Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ہر اُس چیز سے پیاری ہے جس پر آفتاب طلوع ہوا اور وہ سورت یہ ہے:   ’’ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا۔ ‘‘  ([1])

صلح حدیبیہ کے نتائج:

اِس صلح کے نتیجے میں   مسلمانوں   کے لیے فتوحات کا دروازہ کھل گیااور نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کےسَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اگلے سال ۱۱رمضان المبارک ۸ ہجری کو بڑی شان وشوکت کے ساتھ تقریباً دس ہزار صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ساتھ مدینۂ منورہ سے مکۂ مکرمہ کوروانہ ہوئے اورچند روز بعد ۲۰ رمضان المبارک کو فتحِ عظیم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں   داخل ہوئے اِسی کا نام فتحِ مکہ ہے۔

رسول اللہ کا شاہانہ مدنی جلوس

مکۂ مکرمہ میں   مسلمان اِس شان سے داخل ہوئے کہ حضور نبی ٔکریم ، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنی اونٹنی

 ’’ قصواء ‘‘  پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔آپ کے پیچھے حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کے ایک جانب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دوسری جانب حضرت سیِّدُنااُسید بن حضیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ آپ کے چاروں   طرف جوش وخروش میں   بھرا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شاہی سواری تھی۔اِس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود تاجدارِ رسالت ،  شہنشاہ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اِس طرح سر جھکائے اونٹنی پر بیٹھے تھے کہ آپ کا سرانور اونٹنی کے پالان سے بار بار لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع ،  خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں   اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔ ([2])

(۷ ہجری) غَزْوَۂ خَیْبَر اور فاروقِ اعظم

٭…محرم الحرام کے مہینے میں   حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خیبر پر لشکر کشی فرمائی۔ یہ مدینہ منورہ سے ملک شام کی جانب بہت سے قلعوں   والا شہر ہے جس میں   یہودی آباد تھے۔ مدینہ منورہ سے ملک شام کی سمت آٹھ ۸روز کی مسافت پر واقع ہے۔

٭…اِس غزوے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چودہ سو۱۴۰۰پیدل اور دو سو ۲۰۰سوارصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ اس مہم پر روانہ ہوئے ،  ام المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی اِس سفر میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھیں  ۔

٭…مدینہ منورہ میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا سباع بن عرفطہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنانائب مقرر فرمایا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دس روز سے کچھ اُوپر اُن کا محاصرہ جاری رکھا اور آخر کار صفر المظفر کے مہینے میں   اُسے فتح کرلیا۔([3])

اِس غزوۂ خیبر میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  

جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

لشکر اسلام کی دائیں   جانب کی کمانڈفاروقِ اعظم کے پاس:

غزوۂ خیبرمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکوسب سےبڑی سعادت تو یہی نصیب ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں   کفار کے خلاف برسر پیکار تھے ،  اس کے علاوہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ آپ کو لشکر اسلام کی دائیں   جانب کی کمانڈ دی گئی۔ ([4])

لشکرکے مختلف حصوں   کے نام:

واضح رہے کہ جنگی لشکر اورکے مختلف حصوں   کے مختلف نام ہیں   ،  جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭… ’’ مُقَدَّمَۃُ الْجَیْش ‘‘   اس لشکر کو کہتے ہیں   جسے آگے بھیج دیا جائے۔

٭… ’’ طَلِیْعَہ ‘‘  اس لشکر کو کہتے ہیں   جو فوج کے آگے دشمن کی نقل وحرکت کا پتا لگاتا رہے ،  نیز پانی ،  اترنے کی بہترین باسہولت جگہ تلاش کرے۔

٭… ’’ ھَرَاوَل ‘‘  فوج کے اس تھوڑے سے حصے کو کہتے ہیں   جو آگے آگے چلے اور لشکر پیش خیمہ ہو۔

٭… ’’ مَیْمَنَہ ‘‘   دائیں   طرف یا دائیں   بازو کی فوج کو کہا جاتاہے۔

٭… ’’ مَیْسَرَہ ‘‘   بائیں   طرف یا بائیں   بازو کی فوج کو کہا جاتاہے۔

٭… ’’ مُقَدَّمَہ ‘‘   فوج کے اگلے حصے کو کہا جاتاہے۔

 



[1]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  غزوۃ الحدیبیہ ،  ج۳ ،  ص۷۳ ،  حدیث: ۴۱۷۷۔

[2]    شرح  الزرقانی علی المواھب ، کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الفتح الاعظم ،   ج۳ ،  ص۴۳۲ ، سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۱۷۱ ملخصا۔

[3]    سیرتِ سیدالانبیاء ،  ص۱۶۹۔

[4]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۷۶۔



Total Pages: 349

Go To