Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

جب وہ پہنچا اُسی وقت امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ مسجد نبوی کے دروازہ پر بیٹھے جنگ بدر کے واقعات کا تذکرہ کررہے تھے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   کا ذکربھی کررہے تھے۔ اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر عمیر بن وہب پر پڑ گئی جس نے مسجد کے دروازے کے سامنے آکر اپنا اونٹ بٹھایا تھا نیز اُس نے اپنے گلے میں   تلوار بھی لٹکا رکھی تھی۔اُسے دیکھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی باکمال فراست کے ذریعے جان لیا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے  ، لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی جوش میں   آگئی اور فرمایا:  ’’ هٰذَا الْكَلْبُ عَدُوُّ اللہِ مَا جَاءَ اِلَّا لِشَرٍّهٰذَا الَّذِيْ حَرَشَ بَيْنَنَا یعنی یہ کُتا خدا کا دشمن عمیر بن وہب ہے جو بڑا فتنہ لے کر آیا ہے۔ اِسی نے بدر کے دن ہمارے اور کفار میں   جنگ بھڑکائی تھی۔ ‘‘   

یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ هٰذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مَعَهُ السَّلَاحُ وَ هُوَ الْفَاجِرُ الْغَادِرُ يَا رَسُوْلَ اللِہ لَا تَاْمَنْهُیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ دشمن خدا عمیر بن وہب مسجد میں   اسلحہ لے کر آیا ہے اور یہ فاجر اور غدار ہے اِسے ہرگز اَمن نہ دیجئے گا۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ اِسے میرے پاس لے کر آئو۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے اور تلوار کی ڈوری جو گلے میں   ڈالی جاتی ہے اُسے پکڑ کر اُس کے گلے میں   پھندا ڈال دیا اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے فرمایا کہ آپ لوگ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس پہنچیں   اور اِس کے شرسے حفاظت کریں   کیونکہ اِس سے اَمن کی کوئی اُمید نہیں   ہے۔ ‘‘   ساتھ ہی عمیر بن وہب کو کھینچ کر دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:   ’’ اےعمر ! اِسے چھوڑ دو۔ ‘‘   پھر فرمایا:   ’’ اے عمیر! میرے قریب آجاؤ۔ ‘‘  وہ قریب ہوگیا اورزمانۂ جاہلیت کا سلام کرتے ہوئے بولا:  ’’  اَنْعِمُوْا صَبَا حاً یعنی نعمتوں   میں   صبح کرتے رہو۔ ‘‘  یہ زمانۂ جاہلیت کا سلام تھا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:   ’’ قَدْ اَكْرَمَنَا اللہُ عَزَّوَجَلَّ عَنْ تَحِيَّتِكَ وَ جَعَلَ تَحِيَّتَنَا السَّلَامَ وَ هِيَ تَحِيَّةُ اَهْلِ الْجَنَّةِ یعنی اے عمیر !   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   تمہارے سلام کے بغیر ہی عزت عطا فرمائی ہے اور ہمیں   وہ سلام عطا فرمایا ہے جو جنت والوں   کا سلام ہے۔ ‘‘   

پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’  یہ بتاؤ تم یہاں   کیسے آئے ہو؟ ‘‘   وہ بولا:   ’’ اُس قیدی کے لیے آیا ہوں   جو تمہارے پاس ہے۔ اُس سے اچھے برتائو کا متمنی ہوں  ۔ ‘‘   فرمایا :  ’’ تو پھر تم نے گلے میں   تلوار کیوں   لٹکا رکھی ہے۔ ‘‘  وہ کہنے لگا:  ’’ اللہ اِس تلوار کا بُرا کرے ،  اِس نے ہمیں   آج تک کیا فائدہ دیا ہے ؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:   ’’  سچ کہو کس اِرادے سے آئے ہو؟ ‘‘  وہ کہنے لگا :   ’’ صرف اِسی لیے آیا ہوں  ۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ فَمَا شَرَطْتَّ لِصَفْوَانِ بْنِ اُمَيَّةَ الْجَمْحِيْ فِي الْحُجْرِ ؟کیا تم نے صفوان بن امیہ جمحی سے بند کمرے میں   کوئی معاہدہ نہیں   کیا؟ ‘‘  یہ سن کر عمیر بن وہب گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ میں   نے اُس سے کیا معاہدہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:   ’’ تَحَمَّلْتَ لَهُ بِقَتْلِيْ عَلٰى اَنْ يُعَوِّلَ بَيْنَكَ وَ يَقْضِيْ دَيْنَكَ وَ اللہُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَ بَيْنَ ذٰلِكَیعنی تم نے اُس سے میرے قتل کا معاہدہ کیا ہے اِس شرط پر کہ وہ تمہارے اہل وعیال کی کفالت کرے گا اور تمہارے قرض کو اداکردے گا حالانکہ تم دونوں   کے مابین ہونے والی گفتگو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم میں   ہے۔ ‘‘  یہ سن کر عمیر بن وہب بولا:  ’’  میں   گواہی دیتا ہوں   کہ آپ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول ہیں   اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ۔ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم آپ کی آسمانی خبروں   کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ‘‘ 

پھر عرض کرنے لگے:   ’’ اِنَّ هٰذَا الْحَدِيْثَ الَّذِيْ كَانَ بَيْنِيْ وَبَيْنَ صَفْوَانَ فِي الْحُجْرِ كَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ اَحَدٌ غَيْرِيْ وَ غَيْرَهُ ثُمَّ اَخْبَرَكَ اللہُ بِهٖ فَآمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِهٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ سَاقَنِيْ هٰذَا الْمَقَامْیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! صفوان اور میرے مابین جو معاہدہ ہوا تھا وہ ایک بند کمرے میں   تھا  ،  ہم دونوں   کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں   تھا ، لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو اُس کے بارے میں   بتا دیا پس میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر ایمان لے آیا اور تمام تعریفیں   اُس ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   جس نے مجھے اِس مقام پر لا کر کھڑا کیا۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا عمیر بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول اِسلام پر تمام مسلمان بہت خوش ہوئے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا ایمان افروز تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ لَخِنْزِيْرٌ كَانَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْهُ حِيْنَ اِطَّلَعَ وَ لَهُوَ الْيَوْمَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيٍّیعنی جب یہ عمیر بن وہب حالت کفر میں   یہاں   آئے تھے تو اُس وقت میرے نزدیک ایک خنزیر اُن سے زیادہ محبوب تھا اور اب قبول اِسلام کے بعد یہی عمیر بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھے میری اَولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں  ۔ ‘‘ 

سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:   ’’ عَلِّمُوْا اَخَاكُمُ الْقُرْآنَ وَ اَطْلَقَ لَهُ اَسِيْرَهُیعنی اپنے اس بھائی کو قرآن سکھائو ۔ ‘‘  اور ان کا قیدی بھی چھوڑ دیاگیا۔ حضرت سیِّدُنا عمیر بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ قَدْ كُنْتُ جَاهِداً مَا اسْتَطَعْتُ عَلٰى اِطْفَاءِ نُوْرِ اللہِ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ سَاقَنِيْ هٰذَا الْمَسَاقَ فَلْتَاَذَّنَ لِيْ فَاَلْحِقُ بِقُرَيْشٍ فَاَدْعُوْهُمْ اِلَى الْاِسْلَامِ لَعَلَّ اللہُ يَهْدِيْهِمْ وَ يَسْتَنْقِذُهُمْ مِّنَ الْهَلَكَةِیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پہلے میں   ہمیشہ اِس بات کی کوشش میں   لگا رہتا تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور کو بجھادوں   لیکن تمام تعریفیں   اُس رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   جس نے مجھے اِس مقام پر کھڑا کردیا ،  اب آپ مجھے اِس بات کی اجازت دیجئے کہ میں   قریش کے پاس جاؤں   اور اُنہیں   اِسلام کی دعوت دوں   ،  ہوسکتا ہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن میں   سے کسی کو ہدایت عطا فرمائے اور اُسے ہلاکت سے بچا لے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ آکر اسلام کی دعوت دینے لگےاور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر کثیر لوگوں   نے اسلام قبول کیا۔ ‘‘  ([1])

 



[1]    معجم کبیر  ، باب العین  ، عمیر بن وھب ،  ج۱۷ ،  ص۵۶ ،  حدیث: ۱۱۷۔



Total Pages: 349

Go To