Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ

میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے

٭…مذکورہ بالا دونوں   روایات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فعلاً اور قولاًدونوں   طرح دفاع کرنے والے ہیں  ۔ کفار کا لشکر جب پہاڑ کے اوپر آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فعلاً (جنگ کے ذریعے)دفاع کیا کہ دشمنوں   کو مار بھگایا اور جب کفار کی طرف سے جنگی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے قولاً ( گفتگو کرکے)دفاع کیا۔

٭…دیگر جید صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی موجودگی کے باوجود حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جواب کا ارشاد فرمانا اِس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس بات کو پسند فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے کفار کو جواب دیں  ۔

٭…ابو سفیان نے جب فقط موجودگی کے متعلق پوچھا تورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دینے سے منع فرمادیا ،  لیکن چوتھی مرتبہ جب شہادت کی بات کی تورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دینے سے منع نہ فرمایا اور اِس بار حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی جواب دیا ،  تو گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو چوتھی مرتبہ جواب دینے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موافقت حاصل ہوئی۔

٭…مذکورہ بالا دونوں   روایات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی دشمن وغیرہ کسی کے خلاف گفتگو کرے تو اسے منہ نہ لگایا جائےلیکن جب وہ حد سے تجاوز کرجائے تو اُس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تین مرتبہ جواب نہ دیا ،  چوتھی مرتبہ جواب دیا۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بزرگوں   کی ذات کے متعلق کوئی باتیں   بنائے ، اُن کی شان میں   گستاخی کرے یا کسی بھی قسم کا کلام کرے تو ہمیں   چاہیے کہ ان کا دفاع کریں   اور اُن کی طرف سے بھر پور جواب دیں   البتہ سزا دینے کی

 اجازت صرف حاکم کو ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سیِّدُنا ابو سفیان کا قبول اسلام:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایات میں   حضرت سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ کی زوجہ ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا دونوں   نے رمضان المبارک ۸ ہجری میں   فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔اور یہی سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاتب وحی حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اوراُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والد ہیں   ۔ ‘‘  ([1])

(۴ ہجری)غَزْوَۂ بَنُونَضِیْر اور فاروقِ اعظم

٭…غزوۂ  ’’ بنونضیر ‘‘   ربیع الاول سن ۴ ہجری میں   پیش آیا۔حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مدینہ منورہ میں   رہتے ہوئے آس پاس کے کئی یہودی قبائل جیسے اَوس ،  خَزْرَج ، بنونضیر وغیرہ سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ مسلمانوں   کے خلاف کسی مہم میں   کفار مکہ کا ساتھ نہیں   دیں   گے ،  نہ ہی اُن کے حلیف یعنی مددگار بنیں   گے ۔  ’’ بنو نضیر ‘‘  یہودیوں   کا ایک بہت بڑا قبیلہ تھا۔ اس قبیلے والوں   کی رہائش مسجد قباء سے پیچھے عالیہ کی سمت میں   مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر تھی۔ ([2])

٭…جنگ اُحد میں   جب مسلمانوں   کو وقتی طور پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو یہی بنو نضیر ابو سفیان کے حلیف بن گئے۔ نیز ایک دواور معاملات میں  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ اِس قبیلے میں   تشریف لے گئے ،  تو اِنہوں   نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدھوکے سے شہید کرنے کی کوشش کی لیکن رَبّعَزَّ وَجَلَّنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو پہلے ہی اِن کے اِس ناپاک ارادے سے خبردار کردیا ۔ بہرحال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کو کفار قریش کی مدد کرنے اور دھوکہ دہی سے کام لینے کی وجہ سے

مدینہ منورہ سے جلاوطنی کا حکم ارشاد فرمادیا۔لیکن رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی نے انہیں   اِس بات پر ابھارا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں   لہٰذا تم لوگ ڈٹے رہو تو سرکارِ مکۂ مکرمہ ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ اِس قبیلے کا محاصرہ کرلیا  ،  منافقین نے اُن کا کوئی ساتھ نہ دیا بہرحال مرعوب ہو کر انہوں   نے ہتھیار ڈال دیےاور جلاوطنی پر مجبور ہوگئے۔([3])

 



[1]    الاصابۃ ،  صخر بن حرب۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۳۳۳ ،  الرقم: ۴۰۶۶۔

[2]    شرح الزرقانی علی المواھب ،  حدیث بنی نضیر ،  ج۲ ،  ص۵۰۵ ،  سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۱۵۸۔

[3]    کتاب المغازی ،  غزوۃ بنی نضیر ،  ج۱ ،  ص۳۶۴ ،  سیرۃابن ھشام ،  غزوۃ بدر۔۔۔الخ ،  امر اجلاء بنی النضیر ۔۔۔ الخ ،   ج۲ ،   ص۱۶۴ ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To