Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تمام قیدیوں   کو آزاد کردیاکہ اب یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سسرالی خاندان ہے ، چنانچہ بنی مُصْطَلِق کے اُن افراد کو آزادی نصیب ہوئی ،  سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا    فرماتی ہیں   کہ ’’ میرے علم میں   کوئی دوسری عورت نہیں   جو اپنے خاندان کے لیے اِن سے بڑھ کر باعث برکت ہو۔ ‘‘  ([1])

٭…یہ وہی غزوہ ہے جس میں   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا    کا ہار گم ہوگیا تھا  ،  جس کے سبب قیامت تک کے مسلمانوں   کے لیے تیمم جیسی عظیم نعمت حاصل ہوئی۔ ’’ مُرَیْسِیْع ‘‘   اِس قبیلے  ’’ بَنِیْ مُصْطَلِقْ ‘‘  کے ایک کنویں   کا نام ہے ، کبھی قبیلے کی طرف نسبت کرکے اُسے  ’’ غَزْوَہْ بَنِیْ مُصْطَلِقْ ‘‘   کہا جاتا ہے اور کبھی کنویں   کی طرف نسبت کرکے  ’’ غَزْوَۂ مُرَیْسِیْع ‘‘   کہا جاتاہے۔([2])

اِس غزوۂ بنی مُصْطَلِق میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

مقدمۃ الجیش کے افسر فاروقِ اعظم :

اِ س غزوۂ مُصْطَلِقْ میں   اوّلاً امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ مقدمۃ الجیش کے افسر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی تھے۔  ’’ مقدمۃ الجیش ‘‘   لشکر کے اُس حصے کو کہتے ہیں   جو لشکر کے آگے آگے ہوتا ہے اوراُس کا کام دشمن کی صورت حال سے پورے لشکر کو آگاہ کرنا ہوتاہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کفار کے ایک جاسوس کو پکڑ لیا جو مسلمان لشکر کی جاسوسی کرنے آیا تھا ،  نیز اُس جاسوس سے لشکر کفار کی ضروری معلومات لینے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے قتل کردیا۔ جب کفار کو اِس بات کا علم ہوا تو اُن پر مسلمانوں   کا رعب طاری ہوگیا ،  اور یہی اُن کی شکست کا سبب بھی بنا۔([3])

فاروقِ اعظم ندا کے لیے مامور :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک اور سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عین قتال کے وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اِس بات پر مامور فرمایا کہ آپ یہ ندا کردیں   کہ  ’’ جو کلمۂ اِسلام کہے گا اُسے کچھ نہیں   کہا جائے گا۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم نے منافق کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی:

 ’’ غُزْوَۂ بَنِیْ مُصْطَلِقْ ‘‘  سے فارغ ہو کر جب شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نزول فرمایا تو مہاجرین وانصار کے دو افراد کے مابین کچھ تنازع ہوگیا۔مہاجر صحابیٔ رسول حضرت سیِّدُنا جَھْجَاہ بِنْ سَعِیْد غِفَارِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اجیر تھے۔ بعض کے نزدیک اُن کا نام حضرت سیِّدُنا جَھْجَاہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا۔([5])

اِسی طرح انصاری صحابی کے نام سے متعلق بھی دو قول ہیں  :  ایک قول کے مطابق اُن کا نام حضرت سیِّدُنا سِنَان بِنْ فَرْوَہْ جُھْنِیْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا اور دوسرے قول کے مطابق اُن کا نام حضرت سیِّدُنا سِنَانْ بِنْ تَیْم بن اَوْس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا۔ بہرحال دونوں   نے اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں   کو بلانا شروع کیا۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس کو ناپسند فرمایا۔ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کو معلوم ہوا تو وہ انصار کو ورغلانے لگا اور کہنے لگا :  ’’ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِیعنی یہ جورسول اللہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کےاردگرد لوگ (یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) ہیں   اُن پر تم اپنے مال ومتاع خرچ نہ کرو یہ لوگ خود ہی بھاگ جائیں   گے۔  ‘‘  ساتھ وہ یہ بھی بکواس کرنے لگا:   ’’ وَلَئِنْ رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّیعنی ہم پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزّت والا ہے وہ اس میں   سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلّت والا ہے ۔ ‘‘  اِس منافق خبیث نے  ’’ عزت والے ‘‘   سے اپنی ذات مراد لی اور دوسرے لفظ سے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَرفع واعلی ذات کریمہ مرادلی۔

٭…حضرت سیِّدُنا زید بن اَرقم انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اُس کے الفاظ سنے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اِنَّ مُحَمَّدًا الْعَزِيزُ  ،  وَاَنْتَ الاَذَلُّ اَوْ اَنْتَ الذَّلِيلُ یعنی بے شک محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عزت والے ہیں   اور تو ہی سب سے بڑا ذلیل اور ذلیل وخوار ہے ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ خبر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   پہنچائی ۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہیں   موجود تھے ،  انہوں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:  ’’ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے اِس بات کی اجازت دیجئے کہ میں   اِس منافق کی گردن اڑادوں  ۔ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:   ’’ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ اَصْحَابَهُیعنی اے عمر! اِسے چھوڑ دو ورنہ لوگ باتیں   بنائیں   گے کہ مُحَمَّد  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اپنے ساتھیوں   کو قتل کروارہےہیں۔ ‘‘ 

٭…پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے علم ہونے کے باوجود عبد اللہ بن اُبی کو بلاکر اُس سے استفسار فرمایا تو اُس نے واضح طور پر اِنکار کردیا اور قسم اُٹھا کر کہنے لگا کہ



[1]    کتاب المغازی ،  غزوۃ المریسیع ،  ج۱ ،  ص۴۱۱ ،  طبقات کبری ،  ذکر ازواج رسول اللہ۔۔۔الخ ،  ج۸ ،  ص۹۲۔

[2]    طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۴۸۔

[3]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۶۸ ماخوذا۔

[4]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۶۸ ماخوذا۔

[5]    الاصابۃ ،  جھجاہ بن سعید ،  ج۱ ،  ص۶۲۱ ،  الرقم: ۱۲۴۸۔



Total Pages: 349

Go To