Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن وہب اور وہ مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کے حوالے سے بیان کرتے ہیں   کہ ایک رات حضرت سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خطاب کے گھر میں   روشنیاں   نظر آئیں    ،  پوچھنے پر معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے۔([1]) (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیدا ہوئے ۔)

فاروقِ اعظم کی جائے پرورش:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ میں   ہی پیدا ہوئے اور مکہ مکرمہ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جائے پرورش ہے ،  بچپن سے لے کر جوانی تک ،  نیز مدینہ منورہ ہجرت سے قبل تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مکہ مکرمہ میں   ہی زندگی گزاری۔

دورِ جاہلیت میں   فاروقِ اعظم کا گھر:

حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہمحمد بن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اُمورِ مکہ کے عالم حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن محمد مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سےپوچھا:   ’’ زمانہ جاہلیت میں   امیر المومنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا گھر کہاں   تھا؟ ‘‘  آپ نے فرمایا:   ’’ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رہائش گا ہ اس پہاڑ پر تھی جو آج کل  ’’ جبل عمر  ‘‘  کے نا م سے مشہور ہے ،  زمانہ جاہلیت میں   اس کانا م ’’ عاقر  ‘‘  تھا پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نا م سے منسوب کر دیا گیا ، اسی پہاڑ پر قبیلہ بنو عدی (سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قبیلہ )آباد تھا۔([2])

فاروقِ اعظم  کا حسنِ ظاہری

فاروقِ اعظم کی مبارک رنگت :

حضرت سیِّدُنا ابن قتیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   کہ  ’’ کوفہ کے لوگوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جو حلیہ بیان کیا ہے اُس کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رنگ گہرا گندمی تھا۔جبکہ اہل حجا ز نے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حلیہ بیان کیا ہے اس کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رنگت بہت سفید تھی بلکہ ایسی سفید تھی جیسے چونا ہوتا ہےاور لگتا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جسمِ مبارک میں   خون ہی نہیں   ہے۔ ‘‘  ([3])

علامہ واقدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ  ’’ جنہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گندمی رنگ ہونے کا قول کیا ہے ان کی بات درست نہیں   کہ انہوں   نے آپ کو  ’’ عَامُ الرَّمَادَ ہ ‘‘   یعنی قحط سالی والے سال دیکھا تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سال دودھ اور چربی وغیرہ کھانا چھوڑ دیا تھا صرف زیتون کا تیل استعمال فرماتے ہیں   جس کے سبب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رنگت گندمی ہوگئی تھی۔ ‘‘  علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے بھی بعض فاروقی حضرات سے یہی قول نقل کیا ہے۔([4])

فاروقِ اعظم کا قد مبارک:

حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اکثر لوگوں   نے یہی بیان کیا ہے کہ ’’  کَانَ عُمَرُ طَوِیْلًا جَسِیْماً  یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لمبے قد والے اور بھاری جسم والے تھے۔ ‘‘   چند لوگوں   میں   جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوتے تو یوں   معلوم ہوتا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر لوگوں   کو اوپر سے دیکھ رہے ہیں  ۔([5])

فاروقِ اعظم کی مبارک آنکھیں   اور رخسار:

حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھیں   لال سرخ اور رخساربہت ہی پتلے اورکمزورتھے۔([6])

فاروقِ اعظم کی داڑھی مبارکہ:

حضرت سیِّدُنا ابو عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ’’ کَانَ کَثُّ اللِّحْیَۃِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی مبارکہ گھنی و گھنگریالی تھی۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم کی داڑھی گھنی تھی:

اعلیٰ حضرت ،  امام اہلسنت ،  عظیم البرکت ،  مجدددین وملت ،  پروانہ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں  :   ’’ شیخ محقق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مدارج النبوۃ میں   فرماتے ہیں  :  ’’ عادت سلف دریں   باب مختلف بود آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پرمی کرد سینہ اُورا وھمچنیں   عمر وعثمان رضی ﷲ تعالی عنھم اجمعین و نوشتہ اند کان الشیخ محی الدین رضی ﷲ تعالی عنہ طویل اللحیۃ وعریضھا یعنی اسلاف کی عادت اس بارے میں   مختلف تھی چنانچہ منقول ہے کہ امیر المومنین حضر ت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی ان کے سینے کو بھردیتی تھی اس طرح حضرت فاروقِ اعظم اور حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی مبارک داڑھیاں   تھیں   ،  اور لکھتے ہیں   کہ شیخ محی الدین سیِّدُنا عبدالقادر جیلانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لمبی اور چوڑی داڑھی والے تھے۔  ‘‘  ([8])

 



[1]     مناقب امیر المؤمنین  عمر بن الخطاب ،  الباب الاول ،  ص۱۳۔

[2]     طبقا ت کبری  ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۰۱۔

[3]     معرفۃ الصحابۃ ، معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  معرفۃ صفۃ عمر ،  ج۱ ،  ص۶۹ ،  الرقم: ۱۷۰ ملتقطا ،   ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،   ص۲۷۴۔

[4]     تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۳ ،  الاصابۃ  ، عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۴۸۴ ،  الرقم:  ۵۷۵۲۔

[5]     معرفۃ الصحابۃ  ،  معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  معرفۃصفۃ عمر ،  ج۱ ،  ص۶۹ الرقم:  ۱۷۰ ، ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۲۷۴ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۳۔

[6]     معرفۃ الصحابۃ  ، معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  معرفۃ صفۃ عمر ،  ج۱ ،  ص۶۹ ،  الرقم: ۱۷۰ ملتقطا۔

[7]     الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۶ ،  الرقم:  ۱۸۹۹۔

[8]     فتاویٰ رضویہ  ،  ج۲۲ ،  ص۵۸۴ ۔



Total Pages: 349

Go To