Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

لیے اگر کوئی ہاشمی سامنے آئے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اَبُو الْبُخْتَرِی بن ہشام کو نہ مارنا  ،  اور میرے چچا عباس کو بھی نہ مارنا کیونکہ انہیں   بھی زبردستی ہم سے لڑنے کے لیے مجبور کرکے لایا گیا ہے۔ ‘‘   یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہنے لگے:   ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمارے باپ ،  بیٹوں   ،  بھائیوں   اور رشتہ داروں   کو قتل کررہے ہیں   تو ہم آپ کے چچا عباس کو چھوڑ دیں   گے؟ خدا کی قسم ! اگر مجھے وہ مل گیا تو تلوار سے اس کا منہ زخمی کردوں   گا۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا ابوحذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی یہ بات خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ملال (دکھ) پہنچا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابو حفص ! ‘‘   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ یہ وہ موقع تھا جب پہلی بار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے میری کنیت سے پکارا تھا۔ فرمایا:   ’’ اَيُضْرَبُ عَمُّ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالسَّيْفِیعنی کیا رسولِ خدا کے چچا کا چہرہ تلوار سے مارا جائے گا؟ ‘‘   یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی جوش میں   آگئی اور عرض کیا:   ’’ دَعْنِيْ وَ لَاَضْرِبُ عُنَقَ اَبِيْ حُذَيْفَةَ بِالسَّيْفِ فَوَاللہِ لَقَدْ نَافَقَیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

وَسَلَّم! مجھے اجازت دیں   میں   تلوار سے ابوحذیفہ کا سراتار دوں   گا۔ خدا کی قسم ! یہ منافق ہو گیاہے۔ ‘‘  اُس وقت تو حضرت سیِّدُنا ابوحذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جذبات میں   آکر یہ الفاظ کہہ دیے تھے لیکن جب بعد میں   انہیں   اِحساس ہوا تو فرمایا کرتے تھے:   ’’ وَاللہِ مَا اَنَا بِآمِنٍ مِنْ تِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِيْ قُلْتُ يَوْمَئِذٍ وَلَا اَزَالُ مِنْهَا خَائِفًا اِلَّا اَنْ يَكَفِّرَهَا اللہُ عَزَّوَجَلَّ عَنِّيْ بِالشَّهَادَةِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس دن جو میں   نے یہ الفاظ کہہ دیے تھے تب سے مجھے سکون نہیں   ملااور ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہوں   ،  البتہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے کفارے میں   مجھے شہادت عطا فرمائے تو بات بن سکتی ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ دعا قبول ہوئی اورآپ خلافت صدیق اکبر میں   مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جنگ  ’’ جنگ یمامہ ‘‘   میں   شہید ہوگئے۔

علامہ ابن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی روایت میں   یہ بھی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب کو ’’ اَبُوالْبُخْتَرِیْ ‘‘  کے قتل سے اس لیے روکا تھا کہ اس نے مکہ مکرمہ میں   کفار کو جنگ بدر پر جانے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی ،  اُس نے کبھی آپ کو تکلیف نہ دی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی ناپسندیدہ بات کبھی آپ تک پہنچی ۔([1])

ایک لطیف نکتہ اور شان فاروقِ اعظم:

٭…پیچھے اس بات کو ذکر کیا گیا ہے کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب یہ خبر ملی کہ کفار مکہ جنگ کے لیے مکہ مکرمہ سے نکل چکے ہیں   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ کیا کہ جنگ کے لیے پیش قدمی کرنی چاہیے یا نہیں   ؟ تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عشق ومحبت سے بھرپور جواب دیا جسے سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا رخِ روشن جگمگا اٹھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اندر ایک ایسا ولولہ اور جذبہ پیدا ہوچکا تھا جو جنگ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اِنہی جذبات میں   تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں   حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ کے قتل سے منع فرمایا جو اُس وقت کفار کے ساتھ تھے ۔چونکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پہلے حکم کی تعمیل کے لیے بے تاب تھے اس لیے اُس دوسرے حکم کی حکمت عملی کو بعض صحابہ نہ سمجھ سکے۔

حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جواب بھی انہیں   جذبات کا پیش خیمہ تھالیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بالکل قریب رہنے والے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جیسے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُس حکمت عملی کو فوراً سمجھ گئے۔لہٰذا سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس بات کا تدارک فرمانے کے لیے بذات خود سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کچھ نہ ارشاد فرمایا بلکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اِس بات کو ارشاد فرمایا تاکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں   اور سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یہ بات واضح ہوکہ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے غیرت مندصحابی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان پر کوئی اِظہار خیال نہیں   کیا تو یقیناً اس میں   کوئی بہت بڑی حکمت پنہاں   ہے ،  لہٰذا اس سے باز رہنا چاہیے۔یہی وجہ تھی کہ جب بعد میں   سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو وہ بات سمجھ میں   آگئی تو اپنے کلام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہادت کی تمناکیا کرتے تھے۔اس واقعے میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اور حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی چند وجوہ سےشان ظاہر ہوتی ہے۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے چچا کو قتل نہ کرنے کی حمایت میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آگے پیش کیا۔

٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صرف اور صرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ملال کا لحاظ کیا اور اس کے لیے اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا ورنہ آپ ہی تھے جنہوں   نے بعد جنگ کفار قیدیوں   کو قتل کرنے کا مشورہ دیااور اس کو تائید قرآنی حاصل ہوئی۔

٭…سیِّدُنا ابو حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے جذبات کی تلافی میں   جو دعا مانگا کرتے تھے وہ رب عَزَّ وَجَلَّ نے پوری فرمائی اور آپ کو شہاد ت نصیب ہوگئی۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کروڑوں   رحمتیں   نازل ہوں  ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فاروقِ اعظم نے اپنے ماموں   کو قتل کیا:

اِسی جنگ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ماموں   عاص بن ہشام کو قتل کیا ،  اور قتل کرنے میں   ماموں   کی رشتہ داری



[1]    مستدرک حاکم ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  ذکر دعاء ابی حذیفۃ لشھادتہ ،  ج۴ ،  ص۲۳۹ ،  حدیث: ۵۰۴۲۔



Total Pages: 349

Go To