Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

گَرِفْتَنْ خَطَا اَسْت یعنی بزرگوں   کی غلطیاں   پکڑنا خود ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ ‘‘  حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اختلافی معاملات بھی اُمّت کے لیے بہت بڑی نعمت ہیں   ،  اُن کے اختلافات نہ ہوتے تو اُمّت بڑے بڑے فوائد سے محروم ہوجاتی۔ مثلاً مذکورہ بالا روایت میں   دو صحابیوں   کے جس معاملے کا ذکر ہے اُس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:

٭ ’’ رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کی صحابہ کرام و رسول اللہ کے خلاف دشمنی کھل کر سامنے آگئی۔ ‘‘ 

٭ ’’  تمام لوگوں   کو معلو م ہوگیا کہ یہ بدباطن منافق مسلمانوں   کو لڑانے ہی کے لیے سرگرم رہتاہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ یہ بھی پتہ چل گیا کہ منافقین کا کام جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسمیں   کھاناہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ سورۃ المنافقین کی آیات نازل ہوئیں   اور منافقین کی تکذیب کی گئی۔ ‘‘   وغیرہ وغیرہ

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ جب دو مسلمان آپس میں   کسی بات پر الجھ جائیں   یا اُن کا جھگڑا ہوجائے تو کفار ومشرکین ومنافقین فائدہ اٹھاتے ہیں  ۔اُن کے اختلافات کو ہوا دیتے اور اُن میں   بغض وعناد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ تمام اُمّت مُسْلِمَہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے وہ اِس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں   اور کفار ومشرکین اورمنافقین کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اُن کے فتنوں   سے باخبر رہیں    ،  آپس میں   اِتّحاد واتفاق پیدا کریں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج کے اِس پرفتن دَورمیں   جہاں   کفارومشرکین ومنافقین مسلمانوں   میں   اِفتراق واِنتشار پیدا کرنے کی کوششوں   میں   مصروف ہیں   ،  تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی صحیح العقیدہ مسلمانوں   میں   اِتحاد واِتفاق کی راہ کو ہموار کررہی ہے ،  نیز اُن میں  قرآن وحدیث پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار کرکے اُن کو آخرت کی فکر دلانے میں   مصروف عمل ہے۔ دعوت اسلامی پوری دنیا کے کم وبیش187ممالک میں   اپنا مدنی پیغام پہنچاچکی ہے نیز مزید کوششیں   جاری وساری ہیں   ،  آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے ہردم وابستہ ہوجائیے۔اپنے شہر میں   ہونے والے ہفتہ وارسنتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت فرمائیے ،  ہرماہ۳ کے مدنی قافلے میں   سفر کو اپنا معمول بنالیجئے   اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں   ہاتھ آئیں   گی۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے بغض وعناد رکھنا منافقین کا طریقہ ہے۔ نیز صحابہ کرام ومحبوبِ صحابہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں   گستاخیاں   کرنا ،  اُن کی ذات مبارکہ سے دیگر مسلمانوں   کو بدظن کرنا منافقین کا شیوہ ہے۔ آج کے دور میں   بھی بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں   جو بظاہر کلمہ گو ہیں   ،  نمازیں   پڑھتے ہیں   ،  روزے بھی رکھتے ہیں   ،  حج بھی ادا کرتے ہیں   ،  زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں   لیکن اُن کے دل عشقِ رسول سے خالی اور بغضِ رسول سے بھرے ہوئے ہیں  ۔ایسے لوگوں   سے ہردم ہوشیار ہیے! کبھی بھی اِن کی خشوع وخضوع والی نمازوں   پر نہ جائیے بلکہ ہمیشہ یہ دیکھئے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ،  اولیاء عظام کے بارے میں   اِن کا کیا عقیدہ ہے؟ اگر وہ اِن سے عشق ومحبت رکھتا ہے تو یقیناً وہ ہروقت اِن کا ذکرِ خیر ہی کرے گا نہ کہ اِن مبارک ہستیوں   کی ذات میں   عیوب ونقائص کو تلاش کرکے بیان کرے گا۔ منافقین کو پہچاننے اور اُن کی معرفت حاصل کرنے کے لیے علماء اہلسنت کی صحبت بہت زیادہ ضروری ہے ،  لہٰذا علمائے کرام کی صحبت اختیار کیجئے اور اپنی آخرت کا سامان کیجئے۔

سارے انبیاء سے ہم کو پیار ہے

سب صحابہ سے ہمیں   تو پیار ہے

رب کے اولیاء سے ہمیں   تو پیار ہے

اِنْ شَاءَ اللہُ اپنا بیڑا پار ہے

٭…مذکورہ بالا روایت سے ایک نہایت ہی لطیف نکتہ یہ بھی سامنا آتا ہے کہ عہدِ رسالت میں   دو طرح کے لوگ تھے ،  ایک تو وہ جو ہروقت اس انتظار میں   رہتے تھے کہ کوئی ایسا موقع ملے کہ ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں   کوئی نہ کوئی گستاخی کریں   ،  توہین آمیز الفاظ بکیں    ،  کوئی نہ کوئی عیب نکالیں   اور یقیناً یہ لوگ کفار ومشرکین ومنافقین تھے۔ جبکہ دوسرے وہ لوگ تھے جن کی اپنی ذات کے معاملے میں   جب کوئی بات کی جاتی تو قطعاً اُس کی پرواہ نہ کرتے ،  بلکہ کوئی تکلیف پہنچات        ا تو اُسے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے معاف کردیتے ،  البتہ جب اُن کے محبوب آقا  ، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلاف کوئی فقط اِرادہ بھی کرتا تو اُن کی غیرت ایمانی جاگ اٹھتی ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناموس کے خلاف ایک لفظ سننا بھی اُنہیں   گوارا نہ تھا ،  بلکہ وہ گستاخوں   کے خلاف فی الفور حرکت میں   آجاتے  ،  اُنہیں   منہ توڑ جواب دیتے۔یقیناً پہلی قسم کے لوگ دنیا میں   بھی ذلیل وخوار ہیں   اور آخر ت میں   بھی تباہی اُن کا مقدر ہوگی ،  جبکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجیسی مبارک ہستیاں   دنیا میں   عزت وشرف والے اور آخرت میں   بھی بلند مراتب والے ہوں   گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی محبت عطا فرمائے۔ آمین

٭عبد اللہ بن اُبی کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے والد کی گستاخی پر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے والد کے قتل کی اجازت مانگی۔ معلوم



Total Pages: 349

Go To