Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَلَا مَوْلَى لَكُمْیعنی ہمارا مددگاراللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے لیکن تمہارا کوئی مددگار نہیں  ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم رسول اللہ کے دفاعی مشیرہیں  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا دونوں   روایات سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کئی اوصاف اور دیگر مدنی پھول حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

٭…جب ابو سفیان نے فقط رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موجودگی کی بات کی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خاموش رہے لیکن جیسے ہی اُس نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ کے وصال کی بات کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رہا نہ گیا اور جذبۂ غیرت ایمانی کے ساتھ کھڑے ہو کر سخت الفاظ میں   جواب دیا۔معلوم ہوا کہ اپنی ذات کے مقابلے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات کو ترجیح دینا سنت فاروقی اور عین ایمان  ،  بلکہ ایمان کی جان ہے اورسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح کیوں   نہ دیتے کہ یہ ایمان افروز تربیت تو انہیں   بارگاہِ رسالت سے ہی عطا ہوئی تھی۔چنانچہ ایک بار فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:  ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اِلَّا مِنْ نَفْسِي یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کی ذات مبارکہ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے سوائے میری جان کے۔ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَنہیں   اے عمر!اُس رَبّعَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! بات اُس وقت تک مکمل نہ ہوگی جب تک میں   تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں  ۔ ‘‘   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ فَاِنَّهُ الْآنَ وَاللّٰهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ نَفْسِي یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں  ۔ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ الْآنَ يَا عُمَرُ یعنی اے عمر! اب بات مکمل ہوگئی۔ ‘‘   ([2])

اللہ کی سر تابقدم شان ہیں   یہ

اِن سا نہیں   انسان وہ انسان ہیں   یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں 

اور ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں   یہ

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ سے یہ والہانہ

محبت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وفات ظاہری کے وقت بھی دیکھنے میں  آئی کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا وِصال ظاہری ہوا تو یہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:   ’’ وَاللّٰهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال نہیں   ہوا۔‘‘([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تمام اُمت مسلمہ کا اِس بات پر اِجماع ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وعدہ الہٰیہ کے مطابق فقط ایک آن کے لیے موت آئی اور پھر دوبارہ اُن کے اجسامِ مبارکہ میں   روح کو لوٹادیا گیا۔اور تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قبور میں   زندہ ہیں   اور رزق دیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْاَرْضِ اَنْ تَاْكُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللّٰهِ حَيٌّ يُرْزَقُ یعنی بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّنے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اَجسام مبارکہ کو کھائے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی زندہ ہوتے ہیں   اور انہیں   رزق دیا جاتاہے۔ ‘‘   ([4])

انبیاء  کو  بھی  اجل  آنی  ہے ،  مگر  ایسی  کہ  فقط  آنی  ہے

پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات ،  مثلِ سابق  وہی  جسمانی ہے

رُوح  توسب  کی ہے زندہ اُن کا ،  جسمِ  پُر نور  بھی  رُوحانی ہے

اَوروں   کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف ،  اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے

پاؤں   جس خاک پہ رکھ دیں   وہ بھی ،  رُوح  ہے  پاک  ہے  نورانی ہے

اُس کی ازواج کو جائز ہے نکاح ،  اُس  کا  ترکہ  بٹے  جو  فانی ہے

یہ  ہیں    حَیٌّ  اَبَدِی  ان  کو رضاؔ ،  صدقِ  وعدہ  کی  قضا  مانی ہے

اعلی حضرت عظیم البرکت ،  امام اہلسنت ،  مجدددین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت ،  حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن حیاتِ اَنبیاء کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

 



[1]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ احد ،  ج۳ ،  ص۳۴ ،  حدیث: ۴۰۴۳ مختصرا۔

[2]    بخاری ،  کتاب الایمان والنذور ،  کیف کانت یمین النبی۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۲۸۳ ،  حدیث:  ۶۶۳۲۔

[3]    بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب قول النبی لو۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۱ ،  حدیث:  ۳۶۶۷ مختصرا۔

[4]    ابن ماجہ ،  کتاب الجنائز ،  باب ذکر وفاتہ ودفنہ ،  ج۲ ،  ص۲۹۰ ،  حدیث: ۱۶۳۶مختصرا۔



Total Pages: 349

Go To