Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے اُن کے پاس گئے اور اُن کے پوچھنے پر اِشارے سے انہیں   بتادیا کہ اُن کا اَنجام موت ہے۔([1])

یعنی اُس وقت سیِّدُنا ابو لبابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قلب مغلوب ہوگیا جس کا سبب  ’’ مخلوق خدا پر شفقت ‘‘   تھا  ، خلق خدا پر شفقت اگرچہ بہت اچھی بھی ہے اور مطلوب شرعی بھی لیکن یہاں   مطلوب شرعی اس کا غیر تھا۔

(2)…دوسرا غلبہ وہ ہے کہ جو نورِ ایمان کی طرف سے ہو اور اعلیٰ مقامات سے بجلی کی شعاع کی طرح دل میں   اتر جائے اور اس کا سبب رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل وکرم ہوتا ہے ، اِسے کشف اور اِلہام ربانی بھی کہتے ہیں  ۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر دونوں   طرح کے غلبوں   کا حال ظاہر ہوا۔ مثلا صلح حدیبیہ میں   جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قلب نے مغلوب ہو کر کفار سے صلح کے معاہدے کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا اُس کا سبب ایک امر شرعی یعنی  ’’ صلح نہ کرکے مسلمانوں   کی رفعت وبلندی ‘‘   تھا۔لیکن اُس وقت وہ پسندیدہ نہ تھا

 کہ وہ مصلحت کلیہ کے خلاف تھا نیز اُس کے مقابل آئندہ سال مسلمانوں   کو حاصل ہونے والی رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے فتح مبین تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب یہ بات واضح ہوئی تو اس کے کفارے میں   روزے رکھتے  ،  صدقہ کرتے اور غلام آزاد کرتے رہے۔جبکہ وہ تمام واقعات جن میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رَبّ

 عَزَّ وَجَلَّ اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تائید حاصل ہوئی وہ غلبہ کی دوسری قسم سے ہیں   کہ اُن آراء میں   فضل خداوندی کو دخل تھا جس سے اُس معاملے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کشف اور اِلہام ربانی ہوا۔جیسے عبد اللہ بن اُبی کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے کھڑے ہوگئے اُس وقت جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر غلبہ تھا وہ دوسری قسم سے تھا یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نہ تو اُس کا کفارہ ادا کرنا پڑا اور نہ ہی وہ ناپسندیدۂ الٰہی تھا بلکہ وہ شرعاً محمود تھا کہ بعد میں   اُسے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی تائید حاصل ہوگئی اور منافقین کی نماز جنازہ پڑھانے کی ممانعت وارد ہوگئی۔

٭…واضح رہے کہ بعض اوقات سالک یعنی معرفت الہیکی منزلیں   طے کرنے والے کو غلبے کی اِن دونوں   قسموں   میں   سے ایک قسم کا دوسری قسم پر اشتباہ ہوجاتاہے اور اُس کی سمجھ بوجھ اُسے حل نہیں   کرپاتی ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی کتنی ہی مرتبہ اُن غلبات کے درمیان اشتباہ واقع ہوا تھا اور حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کو الگ الگ کرکے دکھادیا ،  یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِس معاملے میں   پورے تجربہ کار ہوگئے پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کوئی اشتباہ نہیں   ہوتا تھا اس وقت آپ  ’’ مُحَدَّثِ کَامِلْ ‘‘   ہوگئے۔یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات ایسی کامل ہوگئی کہ جب آپ اپنی رائے پیش کرتے تو وہ مکمل الہام ربانی کا مظہر ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ لِكُلِّ اُمَّةٍ مُحَدَّثًا وَاِنَّ مُحَدَّثَ هٰذِهِ الْاُمَّةِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِیعنی ہر امت میں   ایک مُحَدَّثْ ہوتا ہے ، بے شک میری امت کے مُحَدَّثْ عمر بن خطاب ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

دوسرا نکتہ:

تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان خود سے ہدایت یافتہ نہیں   بلکہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضل وکرم سےہدایت یافتہ بنے۔اللہ عَزَّوَجَلَّقرآن پاک میں   ارشاد فرماتا ہے:  (وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ(۵۲))

(پ۲۵ ،  الشوری: ۵۲) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔ ‘‘ 

خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی پاکیزہ ذات مبارکہ سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی ہدایت وتربیت مختلف طریقوں   سے ہوتی تھی ،  کبھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی بات کا حکم ارشاد فرماتے  ،  کبھی کسی کام سے منع فرمادیتے ،  اِس طرح صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کومعلوم ہوجاتا کہ فلاں   کام کرنا ہے اور فلاں   کام نہیں   کرنا۔ کبھی کسی معاملے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال فرماتے ،  کبھی ڈرانے والا خطاب فرماتے جس سے اُس معاملے کی نوعیت صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر واضح ہوجاتی کہ فلاں   کام کو نہ کرنے کی کتنی سختی سے ممانعت ہے ،  اور کبھی فقط رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت مبارکہ سے ہی تربیت ہوجاتی۔ پس رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو تنبیہ کرنا یا اُن کی تہدید وتخویف وغیرہ یہ سب اُن کو مرتبۂ سعادت پر پہنچانے کے اَسباب ہی ہیں   اور اِس طرح کے واقعات کو تربیت نبوی کے پیرائے میں   بیان کرتے ہوئے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی شان اور عظمت کو بیان کرنا چاہیے۔ اِسی بناء پر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اَصحاب کے بارے میں   رَبّعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   یوں   عرض کرتے:   ’’ يَارَبِّ اِنِّيْ بَشَرٌ اَغْضِبُ كَمَا يَغْضِبُ الْبَشَرُ فَاَيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ سَبَبْتُ اَوْ لَعَنْتُ  فَلَا تُعَاقِبْهُ بِهَا  وَلَا تُعَذِّبْهُ  وَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَاَجْراًیعنی اے میرے پروردگار! میری ظاہری صورت بشر ہے اور دوسرے انسانوں   کی طرح میں   بھی غصہ کرتا ہوں   لہٰذا ہر وہ مسلمان جسےمیں   نے سب کیا ہویا اس پر کسی وجہ سے ملامت کی ہو تو میرے ان افعال کے سبب نہ تو اس کی پکڑ فرمانا اور نہ ہی عذاب دینا ،  بلکہ ان افعال کو قیامت کے دن اس کے حق میں   رحمت ،  پاکیزگی اورقربت کا ذریعہ بنادے۔([3])

اور اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   سے ایسے اصحاب ہوں   کہ جس کی ذات مبارکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ڈرانے کے بغیر ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقصدِ حقیقی تک پہنچ جائے تو یہ رَبّعَزَّوَجَلَّکی عنایات خاصہ میں   سے ایک مخصوص عنایت ہے ،  کہ اُسے رَبّعَزَّوَجَلَّاپنے مخصوص بندوں   ہی کو نوازتا ہے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رَبّعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ سے یہ عنایتِ خاصّہ بھی حاصل ہوئی اور بعض اوقات تَخْوِیْفْ وتَھْدِیْدْ یعنی ڈرانے

 



[1]    اسد الغابۃ ،  رفاعۃ بن عبد المنذر ،   ج۲ ،  ص۲۷۴ ملخصا۔

[2]    کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضائل الفاروق ، الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۶۹ ،  حدیث: ۳۵۸۶۸۔

[3]    مسلم ،  کتاب البروالصلۃ ،  باب من لعنہ النبی۔۔۔الخ ،  ص۱۴۰۱ ،  حدیث: ۸۹۔



Total Pages: 349

Go To