Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سبب بنے۔([1])

بدر کے قیدیوں   کے بارے میں   فاروقِ اعظم کی رائے:

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب جنگِ بدر میں   ستّر کافِر قید کرکے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   لائے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُن کے متعلق حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مشورہ طلب فرمایا۔

حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ تمام قیدی ہمارے ماموں   ،  رشتہ داروں   اور بھائیوں   کی اولاد ہیں   ،  میری رائے میں   اِنہیں   فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے کہ اس طرح مسلمانوں   کو مالی قوت حاصل ہو گی اور فدیہ لینے کی وجہ سے ہوسکتاہے کہ اِن کے دل نرم پڑجائیں   اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِنہیں   ہدایت عطا فرمائے اور یہ مسلمان ہو جائیں  ۔ ‘‘ 

جبکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری رائے تو یہ ہے کہ یہ مشرکین کے سردار  ،  اُن کے پیشوا اور سرپرست ہیں  اِن کی گردنیں   اُڑائیں   ۔حضرت علی المرتضٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عقیل پر اور حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عباس پر اور مجھے میرے رشتہ داروں   پر مقرر کیجئے کہ اُن کی گردنیں   مار دیں  ۔تاکہ واضح ہوجائے کہ ہمارے دلوں   میں   مشرکین کی محبت نہیں  ۔ ‘‘   بہرحال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کو پسند کیا اسی پر اتفاق ہوگیا ،  اور اُن قیدیوں   سے فدیہ لے لیا۔([2])

اشرف العلماء ،  شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف سیالوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  یہاں   ایک نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :   ’’ حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِس مشورے پر اِعتراض نہیں   کیا اور اس اقدام سے معذرت بھی نہیں   کی بلکہ فقط بارگاہِ رسالت سےاِشارے کے منتظر تھے حالانکہ پہلے بھی اپنے کافر رشتہ دار وں   کو قتل کرتے رہے تھے مگر حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی رائے کو ترجیح دی اور زیادہ مناسب خیال فرمایا ۔پھر اِن مختلف آراء پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بعض بندوں   کے دلوں   کو مکھن سے بھی زیادہ نرم بنادیا ہے اور بعض کے دلوں   کو پتھر سے بھی زیادہ سخت بنادیا ہے  ،  اے ابوبکر! تمہارا حال رقت قلبی اور ملائمت کے لحاظ سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح ہے جنہوں   نے کفار و مشرکین کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   عرض کیا تھا:  (فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ

عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)) (پ۱۳ ،  ابراھیم:  ۳۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘‘  اے عمر! تمہارا حال   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ورسول کے دشمنان کے حق میں   شدت وسختی کے لحاظ سے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح ہے جنہوں   نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   عرض کیا تھا:  (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا(۲۶))  (پ۲۹ ،  نوح:  ۲۶)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے میرے رب زمین پر کافروں   میں   سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ ‘‘  ([3])

لیکن بعد اَزاں   یہ آیت مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کی موافقت میں   نازل ہوگئی:  (مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِؕ-تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۷))  (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۷)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ کسی نبی کو لائق نہیں   کہ کافروں   کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں   اُن کا خون خوب نہ بہائے تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ‘‘  ([4])

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِرشاد فرمایا:  ’’ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ اِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي اُسَارَى بَدْرٍ یعنی تین باتوں   میں   رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے میری موافقت ہوئی : مقامِ اِبراہیم کو جائے نماز بنانے ،  مسلمان عورتوں   کے پردےاور بدر کے قیدیوں   کے بارے میں  ۔ ‘‘  ([5])

رسول اللہ کا بدر کے مُردہ کفار قریش سے خطاب:

حضرت سیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے غزوۂ بدرکے اِختتا م کے بعد کفار قریش کے جو لوگ قتل ہوئے تھے اُن کی لاشیں   جمع کر کے ایک کنوئیں   میں   ڈالنے کاحکم دیا ۔ رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی عادتِ کریمہ تھی جب کسی



[1]    اسد الغابۃ ،  خنیس بن حذافۃ ،  ج۲ ،  ص۱۸۱ ،  الاصابۃ ،  خنیس بن حذافۃ ،  ج۲ ،  ص۲۹۰ ،  الرقم: ۲۲۹۹۔

[2]    مسند امام احمد ،  مسند عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۷۳ ،  حدیث: ۲۰۸ مختصرا۔

[3]    سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ  ،  ص۳۴ ملخصاً۔

[4]    خزائن العرفان ،  پ۱۰ ،  الانفال: ۶۷۔

[5]    مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  من فضائل عمر ،  ص۱۳۰۶ ،  حدیث: ۲۴۔



Total Pages: 349

Go To