Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

مقام کو فتح فرماتے تو وہاں   تین دن قیام فرماتے۔ یہاں   سے تشریف لے جاتے وقت اُس کنوئیں   پر تشریف لے گئے جس میں   کافر وں   کی لاشیں   پڑی تھیں   اور اُنہیں   اُن کے نام ،  اُن کے والد کے نام کے ساتھ آواز دے کر ارشاد فرمایا:   ’’ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ اَيَسُرُّكُمْ اَنَّكُمْ اَطَعْتُمُ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَاِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّایعنی اے فلاں   بن فلاں  ! اور اے فلاں   بن فلاں  ! کیا اب تمہیں   یہ پسند ہے کہ تم نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ بہرحال ہم نے اُس وعدے کو سچاپایا جو ہمارے رب نے ہم سے فرمایا تھا  ،  کیا تم نے بھی اُس وعدے کو سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا؟ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سن کر عرض کی :   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ اَجْسَادٍ لَااَرْوَاحَ لَهَایعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کیا اِن بے جان جسموں   سے کلام فرمارہے ہیں   ؟ ‘‘   ارشاد فرمایا:   ’’ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْهُمْیعنی اے عمر!اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! جو کچھ میں   کہہ رہاہوں   اسے تم کچھ ان سے زیادہ نہیں   سنتے ۔ ‘‘   (مگر انہیں   طاقت نہیں   کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں  ۔)  ([1])

فاروقِ اعظم اختیارات مصطفےٰ کے قائل تھے:

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مختلف سوالات کرتے رہتے تھے ،  جس سے نہ صرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رسالت سے علمی فیضان ملتا بلکہ بارگاہِ رِسالت میں   موجود دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی فیضان رسالت سے فیضیاب ہوتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کفارقریش کے مُردوں   کے بارے میں   سوال کرنا اِسی بنا پر تھا۔

٭…مذکورہ بالا روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِختیاراتِ مصطفےٰ کے قائل تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے شمار اختیارات عطا فرمائے ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُردوں   کی سماعت کا سوال اِس لیے کیا تھا تاکہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بھی معلوم ہو جائے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو بے شمار اختیار ات عطا فرمائے ہیں  ۔اس بات پر کئی قرائن موجود ہیں  ۔ مثلا:  

٭…غزوۂ بدر میں   جو مسلمان بنفس نفیس لڑے تھے اُن کی تعداد تین سو پانچ تھی۔جبکہ اُن کے مقابلے میں   کفار کی تعداد تین چار گنا زیادہ تھی  ،  مسلمانوں   کے پاس جنگی آلات نہ ہونے کے برابر تھے ،  جبکہ کفار جنگی آلات سے لیس تھے ،  مسلمانوں   کے مقابلے میں   کفار کے لشکر میں   جنگی مہارت رکھنے والے لوگ بھی بہت زیادہ تھے ،  اِن تمام باتوں   کے باوجود اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں   کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی  ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نام کا بول بالا ہوا ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک غزوۂ بدر کی یہ فتح ہی اس بات کی دلیل تھی کہ رب عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خاص مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے اور ایسے بے شمار اختیارات عطا فرمائے ہیں   جن کی بدولت قلیل مسلمان کثیر کافروں   پر غالب آگئے۔

٭…غزوۂ بدر میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں   کی مدد اپنے فرشتوں   کے ذریعے فرمائی  ،  یہ بات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم میں   تھی جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے واضح دلیل تھی کہ رب عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خصوصی مقام ومرتبہ اور عظیم الشان اختیارات عطا فرمائے ہیں  ۔

٭…خود غزوۂ بدر میں   اللہ ٭ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کئی معجزات سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم میں   آئے۔ ’’ مثلا ٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکریوں   کی ایک مٹھی لی اور تین بار فرمایا چہرے بگڑ گئے۔پھر اُسے کفار کی جانب پھینک دیا ،  اُنہی کنکریوں   کی بدولت وہ فرار ہوگئے۔٭کفار کی مدد کے لیے شیطان اپنے لشکر سمیت آیا لیکن فرشتوں   کے نزول سے ڈر کر خائب وخاسر ہوکر بھاگ گیا۔٭حضرت سیِّدُنا عُکاشہ بن محصن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تلوار ٹوٹ گئی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی جو ان کے ہاتھ میں   آتے ہی تیز تلوار بن گئی۔٭اسی طرح حضرت سیِّدُنا سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں   بھی کھجور کی شاخ تلوار بن گئی۔٭ حضرت سیِّدُنا قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھ زخمی ہوگئی ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر اپنا دست اقدس پھیرا تو فی الفور ٹھیک ہوگئی۔ ٭حضرت سیِّدُنا معوذ بن عفراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بازو کٹ گیا تو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُس پر اپنا لُعَابِ دَہن لگایا ، وہ فی الفور ٹھیک ہوگئی۔ ‘‘ 

ان تمام معجزات کا علم ہونے کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ سوال کرنا کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اِن بغیر روح کے کافروں   سے خطاب کررہے ہیں  ؟ یقیناً اس بات پر دلالت کرتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عقیدہ تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خصوصی مقام ومرتبہ اور عظیم الشان اختیارات عطا فرمائے ہیں   ،  اور اُن کے لیے اِن مردوں   سے کلام کرنا کوئی بڑی بات نہیں   ہے۔

٭…غزوۂ بدر سے قبل اِن معجزات کے علاوہ بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کئی معجزات دکھائے جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے اِس بات پر واضح دلائل تھے کہ رَبّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خصوصی مقام ومرتبہ اور عظیم الشان اختیارات عطا فرمائے ہیں  ۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ایسی قدرت کاملہ عطا فرمائی ہے کہ وہ دُور ونزدیک سے پکارنے والوں   کی آواز سن لیتے ہیں   ،  



[1]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب قتل ابی جھل ،  ج۳ ،  ص۱۱ ،  حدیث: ۳۹۷۶ مختصرا ،  ملفوظات اعلی حضرت ،  ص۲۶۹۔



Total Pages: 349

Go To