Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس سفر میں   حضرت سیِّدُنا نمیلہ بن عبد اللہ لیثی (یعنی سیِّدُنا ابو سعید خدری)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔([1])

٭…ذوالحلیفہ کے مقام سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عمرے کا اِحرام زیب تن فرمایا۔ کفار کی عداوت کے باعث آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس سال عمرہ ادا نہ فرماسکے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اگلے سال عمرہ ادا فرمایا۔حدیبیہ میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تئیس ۲۳راتیں   قیام فرمایا اور ماہ ذی الحجہ میں   واپس مدینہ منورہ کا سفر اختیار فرمایا۔

٭… ’’ حدیبیہ ‘‘   مکہ مکرمہ سے مغرب کی سمت میں   ایک چھوٹے سے گاؤں   کا نام ہے۔ جو مکہ معظمہ سے بارہ ۱۲ میل کی مسافت پر واقع ہے ،  یہ جدہ شریف اور مکہ مکرمہ کے درمیان واقع ہے ،  اِس جگہ پر ایک کنواں   ہے جسے  ’’ حدیبیہ ‘‘   کہتے تھے اس وجہ سے اس بستی کوبھی  ’’ حدیبیہ ‘‘   کہنے لگے ،  آج کل اس کنویں   کو  ’’ بِیْرِ شُمَیْسْ ‘‘   کہا جاتاہے۔([2])

غزوۂ حدیبیہ میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

فاروقِ اعظم کی بیعتِ رضوان میں   شرکت:

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِسی حدیبیہ کے مقام پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ببول کے ایک درخت کے نیچے بیعت لی  ،  اس کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں   ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی ۔اِس بیعت کا ذکر قرآن مجید میں   یوں  کیا گیا:  (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ)  (پ۲۶ ،  الفتح:  ۱۸) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں   سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔ ‘‘ 

علامہ ابن عبد البر مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ شَهِدَ بَدْراً وَبَيْعَةَ الرِّضْوَانِ وَكُلَّ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بدر اور بیعت رضوان میں   بھی شرکت کی نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تمام جنگوں   میں   شرکت کی۔ ‘‘  ([3])

بارگاہِ رسالت سے دوعظیم اعزاز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ بیعت رضوان میں   شامل تھے اس لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیعت رضوان میں   شامل ہونے والے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جوجو خوشخبریاں   عطا فرمائیں   وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی حاصل ہوئیں  ۔خصوصاً جہنم میں   داخل نہ ہونے کی بشارت۔ چنانچہ ،

حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیعت رضوان میں   شامل ہونے والے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ اَهْلِ الْاَرْضِیعنی آج کے دن تم لوگ پوری دنیا کے لوگوں   سے بہتر ہو۔ ‘‘   ([4])

اور ایک حدیث مبارکہ میں   ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں   ارشاد فرمایا:   ’’ لَا يَدْخُلُ النَّارَ اِنْ شَاءَ اللہُ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ اَحَدُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا تَحْتَھَایعنی جنہوں   نے درخت کے نیچے بیعت کی اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو ان میں   سے کوئی بھی جہنم میں   داخل نہیں   ہوگا۔ ‘‘  ([5])

بیعت رضوان سے کفار خوف زدہ ہوگئے:

بیعت کی خبر سے کفّار خوف زدہ ہوئے اور اُن کے اہل رائے نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں    ،  چنانچہ صلح نامہ لکھا گیااور چونکہ یہ مقام حدیبیہ میں   لکھا گیاتھا اس لیے  ’’ صُلْح حُدَیْبِیَّہ ‘‘  کے نام سے مشہور ہوگیا۔ صلح نامے میں   یہ طے پایاکہ مسلمان اِس سال واپس مدینے چلے جائیں   اور اگلے سال آکر عمرہ کر لیں   مسلمانوں   کے لیے یہ شرط سخت تکلیف کا باعث تھی خصوصاًحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُسے مسلمانوں   کی توہین سمجھا اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  و حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ چنانچہ ،

 صلح حدیبیہ پرفاروقِ اعظم کی غیرت ایمانی:

حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں   کہ میں   سیِّد عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا آپاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے نبی نہیں  ؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ کیوں   نہیں  ۔ ‘‘   میں   نےعرض کی:   ’’ کیاہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں  ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ کیوں   نہیں  ۔ ‘‘   میں   نے عرض کی:  ’’  پھر ہم دین کے معاملہ میں   اتنے پست کیوں   ہو گئے؟ ‘‘   سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا رسول ہوں   اور اس کی مرضی کے خلاف نہیں   چل سکتا وہی میرا مددگار ہے۔ ‘‘   میں   نے عرض کیا:  ’’



[1]    طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ الحدیبیۃ ،  ج۲ ،  ص۷۳ ،  سیرۃابن ھشام ،  امر الحدیبیۃ۔۔۔الخ ،  نمیلۃ علی المدینۃ ،  ج۲ ،  ص۲۶۳۔

[2]    سیرتِ سیدالانبیاء ،  ص۱۶۷۔

[3]    الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۶۔

[4]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الحدیبیۃ ،  ج۳ ،  ص۶۹ ،  حدیث: ۴۱۵۴ ملتقطا۔

[5]    مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب من فضائل اصحاب الشجرۃ ۔۔۔ الخ ،  ص۱۳۵۶ ،  حدیث: ۱۶۳۔



Total Pages: 349

Go To