Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

یہ صفت آپ کو اپنی حیات ظاہرہ میں   بھی حاصل تھی اور اب بھی حاصل ہے ،  اِسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے توسل سے اَولیائے کاملین کو بھی یہ صفت حاصل ہے بلکہ تمام مسلمانوں   کے لیے بھی اُن کی قبروں   کے پاس سننا ثابت ہے۔خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اختیارات مصطفےٰ کے ساتھ ساتھ مُردوں   کے سماع کے بھی قائل تھے  ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مشہور کرامت ہے کہ آپ بعدِ انتقال ایک نوجوان کی قبر پر تشریف لے گئےا ور اُس سے کلام فرمایا۔([1])

فاروقِ اعظم کی بقیع الغرقد حاضری:

٭…حضرت علامہ امام اِبن عبد البر مالکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  روایت کرتے ہیں   ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ’’ بقیع الغرقد ‘‘  قبرستان تشریف لے گئے اور وہاں   قبر والوں   کو سلام کرتے ہوئے یوں   ارشاد فرمایا:   ’’ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا اَهْلَ الْقُبُوْرِ اَخْبَارٌ مَّا عِنْدَنَا اَنَّ نِسَاءَكُمْ قَدْ تَزَوَّجْنَ وَدُوَرَكُمْ قَدْ سُكِنَتْ وَاَمْوَالُكُمْ قَدْ قُسِمَتْیعنی تم پر سلامتی ہو اے قبروالو! ہمارے پاس تمہار لیے یہ خبریں   ہیں   کہ تمہاری بیویوں   نے دوسرے نکاح کرلیے ،  تمہارے گھروں   میں   دیگر لوگ رہائش پذیر ہوگئے اور تمہارے اَموال تقسیم ہوگئے۔ ‘‘   تو اُن قبر والوں   کی طرف سے ہاتف غیبی سے آواز آئی :  ’’ يَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَخْبَارٌ مَّا عِنْدَنَا اَنَّ مَا قَدِمْنَا وَجَدْنَا وَمَا اَنْفَقْنَا فَقَدْ رَبِحْنَا وَمَا خَلَفْنَا فَقَدْ خَسَرْنَاهُیعنی اے امیر المؤمنین! ہمارے پاس آپ لوگوں   کے لیے یہ خبریں   ہیں   کہ جو ہم نے آخرت کے لیے جمع کیا تھا وہ ہم نے پالیا اور جو راہِ خدا میں   خرچ کیا تھا اُس کا نفع حاصل کرلیا اور جو دنیا میں   ہی چھوڑ دیا تھا اُس کا کوئی فائدہ نہیں   ہوا۔ ‘‘  ([2])

کیا مُردے سنتے ہیں  ۔۔۔؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ برزخی (قبر وحشر) کی زندگی دنیاوی زندگی کے مقابلے میں   بہت زیادہ فرق والی ہے ،  مرنے کے بعد مُردے کی قوت سماعت وغیرہ دنیا سے بھی زیادہ تیز ہوجاتی ہے ،  مُردوں   کے سننے سے متعلق اَحادیثِ مبارکہ حدتواتر تک پہنچی ہوئی ہیں  ۔ حصولِ برکت کے لیے سماعِ موتی پر فقط تین احادیث پیش خدمت ہیں  :

(1) …حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ الْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلّٰی وَذَهَبَ اَصْحَابُهُ حَتَّى اِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ اَتَاهُ مَلَكَانِ فَاَقْعَدَاهُیعنی جب مُردے کو قبر میں   لٹادیا جاتاہے اور اُس کے ساتھی لوٹ کر واپس جاتے ہیں   تو وہ اُن کے جوتوں   کی آواز تک کو سن رہا ہوتاہے ،  پھر اُس کے پاس دو۲ فرشتے آتے ہیں    ،  اُسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں  ۔۔۔الخ۔([3])

(2) … حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  قبرستان تشریف لے گئے اور وہاں   جا کر یوں   ارشاد فرمایا:   ’’ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَاِنَّا

اِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَیعنی تم پر سلامتی ہو اے مسلمانوں   کے گھروں   والو! اوراگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو عنقریب ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

(3)… حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا مِنْ اَحَدٍ مَرَّ بِقَبْرِ اَخِيْهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا  فَسَلَّمَ عَلَيْهِ اِلَّا عَرَفَهُ وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَیعنی جب بھی کوئی شخص اپنے کسی مؤمن بھائی کی قبر کے قریب سے گزرتا ہے جسے وہ دنیا میں   جانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو وہ صاحب قبر اسے پہچان لیتاہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ ‘‘  ([5])

غیرت فاروقِ اعظم بمقابلۂ دشمنانِ محبوبِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا عُروہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ(لشکر کفار کے دو فوجیوں) صفوان بن امیہ اور عمیر بن وہب نے جنگ بدر میں   ہونے والے کفار کے نقصانات کا آپس میں   تذکرہ کیا تو عمیر کہنے لگا:   ’’ خدا کی قسم! تم نے سچ کہا۔اِن (یعنی ابوجہل وغیرہ بڑے بڑے کفار کے جنگ بدر میں   قتل ہوجانے) کے بعد دنیا میں   جینا بے کار ہے۔ اگر مجھ پر قرضہ نہ ہوتا اور بیوی بچوں   کے ضائع ہونے کا خدشہ دامن گیر نہ ہوتا تو (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)میں   خود جا کر محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو قتل (شہید)کرکے آتا۔ میرے پاس تو اُنہیں   قتل(شہید) کرنے کی ایک معقول وجہ بھی ہے وہ یہ کہ میرا بیٹا اُن کے پاس قید ہے۔ ‘‘   صفوان بن اُمیہ نے عمیربن وہب کے یہ جذبات دیکھے تو اُس نے موقعہ غنیمت جانا اور کہا:   ’’ تو اپنے قرضے اور بچوں   کی فکر مت کر  ،  تیرا قرضہ میرے ذمہ ر ہا ،  تیرے بال بچے میرے بچوں   کے ساتھ رہیں   گے ،  اُن کی ذمہ داری میں   لیتا ہوں  مجھے اُنہیں   پالنے میں   کوئی دقت نہیں  ۔ ‘‘   عمیر بن وہب نے کہا:  ’’  تو پھر اِس گفتگو کو صیغۂ راز میں   رکھنا ، ہم دونوں   کے علاوہ کسی تیسرے تک یہ بات قطعاً نہ پہنچے۔ ‘‘  صفوان بن اُمیہ نے حامی بھرلی اور عمیر بن وہب کو اپنی تلوار تیز کرنے کے ساتھ زہر آلود کرکے تھما دی اور وہ مدینہ طیبہ آگیا۔

 



[1]    تفصیلی واقعہ پڑھنے کے لیےاِسی کتاب کا باب  ’’ کرامات فاروقِ اعظم ‘‘   ص۶۲۴کا مطالعہ کیجئے۔

[2]    الاستذکار ،  کتاب الطھارۃ ،  باب جامع الوضوء ،  ج۱ ،  ص۲۲۵۔

[3]    بخاری ،  کتاب الجنائز ،  باب المیت یسمع خفق النعال ،  ج۱ ،  ص۴۵۰ ،  حدیث: ۱۳۳۸مختصرا۔

[4]    مسلم ،  کتاب الطھارۃ ،  باب استحباب اطالۃ الغرۃ۔۔۔الخ ،  ص۱۵۰ ،  حدیث: ۳۹ مختصرا۔

[5]    الاستذکار  ،  کتاب الطھارۃ ،  باب جامع الوضوء ،  ج۱ ،  ص۲۲۵۔



Total Pages: 349

Go To