Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے نزدیک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ اُن کے ماں   باپ ،  آل اولاد ،  مال جان سب سے زیادہ محبوب تھی ،  اور کیوں   نہ ہوتی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَ                    لَّم نے خود ارشاد فرمایا:   ’’ لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَیعنی تم میں   کوئی اُس وقت تک کامل مومن نہیں   ہوسکتا جب تک میں   اُس کے نزدیک اُس کے والدین ،  اولاد اور تمام لوگوں   سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں  ۔ ‘‘  ([1])

٭عبد اللہ بن اُبی جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   آیا تو اُس نے جھوٹ بولا اور

جھوٹی قسم بھی اُٹھالی۔معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسم اُٹھانا دونوں   منافق کی علامتیں   ہیں  ۔ سرکارِ والا تَبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار ،  شفیعِ روزِ شُمار ،  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:   ’’ اِنَّ الْکِذْبَ بَابٌ مِّنْ اَبْوَابِ النِّفَاقِ بے شک جھوٹ منافقت کے دروازوں   میں   سے ایک دروازہ ہے۔ ‘‘  ([2])

٭…جب حضرت سیِّدُنا زید بن ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عبد اللہ بن اُبی کی باتیں   بارگاہِ رسالت میں   پہنچائیں   اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے اُن کی تصدیق نہ کی گئی تو سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر غم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے نزدیک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے کسی کو تائید ملنے کی بڑی اہمیت تھی۔ اگر کسی معاملے میں   اُن کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے تائید حاصل ہوجاتی تو اُن کے وارے نیارے ہو جاتے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بات پر اگر بزرگوں   کی تائید حاصل ہوجائے اُس پر خوش ہونا اور تائید نہ ملنے پر غمگین ہونا ایک فطری عمل ہے۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنے اصحاب کاغمزدہ ہونا پسند نہیں   یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے نہایت ہی غمگین حالت میں   دیکھا تو اُن کی دلجوئی فرمائی۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں  کاچھوٹوں   کے پیار سے کان وغیرہ مروڑنا جائز ہے ،  نیز اُن کامسکرا کر دیکھ لینا بھی بہت بڑی حوصلہ اَفزائی ہے۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کان مروڑا اور محبت سے اُن کی طرف دیکھ کر مسکرائے ،  گویا اُنہیں   معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھ سے راضی ہیں   اور اُن پر میرا سارا معاملہ ظاہر ہے۔ فرماتے ہیں  :  ’’ فَمَا كَانَ يَسُرُّنِي اَنَّ لِي بِهَا الْخُلْدَ فِي الدُّنْيَا یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِس مبارک اور پیار بھری اَدا سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر مجھے ہمیشہ کی زندگی مل جاتی تو اِتنی خوشی نہ ہوتی۔ ‘‘  سبحان اللہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا کتنا پیارا عقیدہ تھا کہ اُن کے لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صرف ایک اَدا ہی دنیا ومافیہا بلکہ جنت سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ مبارک عقیدہ

تھا کہ جنت تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ کی صرف ایک نعمت ہے۔ جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دنیا میں   کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو عطا فرمادی۔بلکہ کل بروز قیامت جسے بھی جنت میں   داخلہ نصیب ہوگا وہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی شفاعت واجاز ت سے ہی ہوگا۔

تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب منافق دور ہو

ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہ کی

عرش حق ہے مسند رفعت رسول اللہ کی

دیکھنی ہے حشر میں   عزت رسول اللہ کی

٭…اگرچہ عبد اللہ بن اُبی منافق نے دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سامنے جھوٹ بولا اور جھوٹی قسم تک کھائی لیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے باخبر تھے کہ اِس نے میرے سامنے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹی قسم اُٹھائی ہے۔ نیز زید بن ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بالکل سچے ہیں  ۔کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قتل کی اجازت نہ دینا اور اس کی حکمت عملی کو بیان کرنا ،  نیز حضرت سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مسکرا کر دیکھنا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُن کے معاملے سے باخبر تھے البتہ آپ قرآنی آیات کے نزول کا انتظار فرمارہے تھے۔

٭…شیخین کریمین امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول ہیں   ،  آپ دونوں   اِس بات کو جانتے تھے کہ عبد اللہ بن اُبی کا کذب (جھوٹ)اور زید بن ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا صدق (سچ)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علم میں   ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر ہر ادا پر نظر ہوتی تھی ،  یہی وجہ ہے جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس اُن کی دلجوئی فرمائی تو اِس کے فوراً بعد شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اُن کے پاس تشریف لے آئے ۔نیز شیخین کریمین کے علم میں   یہ بات تھی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فقط زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھ کر مسکرانا ہی اِس بات

پر دلیل ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک وہی سچے ہیں   ،  اِس لیے دونوں   نے سیِّدُنا زید بن ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خوشخبری دی۔

 



[1]    بخاری ،  کتاب الایمان ،  حب الرسول۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۱۷ ،  حدیث: ۱۵۔

[2]    مساوی الاخلاق  ،  باب ماجاء فی الکذب وقبح ما اتی بہ اھلہ ،  ص۶۷ ،  حدیث: ۱۱۱۔



Total Pages: 349

Go To