Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَجَلَّ بہت بڑا ہے!مجھے یمن کی کنجیاں   عطا کی گئی ہیں   اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم میں   صنعاء کے دروازوں   کو یہاں   سے دیکھ رہا ہوں  ۔ ‘‘  ([1])

سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کیسی طاقت وقوت عطا فرمائی ہے کہ جو پتھر کسی سے نہ ٹوٹ سکا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے ریزہ ریزہ فرما دیا ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کیسی بصارت عطا فرمائی ہے کہ مدینہ منورہ کے ایک مقام پر کھڑے ہو کر ملک شام ،  ملک ایران اور ملک یمن کے قصور ومحلات ملاحظہ فرمارہے ہیں  ۔

٭…مسلمان خندق کی کھدائی سے فارغ ہوئے تو لشکرِ کفار نمودار ہوا اور خندق کے باہر خیمہ زن ہو کر محاصرہ کرلیا۔ اِس غزوے میں   مسلمانوں   کو بہت مشقت اُٹھانی پڑی ،  محاصرے کی طوالت سے تنگ آکر مشرکین نے ایک روز ایک ساتھ خندق کی ایک جانب سے حملہ کردیا اوررات گئے تک جنگ جاری رہی ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُن پر شدید آندھی اور زلزلہ مسلط فرمادیا جس سے اُن کے خیمے اکھڑ گئے ،  کھانے کی دیگیں   الٹ گئیں   ،  اُن کے دلوں   میں   رعب ڈال دیا گیااور وہ فرار ہوگئے۔ اِس غزوے میں   چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے شہادت پائی اور مشرکین سے چار اَفراد واصل جہنم ہوئے۔ ([2])

اِس غزوۂ خندق میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

خندق کی ایک جانب فاروقِ اعظم کے پاس:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ خندق میں   جوسعادتیں   حاصل ہوئیں   اُن میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خندق کی ایک جانب کی حفاظت کی ذمہ داری آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سپرد فرمادی ،  اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کفار سے برسرپیکار ہوگئے۔([3])

فاروقِ اعظم نے لشکر کفار پر حملہ کردیا:

اِسی جنگ خندق میں   ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   نے کفار کے لشکر جو خندق پار کرنے کی کوشش میں   مصروف تھا ایک زور دار حملہ کردیا اور اُس پورے لشکر کو درہم برہم کردیا۔ البتہ اُن میں   ایک شہسوار جو بہت ہی بہادر اور نڈر تھا  ،  جس کا نام ضرار بن خطاب تھا پلٹا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اُس کا سامنا ہوگیا  ،  اُس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر وار کرنے کے لیے نیزہ کھینچا لیکن پھر اُس کو روک لیا اور کہنے لگا:   ’’ يَا ابْنَ الْخَطّابِ اِنّهَا نِعْمَةٌ مَشْكُورَةٌ وَاللّٰهِ مَا كُنْتُ لَاَقْتُلَك یعنی اے خطاب کے بیٹے! میں   نے تمہیں   قتل نہیں   کیا اور یہ تمہارے لیے ایک ایسی نعمت ہے جس کا تم شکر ادا کرواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   تمہیں   قتل نہیں   کروں   گا۔ ‘‘ 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہی ضرار بن خطاب بعد میں   فتح مکہ کے موقع پر اِسلام لے آئے ،  یہ نہایت ہی بہادر اور جنگجو سپاہی تھے ،  اور فتح مکہ سے قبل تقریباً تمام جنگوں   میں   یہ مسلمانوں   کے خلاف لڑے اور یہی وہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے اِسلام کے خلاف سب سے پہلے اشعار کہے۔ اِسلام لانے کے بعد سیِّدُنا ضرار بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں   کے خلاف

لڑی گئی جنگوں   کا تذکرہ کرتے اور مسلمانوں   کی شجاعت وبہادری نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   شام کی فتوحات میں   بہترین کردار ادا کیا۔([4])

نمازقضا ہونے پر رسول اللہ کی شفقت :

غزوۂ خندق میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کفار کے ساتھ لڑائی کرتے ہوئے ایسے مصروف ہوئے کہ نماز عصر نہ پڑھ سکے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کا بہت افسوس ہوا ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پرخصوصی شفقت کے ساتھ آپ کے تَاَسُّف کا علاج فرمایا۔چنانچہ  ،

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے غزوۂ خندق کے دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کفار کو روکنے کی مصروفیت کے سبب سورج غروب ہونے کے وقت تشریف لائے ،  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آکر کفارِ قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور بارگاہِ رسالت میں   یوں   عرض کیا:   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا كِدْتُ اَنْ اُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَغْرُبَیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اتنی مہلت بھی نہ ملی کہ میں   نماز عصر ادا کرلوں   جبکہ سورج بھی غروب ہونے کے قریب ہے۔ ‘‘ 

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شفقت بھرے الفاظوں   سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تاسف کا مداوا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ وَاللّٰهِ مَا صَلَّيْتُهَایعنی اے عمر! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   نے خود ابھی تک نماز ادا نہیں   کی۔ ‘‘  راوی کہتے ہیں   کہ پھر ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بطحان نامی وادی میں   اتر گئے اور



[1]    مسند امام احمد ،  مسند الکوفیین ،  حدیث البراء بن عازب ،  ج۶ ،  ص۴۴۴ ،  حدیث: ۱۸۷۱۶۔دلائل النبوۃ ،  باب ما ظھرفی حفر الخندق ۔۔۔ الخ ،   ج۳ ،  ص۴۲۱۔سنن کبری للنسائی ،  کتاب السیرۃ ،  حفر الخندق ،  ج۵ ،  ص۲۶۹ ،  حدیث: ۸۸۵۷۔

[2]    المنتظم  ،  فی ھذہ السنۃ کانت غزوۃ۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۲۳۸۔

[3]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۶۷۔

[4]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۲۴ ،  ص۳۹۳۔



Total Pages: 349

Go To