Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی سعادت مندی:

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کہیں   کسی قبیلے میں   کسی معاہدے وغیرہ کے لیے جاتے تو اَکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو ساتھ لے کر جاتے  ،  اِس  ’’ غزوۂ بنو نضیر ‘‘   میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ’’ بنو نضیر ‘‘  کے ساتھ بات چیت کے لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی ساتھ لے کر گئے۔ ‘‘   ([1])

(۴ ہجری)غَزْوَۂ بَدْرُ الْمَوْعِدْ اور فاروقِ اعظم

٭…یہ غزوہ شعبان المعظم کے مہینے میں   سن ۴ ہجری میں   پیش آیا اور ایک قول کے مطابق یک ذی قعدہ کو پیش آیا ،  اس غزوہ کو اِن ناموں   سے بھی یاد کیا جاتاہے:   ’’ بَدْۡرُالْمَوْعِدْ ،  بَدْرُالْمِیْعَادْ ،  بَدْرُالصُّغْریٰ ،  بَدْرُالثَّالِثَہ ،  بَدْرُ الْاَخِیْرَۃْ۔غزوۂ اُحد سے فارغ ہونے کے بعد ابو سفیان اور اُس کے ساتھیوں   نے حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے وعدہ کیا کہ اِسی سال کے اختتام پر ہم دوبارہ  ’’ بدر ‘‘   اور  ’’ صفراء ‘‘   کے مقام پر آئیں   گے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنگ کریں   گے۔ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے مقابلے کے لیے نکلے ،  اِسی وجہ سے اِس غزوے کو  ’’ غَزْوَۃُ بَدْرِ الْمَوْعِدْ یعنی مقام بدر میں   لوٹ کر دوبارہ ہونے والی جنگ ‘‘   رکھا گیا۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن رواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر فرمایا۔ مشرکین کا لشکر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں   سمیت نکل کر  ’’ مَرُّالظَّھْرَانْ ‘‘   تک پہنچا جو

 مکہ اور عُسْفَان کے درمیان مکہ مکرمہ سے ایک دن کی مَسَافت پر واقع ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مشرکین کے دلوں   میں   رُعب ڈال دیا اور وہ وہیں   سے فرار ہوگئے ،  اس کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اپنے صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔([2])

فاروقِ اعظم کی سعادت مندی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ایک تو سب سے عظیم سعادت مندی یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں   اِ س غزوہ میں   شرکت کی اور دوسری سعادت یہ ہے کہدو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ڈیڑھ ہزار(۱۵۰۰ )صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور اِس لشکر میں   صرف دس افراد ایسے تھے جن کے پاس گھوڑے تھے ،  اُن میں   سے ایک سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے ۔ جس مجاہد کے پاس اُس کا گھوڑا ہوتا ہے مال غنیمت میں   بھی اُس کا حصہ دوگنا (Double) ہوتاہے۔([3])

(۵ ہجری)غزوۂ بَنِی مُصْطَلِقْ اور فاروقِ اعظم

٭…غزوۂ  ’’ بَنِیْ مُصْطَلِقْ ‘‘   صحیح قول کے مطابق غزوۂ خندق سے قبل شعبان المعظم کے مہینے میں   پیش آیا۔اِسے غزوۂ  ’’ مُرَیْسِیْع ‘‘   بھی کہتے ہیں  ۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۲ شعبان المعظم سن ۵ ہجری کو تقریباً سات سو ۷۰۰صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ اِس مہم کے لیے روانہ ہوئے اور حضرت سیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو مدینہ منورہ میں   اپنا نائب مقرر فرمایا ،  بعض اَقوال کے مطابق حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔اِس غزوہ میں   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَااور اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھیں  ۔([4])

٭…اِس غزوے کی وجہ یہ ہوئی کہ حارث بن اَبی ضرار جو اپنے قبیلے  ’’ بَنِیْ مُصْطَلِقْ ‘‘   کا سردار تھا ،  اُس نے بعض عرب قبائل کو دعوت دی تاکہ مسلمانوں   کے خلاف جنگی لشکر تیار کیا جاسکے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جب اِس بات کا علم ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت سیِّدُنا بریدہ بن حصیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تحقیق کے لیے بھیجا انہوں   نےاُس کے پاس جاکر معلوم کرلیا کہ واقعی اُن کا جنگ ہی کا ارادہ ہے اور پھر آکررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبردار کردیا ،  اس پررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لشکر کے ساتھ اُن کے خلاف جہاد فرمایا۔([5])

٭…مسلمانوں   کو اس غزوے میں   غلبہ عطا ہوا  ،  صرف ایک صحابی رسول شہید ہوئے ،  جبکہ دشمن کے دس افراد قتل ہوئے  ،  سات سو(۷۰۰ )یا اس سے زائد قید ہوئے ،  مال غینمت میں   چوپائے اور بھیڑ بکریاں   وغیرہ بھی ہاتھ آئیں  ۔ قیدیوں   میں   حضرت سیِّدُنا جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی تھیں   ،  جو بعد میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زوجیت میں   آئیں   اور اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف حاصل کیا۔جب یہ خبر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ملی تو انہوں   نے اُن کے قبیلے کے



[1]    کتاب المغازی ،  غزوۃ بنی نضیر ،  ج۱ ،  ص۳۶۴۔

[2]    کتاب المغازی ،  غزوۃ بدر الموعد ،  ج۱ ،  ص۳۸۴ ،  سیرۃ ابن ھشام ،  ج۲ ،  ص۱۸۰۔

                                                 شرح الزرقانی علی المواھب  ،  غزوۃ بدرالاخیرۃ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۳۶۔

[3]    کتاب المغازی  ،  غزوۃ بدر الموعد ،  ج۱ ،  ص۳۸۷۔

[4]    طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،   ص۴۸۔

[5]    طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۴۹۔



Total Pages: 349

Go To