Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کے رسول کا شیر ‘‘   کہہ کر پکارتے ہیں  ۔ ‘‘  آپ کا ایک لقب  ’’ سید الشہداء ‘‘   بھی ہے۔ ([1])

٭…غزوۂ اُحد میں   ستر انصاری اور پانچ مہاجرین صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے جام شہادت نوش فرمایا ،  مہاجرین میں   حضرت سیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب ،  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جحش ،  حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمیر ،  حضرت سیِّدُنا عثمان بن شماس رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے اسماء مبارکہ سر فہرست ہیں۔([2])

اِس جنگِ اُحد میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بڑے بڑے فضائل حاصل ہوئے ،  تفصیل درج ذیل ہے۔

فاروقِ اعظم نے دشمنوں   کو بھگادیا:

جنگ اُحد میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خواہش کو پوراکیا اور کفار قریش کو مار بھگایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن اسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ جنگ اُحد کے روز رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےساتھ ایک پہاڑ کی گھاٹی میں   موجود تھے ، جب کہ قریش کا ایک ٹولہ مسلمانوں   کو ڈھونڈتا ہوا اُسی پہاڑ کے اوپر چڑھ آیا۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں   اپنے سے اوپر دیکھا تو اِس بات کو ناپسند فرمایا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کرتے ہوئے اپنی خواہش کا یوں   اظہار فرمایا:   ’’ لَیْسَ لَھُمْ اَنْ یَعْلُوْنَا یعنی یہ کفار ہم سے بلند نہ ہونے پائیں  ۔ ‘‘  چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

اور دیگر کچھ مہاجر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اُٹھے اور انہیں   پہاڑ سے نیچے بھگا دیا۔([3])

فاروقِ اعظم کو دفاعی جواب دینے کا نبوی حکم:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اِسحاق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ قبول اِسلام سے قبل جب (حضرت سیِّدُنا)ابو سفیان (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے میدان اُحد سے پلٹنے کا ارادہ کیا تو وہ ایک پہاڑ پرچڑھ کر بولے:   ’’  جنگ ایک کھیل ہے ،  (جس میں   ہار بھی ہے ،  اور جیت بھی) دن کا بدلہ دن ہے ،  تم نے بدر میں   ہمارے ستر۷۰ آدمی مارے اور آج ہم نے تمہارے ستر۷۰ آدمی مار(شہید کر)دیئے ،  ہبل ( بت ) کا نام بلند ر ہے(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)۔ ‘‘   اللہ

 عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ قُمْ فَاَجِبْہُیعنی اےعمر ! اُٹھ کر اِسے جواب دو۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اٹھے اور اُسے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَللہُ اَعْلٰى وَاَجَلُّ لَا سَوَاءَ قُتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقُتْلَاكُمْ فِي النَّارِیعنی صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّہی سب سے بلند اور بزرگ وبرترہے  ،  کوئی برابر کا بدلہ نہیں   ہوا کیونکہ ہمارے مقتول (شہداء)جنت میں   ہیں   اور تمہارے دوزخ میں  ۔ ‘‘   جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُسے جواب دے چکے توابو سفیان نے کہا:   ’’ اےعمر ! اِدھر آئو۔ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’  اِئْتِه فَانْظُرْ مَا يَقُوْلُیعنی اے عمر! جائو اورسنو یہ کیا کہتا ہے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُس کے پاس گئے تو وہ بولا:   ’’ اے عمر! تمہیں   خدا کی قسم دیتا ہوں   ،  بتائو کیا محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو ہم نے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)ختم(شہید) کردیا ہے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ لَا وَاِنَّهُ لَيَسْمَعُ كَلَامَكَ الْآنَیعنی خدا کی قسم! ہرگز نہیں   ،  بلکہ وہ اِس وقت بھی تیری گفتگو سن رہے ہیں  ۔ ‘‘   ابو سفیان نے کہا:   ’’ یقیناً تم میرے نزدیک ابن قمئہ سے زیادہ سچے ہو ،  جس نے مجھے کہا ہے کہ میں   نے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) قتل کردیا ہے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کی غیرت ایمانی:

ایک روایت میں   یوں   ہے کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں   موجود تھے تو ابوسفیان ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر یوں   پکارنے لگا:  ’’ اَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌیعنی کیا تم میں   محمد( صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) موجود ہیں  ؟ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تُجِيبُوهُیعنی اُسے جواب نہ دینا۔ ‘‘   اُس نے دوبارہ سوال کیا:  ’’ اَفِي الْقَوْمِ ابْنُ اَبِي قُحَافَةَکیا ابن ابی قحافہ (یعنی سیِّدُنا ابوبکرصدیق) تم میں   موجود ہیں  ؟ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تُجِيبُوهُ یعنی اُسے جواب نہ دینا۔ ‘‘   اس نے دوبارہ سوال کیا:  ’’ اَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِکیا تم میں   ابن خطاب (یعنی عمر فاروقِ اعظم) موجود ہیں  ؟ ‘‘   تو وہ کہنے لگا:  ’’ اِنَّ هَؤُلَاءِ قُتِلُوا فَلَوْ كَانُوا اَحْيَاءً لَاَجَابُوْایقیناً یہ سارے لوگ قتل(شہید) ہو چکے ہیں   ،  اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور جلال میں   آکر ارشاد فرمایا:   ’’ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللّٰهِ اَبْقَى اللّٰهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَیعنی او خدا کے دشمن! تو جھوٹ بول رہا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تجھ پر باقی رکھا ہے اُسے جو تجھے ذلیل ورسوا کردیں   گے۔(یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور میں   بالکل خیریت سے ہیں  ۔) ‘‘   پھر وہ کہنے لگا:   ’’ اعْلُ هُبَلُ یعنی ھبل بت کا نام بلند ہو(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِسے جواب دو۔ ‘‘   عرض کیا:  ’’ کیا جواب دیں  ؟ ‘‘   فرمایا:  ’’ اَللّٰهُ اَعْلَى وَاَجَلُّ یعنی یہ کہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاعلی اور بزرگ وبرتر ہے۔ ‘‘  ابو سفیان کہنے لگا:   ’’ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ یعنی ہمارے لیے مددگار تو عزیٰ بت ہے لیکن تمہار کوئی مددگار نہیں  ۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِسے جواب دو۔ ‘‘   عرض کیا:  ’’ کیا جواب دیں  ؟ ‘‘   فرمایا:  ’’ اَللّٰهُ مَوْلَانَا



[1]    سیرۃ ابن ھشام ،  غزوۃ احد ،  ج۲ ،  ص۸۳۔

[2]    عمدۃ القاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ احد ،  ج۱۲ ،  ص۸۹۔شرح الزرقانی علی المواھب ،  غزوۃ احد ،  ج۲ ،  ص۴۴۹ ،  الروض الانف ،  دفن عبد اللہ۔۔۔الخ ،  ج

Total Pages: 349

Go To