سَاحِرٌ وَاَنَّكَ كَاهِنٌ وَاَنَّكَ كَذَّابٌ وَاَنَّكَ مُفْتِرٌیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اہل مکہ کفر کے بڑے سردار ہیں   ،  یہ وہ لوگ ہیں   جنہوں   نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجادوگر کہا ،  کاہن کہا ،  جھوٹا کہا ،  بہتان لگانے والا کہا۔ ‘‘   بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کفار مکہ کے خلاف دیگر اہم باتیں   بھی بیان کردیں  ۔ پھر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی دوسری جانب بٹھادیا۔ اب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک جانب سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دوسری جانب سیِّدُنا عمر

فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے۔

 



[1]    سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبعدمیں   فتح مکہ کے موقع پرمسلمان ہوگئے تھے۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  حدیث فتح مکۃ ،  ج۸ ،  ص۵۳۱ ، حدیث: ۴۔



Total Pages: 349

Go To